ذکر معاویہ بن ابو سفیان
سید مسعود الرحمٰن بخاری
مَا يُرْوَى فِي مُعَاوِيَةَ مِنَ الْفَضَائِلِ فَإِنَّهُ لَمْ يَصِحَّ مِنْهُ شَيْءٌ
(فضائلِ معاویہ میں جو کچھ روایت کیاگیاہے اُس میں سےکچھ بھی صحیح نہیں) محدثین
وَذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي تَذْكِرَةِ الْحُفَّاظِ فِي تَرْجَمَةِ النَّسَائِيِّ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ دِمَشْقَ وَالْمُنْحَرِفُ عَنْ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ بِهَا كَثِيْرٌ، فَصَنَّفْتُ كِتَابَ الْخَصَائِصِ رَجَوْتُ أَنْ يَّهْدِيَهُمُ اللهُ، ثُمَّ إِنَّهُ صَنَّفَ بَعْدَ ذَلِكَ ‹‹فَضَائِلَ الصَّحَابَةِ›› فَقِيْلَ لَهُ: أَلَّا تُخَرِّجَ فَضَائِلَ مُعَاوِيَةَ؟ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءِ أُخَرِّجُ، حَدِيْثَ: «اللَّهُمَّ لَا تُشْبِعْ بَطْنَهُ»؟ فَسَكَتَ السَّائِلُ. وَأَمَّا اتِّهَامُهُمْ لَهُ بِالتَّشَيُّعِ فَلَيْسَ صَحِيْحًا، إِذْ إِنَّهُمُ اتَّهَمُوْهُ بِذَلِكَ لِقَوْلِهِ: لَمْ يَصِحَّ فِي فَضَائِلَ مُعَاوِيَةَ إِلَّا: «لَا أَشْبَعَ اللهُ بَطْنَهُ»، وَلِأَنَّهُ أَلَّفَ فِي فَضْلِ عَلِيٍّ وَلَمْ يُصَنِّفْ فِي مَنَاقِبِ غَيْرِهِ بِالتَّخْصِيْصِ.
امام ذہبی ’’تذکرة الحفاظ‘‘ میں امام نسائی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا: میں دمشق میں داخل ہوا تو وہاں کے لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ منحرف تھے، جس پر میں نے اس امیدسے ’’کتاب الخصائص‘‘ تصنیف کی کہ اللہ تعالیٰ اُس کے ذریعے اُنہیں ہدایت عطا فرمائے۔ پھر اُنہوں نے ’’فضائل الصحابة‘‘ کتاب لکھی۔ اُن سے پوچھا گیا کہ کیا آپ فضائل معاویہ میں کچھ روایت نہیں کریں گے؟ فرمایا: میں کیا چیز روایت کروں ؟ کیا یہ حدیث: ’’اے اللہ! اس کے پیٹ کو نہ بھرنا؟ ‘‘ اس پر سائل خاموش ہو گیا۔ رہ گیا اُن پر شیعیت کا الزام تو وہ درست نہیں ہے، یہ تہمت لوگوں نے اُن پر اس لیے لگائی تھی کہ اُنہوں نے فرمایا تھا:معاویہ کے فضائل میں ’’لا أشبع اﷲ بطنه‘‘ کے سوا کوئی حدیث نہیں ہے، اور اس لیے کہ اُنہوں نے فضائل علی رضی اللہ عنہ میں کتاب تصنیف فرمائی تھی اور اُن کے علاوہ کسی اور کی شان میں کوئی مخصوص کتاب نہیں لکھی تھی۔
ذكره الذهبي في تذكرة الحفاظ، 2/699، والمزي في تهذيب الكمال، 1/38
قَالَ الذَّهَبِيُّ فِي ‹‹سِيَرِ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ›› مَا نَصُّهُ: ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنِ الْوَلِيْدِ بْنِ دَاوُدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيْدِ، قَالَ: كَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رضی اللہ عنہ مَعَ مُعَاوِيَةَ ، فَأَذَّنَ يَوْمًا فَقَامَ خَطِيْبٌ يَمْدَحُ مُعَاوِيَةَ رضی اللہ عنہ وَيُثْنِي عَلَيْهِ، فَقَامَ عُبَادَةُ رضی اللہ عنہ بِتُرَابٍ فِي يَدِهِ، فَحَثَاهُ فِي فَمِ الْخَطِيْبِ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ رضی اللہ عنہ : إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا حِيْنَ بَايَعْنَا رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالْعَقَبَةِ، عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا ومَكْرَهِنَا ومَكْسَلِنَا، وأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَلَّا نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُوْمَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. وَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: «إذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ، فَاحْثُوْا فِي أَفْوَاهِهِمُ التُّرَابَ».
امام ذہبی ’’سیر أَعلام النبلاء‘‘ میں لکھتے ہیں: ابن ابی اویس اپنے والدسے، انہوں نے ولید بن داود بن محمد بن عبادہ بن صامت سے، اُنہوں نے اپنے چچا زاد عبادہ بن ولید سے روایت کیاہے کہ اُنہوں نے فرمایا: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ معاویہ کے ساتھ تھے، ایک دن اُنہوں نے اذان کہی تو ایک خطیب کھڑے ہو کرمعاویہ کی شان میں تعریف کرنے لگا۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اُٹھے اور خاک کی ایک مٹھی بھر کر خطیب کے منہ میں ٹھونس دی۔ اس پر معاویہ غضبناک ہوئے، جس پر سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: تم (یعنی معاویہ) اس وقت نہیں تھے جب ہم نے عقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی کہ ہم اپنی پسند اور نا پسند، سستی اور کاہلی (ہر حالت) میں بھی سمع و اطاعت بجا لانے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اقدس کو ہر امر پر ترجیح دیں گے، اہل امر کے ساتھ ناحق تنازعہ نہیں کریں گے، ہرحال میں حق کی خاطر کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب تم خوشامد کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ میں مٹی بھر دینا۔
ذكره الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2/7
نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے اصحاب ہر حال میں احکامات الٰہی اور اطاعت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے خواہاں تھے انہیں کسی صورت بھی کسی ایسی خواہش یا ضرورت کی طلب نہیں ہوتی تھی جس سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے بیزاری کا اظہار کیا ہو۔ اب دیکھیے خلفائے راشدین کے بعد اطیع اللّٰہ و اطیع الرسول کی کس طرح دھجیاں بکھیری گئی تھیں۔ اس حدیث مبارکہ میں تین کام ایسے بیان ہوئے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہیں ہوئے تھے۔
وَعَنْ بُحَيْرٍ، عَنْ خَالِدٍ قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِيْكَرَبَ وَعَمْرُو بْنُ الأَسْوَدِ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِيْنَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہما تُوَفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيْبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيْبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ؟ فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللهُ u، قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا، فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغِيْظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذِبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ.
قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَنْهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَهَى عَنْ جُلُوْدِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوْبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ.
قَالَ: فَوَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ، يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ، وَفَرَضَ ِلابْنِهِ فِي الْمِئَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ عَلَى أَصْحَابِهِ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيْمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ.
رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ فِي السُّنَنِ وَهَذا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
حضرت بُحیر حضرت خالد سے روایت کرتے ہیں، اُنہوں نے فرمایا: حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ، عمرو بن اسود اور اہل قنسرین سے بنو اسد کا ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان کے پاس آئے۔ معاویہ نے حضرت مقدام رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ وفات پاگئے؟ اس پر حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے ’’إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ‘‘ کہا، اس پر اس نے اُنہیں کہا: کیا تم اس کو مصیبت سمجھتے ہو؟ اُنہوں نے اُس کو فرمایا: میں اس بات کو کیوں نہ مصیبت سمجھوں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اپنی گود میں بٹھا کر فرمایا تھا: ’’یہ مجھ سے ہے اور حسین، علی سے ہے‘‘۔ اس پر اسَدی نے کہا: وہ ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا۔ خالد کہتے ہیں: اس پر حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے معاویہ سے کہا: آج میں تم کو اُس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تمہیں غصہ نہ دلاؤں اور وہ کچھ نہ سناؤں جو تمہیں ناگوار ہو۔ پھر فرمایا: اے معاویہ! میں بات شروع کرتا ہوں، اگر میں سچ کہوں تومیری تصدیق کرنا اور اگر میں جھوٹ بولوں تو میری تردید کر دینا۔ معاویہ نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا۔
حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوناپہننے کی ممانعت سنی تھی؟اُنہوں نے کہا: ہاں۔
حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم جانتے ہوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا تھا؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔
حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کی کھال کا لباس پہننے اور ا ُس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔
اس پر حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خداکی قسم! اے معاویہ! میں یہ سب کچھ تمہارے گھر میں دیکھتا ہوں۔ اس پرمعاویہ نے کہا: اے مقدام! مجھے معلوم ہے، آج میں تم سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ خالد کہتے ہیں: اس کے بعد معاویہ نے حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے لیے اتنے مال و دولت کا حکم دیاکہ اتنا اُن کے دوسرے دو ساتھیوں کے لیے نہ دیا تھا، اور اُن کے بیٹے کا وظیفہ دو سو دینار کر دیا۔ حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے (خود قبول کرنے کے بجائے) وہ سب کچھ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ خالد کہتے ہیں: اسدی کو جو ملا تھا وہ اس نے کسی کو نہ دیا۔ یہ خبرمعاویہ کو پہنچی تواُنہوں نے کہا: مقدام ایک سخی شخص ہیں، اُنہوں نے اپنے ہاتھ کھول دیے۔ رہا اسَدی تو وہ اپنی چیز کو اچھے طریقے سے سنبھالنے والا ہے۔
اسے امام ابو داود نے ’السنن‘ میں روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔
أخرجه أبو داود في السنن، كتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع، 4/68، الرقم/4131
قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ بَعْدَ هَذَا الْكَلَامِ: فَأَشَارَ بِهَذَا إِلَى مَا اخْتَلَقُوْهُ لِمُعَاوِيَةَ مِنَ الْفَضَائِلِ مِمَّا لَا أَصْلَ لَهُ. وَقَدْ وَرَدَ فِي فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ أَحَادِيْثُ كَثِيْرَةٌ لَكِنْ لَيْسَ فِيْهَا مَا يَصِحُّ مِنْ طَرِيْقِ الإْسْنَادِ، وَبِذَلِكَ جَزَمَ إِسْحَقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا.
حافظ ابن حجرعسقلانی اس کلام کونقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں: اس سے اُنہوں نے اُن بے اصل روایات کی طرف اشارہ کیاہے جو لوگوں نے معاویہ بن سفیان کے فضائل میں گھڑی تھیں۔ فضائلِ معاویہ میں بکثرت روایات وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت ایسی نہیں ہے جس کی سند صحیح ہو، یہی امام اسحاق بن راھویہ، امام نسائی اور دوسرے علماءِ حدیث کا قطعی قول ہے۔
ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 7/104.
وَقَالَ الْعَلَّامَةُ بَدْرُ الدِّيْنِ الْعَيْنِيُّ الْحَنَفِيُّ: فَإِنْ قُلْتَ: قَدْ وَرَدَ فِي فَضِيْلَتِهِ أَحَادِيْثُ كَثِيْرَةٌ. قُلْتُ: نَعَمْ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِيْهَا حَدِيْثٌ يَصِحُّ مِنْ طَرِيْقِ الإِسْنَادِ، نَصَّ عَلَيْهِ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْه وَالنَّسَائيُّ وَغَيْرُهُمَا، فَلِذَلِكَ قَالَ: بَابُ ذِكْرِ مُعَاوِيَةَ، وَلَمْ يَقُلْ فَضِيْلَةً وَلَا مَنْقَبَةً.
علامہ بدر الدین عینی حنفی فرماتے ہیں: اگر تم نے یہ کہو کہ معاویہ کی شان میں تو بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، تو میں جواب میں یہ کہوں گا: جی ہاں، لیکن اُن احادیث میں سند کے اعتبار سے کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ہے، اسی موقف کو امام اسحاق بن راہویہ، امام نسائی اور دیگر محدثین نے بیان کیا ہے۔ اسی لیے امام بخاری نے ذکر معاویہ کا باب، کہا ہے، فضیلت اور منقبت معاویہ کا باب نہیں کہا۔
العيني في عمدة القاري، 16/343
وَقَالَ الْعَلَّامَةُ ابْنُ تَيْمِيَّةَ: وَمُعَاوِيَةُ لَيْسَتْ لَهُ بِخَصُوْصِهِ فَضِيْلَةٌ فِي الصَّحِيْحِ.
علامہ ابن تیمیہ بیان کرتے ہیں کہ خصوصاً معاویہ کی کوئی فضیلت کسی صحیح حدیث میں بیان نہیں ہوئی۔
ابن تيمية في منهاج السنة النبوية، 7/40
وَقَالَ أَيْضًا: وَطَائِفَةٌ وَضَعُوْا لِمُعَاوِيَةَ فَضَائِلَ وَرَوَوْا أَحَادِيْثَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِيْ ذَلِكَ كُلُّهَا كَذِبٌ.
علامہ ابن تیمیہ ہی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ایک گروہ نے معاویہ کے لیے فضائل گھڑے ہیں اور اُنہوں نے اس سلسلے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں جو سب کی سب من گھڑت اور جھوٹی ہیں۔
ابن تيمية في منهاج السنة النبوية، 4/400
وَقَالَ الْإِمَامُ السُّيُوْطِيُّ: بَابُ ذِكْرِ مُعَاوِيَةَ: لَمْ يَقُلْ وَلَا مَنْقَبَةٌ، لِأَنَّهُ لَمْ يَصِحَّ فِيْ فَضَائِلِهِ شَيْءٌ، كَمَا قَالَهُ ابْنُ رَاهَوَيْهِ.
امام سیوطی فرماتے ہیں: امام بخاری نے ذکرِ معاویہ کا باب قائم کیاہے منقبت (فضیلتِ معاویہ) کا باب قائم نہیں کیا،کیونکہ معاویہ کے فضائل میں کوئی چیز صحیح نہیں ہے، امام اسحاق بن راہویہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔
السيوطي في التوشيح شرح الجامع الصحيح، 6/2379
وَقَالَ الشَّيْخُ عَبْدُ الْحَقِّ الدِّهْلَوِيُّ الْحَنَفِيُّ: وَاعْلَمْ أَنَّ الْمُحَدِّثِيْنَ قَالُوْا: لَمْ يَصِحَّ فِيْ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ حَدِيْثٌ، وَكَذَا قَالَ السُّيُوْطِيُّ.
شیخ عبد الحق محدث دہلوی بیان کرتے ہیں: جان لیجئے! محدثین کرام نے فرمایاہے: فضائل معاویہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے، اور ایسا ہی امام سیوطی نے کہا ہے۔
الشيخ عبد الحق في لمعات التنقيح شرح مشكاة المصابيح، 9/775
معاویہ بن سفیان کے حوالے سے ایک ہی حدیث جو صحیح الاسناد اور معیار حدیث پر پوری اترتی ہے وہ یہ ہے:
صحیح مسلم، کتاب : نیکی ،سلوک اور ادب کے مسائل
ابن عباس سے روایت ہے کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اتنے میں رسول (ص) تشریف لائے۔ میں ایک دروازہ کے پیچھے چھپ گیا۔ آپ نے ہاتھ سے مجھے تھپکایا اور فرمایا: جا معاویہ کو بلا لا۔ میں گیا پھر لوٹ کر آیا اور میں نے کہا وہ کھانا کھاتے ہیں۔ آپ نے پھر فرمایا جا اور معاویہ کو بلا لا۔ میں پھر لوٹ کر آیا اور کہا وہ کھانا کھاتے ہیں۔ آپ (ص) نے فرمایا خدا اسکا پیٹ کبھی نہ بھرے۔ ابن المثنی کہتے ہیں کہ انہوں نے ام امیہ سے پوچھا کہ اسکا کیا مطلب ہے، تو جواب میں انہوں نے فقط میرا شانہ تھپتھپا دیا
دلائل النبوۃ للبیہقی ۲۴۳/۲ و سندہ حسن
(اس کو امام احمد بن حنبل اور امام حاکم نے بھی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے)
معاویہ ابن سفیان کو اس بد دعا کو دعا کے طور پر استعمال کرنے والوں کا واحد عذر یہ ہے کہ رسول اللہ (ص) نے اللہ سے دعا فرمائی ہے کہ: “یا اللہ اگر میں کسی کے لیے بددعا کروں، اور وہ اسکا مستحق نہیں، تو اس بددعا کو رحمت میں تبدیل کر دے”۔ اس لیے امام مسلم نے یہی عنوان دے کر اسکے نیچے اس روایت کو نقل کیا ہے۔
لیکن اس حدیث میں واضح یہ الفاظ وارد ہوتے ہیں کہ اگر وہ میری بددعا کا مستحق نہیں تو اس بد دعا کو رحمت میں تبدیل کر دے۔ یہاں دو اشکال ہیں۔ پہلی یہ کہ نبی علیہ السّلام پہلے تو کسی کو بددعا نہیں دیتے جیسے یثرب والے واقعہ میں جبریل علیہ السلام نے بددعا کے لیے کہا یا پھر حکم کے لیے کہ وہ بستی کو الٹا دیں لیکن آپ علیہ السلام نے منع فرما دیا (اللھم صل علیٰ محمد وآل محمد) اور اگر آپ علیہ السلام کسی کو بددعا کر دیں تو آپ علیہ السلام کی کوئی بھی دعا یا بد دعا رد نہیں ہوسکتی بلکہ وہ جیسا چاہیں ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ آپ علیہ السلام کی قنوت نازلہ پڑھ کر ایک ماہ تک کفار پر بددعا کرنے کی مثال موجود ہے۔
دوسری شکل یہ ہے کہ اگر کوئی مستحق نہ ہو تو بددعا رحمت میں بدل جائے گی لیکن اگر مستحق ہو تو رد ہونے کا دعویٰ غلط ہے اور پھر اس بددعا کے قبول ہونے کی روایات بھی ہمیں ملتی ہیں۔
سب سے پہلے ہم قرآن کی آیہ کریمہ سے دیکھتے ہیں کہ معاویہ بن ابو سفیان اس بد دعا کا کس طرح حقدار ہوتا ہے۔
جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم بلا رہے تھے تو معاویہ بن سفیان کو چاہیے تھا کہ وہ کھانا چھوڑ کر فوراً حاضر ہوتا کیونکہ قرآن میں صاف موجود ہے ۔
یا ایها الذین آمنوا استجیبوا لله و للرسول اذا دعاکم لما یحییکم (سورۃ انفال،آیت 24)
ترجمہ: اے ايمان والو اللہ و رسول كى آواز پر ليك كہو جب وہ تمھيں اس امر كى طرف دعوت ديں جس ميں تمھارى زندگى ہے۔
اس آیہ کریمہ کے مطابق معاویہ بن ابو سفیان نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے بلانے پر حاضر نہ ہو کر خود پر بہت بڑا ظلم کیا ہے اس لیے وہ اس بد دعا کا صحیح حق دار ٹھہرا۔
اب ہم اس بددعا کے اثرات پر نظر ڈالیں گے جس سے اندازہ ہوگا کہ واقعی وہ اس بددعا کا حقدار تھا اور پھر یہ بددعا واقعتاً کی گئی تھی اور یہ بددعا قبول بھی ہوئی۔
معاویہ بن سفیان کا بیان ہے کہ اسکے بعد اسکا پیٹ کبھی نہیں بھرا۔ اور معاویہ نے اپنی دنیا اور آخرت میں اس دعا سے فائدہ اٹھایا ہے، دنیا میں اس طرح کہ جب وہ شام کا امیر ہو گیا تو وہ دن میں سات بار کھانا کھاتا تھا، جسے ایک پیالے میں لایا جاتا تھا، جس میں بہت سا گوشت اور پیاز ہوتا تھا اورمعاویہ اس میں سے کھاتا تھا، اور وہ دن میں "سات" بار گوشت کے ساتھ کھانا کھاتا تھا اور حلوہ اور بہت سے پھل اسکے علاوہ تھے اور کہتا تھا خدا کی قسم میں سیر نہیں ہوا البتہ تھک گیا ہوں ۔ (ابن کثیر کہتے ہیں) یہ کھانا پینا ایک نعمت ہے جس میں سب بادشاہ رغبت رکھتے ہیں ۔ جبکہ آخرت میں اسطرح فائدہ اٹھایا کہ امام مسلم نے اس حدیث کا ایک اور روایت سے پیچھا کیا ہے جسے بخاری وغیرہ نے کئی طریق سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ اے اللہ، میں ایک بشر ہوں، پس جس بندے کو میں نے برا بھلا کہا ہے یا اسے کوڑے مارے ہیں یا اس پر بددعا کی ہے، اور وہ اسکا مستحق نہ تھا تو تو اسے کفارہ اور قربت بنا دے ۔
حوالہ: البدایہ و النہایہ، جلد 8، صفحہ 158، اردو ایڈیشن، نفیس اکیڈمی
اس روایت میں ایک بار پھر امام مسلم نے معاویہ بن ابو سفیان کو اس بددعا کا حقدار ہونے کے ساتھ ساتھ بچانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ روایت ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ معاویہ بن ابو سفیان اس بددعا کا حقدار تھا اور یہ بددعا قبول بھی ہوئی ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ سات بار کھانے والے کون لوگ ہیں اور حدیث ان کے بارے میں مزید کیا حکم دیتی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان رجلا كان ياكل اكلا كثيرا، فاسلم فكان ياكل اكلا قليلا، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" إن المؤمن ياكل في معى واحد والكافر ياكل في سبعة امعاء".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب بہت زیادہ کھانا کھایا کرتے تھے، پھر وہ اسلام لائے تو کم کھانے لگے۔ اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔ صحيح البخاري5393
اسی حدیث کو باقی کتب میں اسی طرح کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔
● صحيح البخاري 5394 ● صحيح مسلم5374 ● صحيح مسلم5372 ● جامع الترمذي 1818 ● سنن ابن ماجه3257 ● مسندالحميدي 685
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ و مسلم كلّها صحيحة»
حكم: أحاديث صحيح البخاريّ و مسلم كلّها صحيحة
یہ تمام احادیث صحیح اور معیار حدیث کے مطابق ہیں۔
معاویہ بن سفیان کا ذیادہ کھانا کھانے کی وجہ سے وزن اور پیٹ بڑھ گیا تھا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نبی علیہ الصلواۃ والسلام کی بددعا سے معاویہ ذیادہ کھانا کھاتا تھا جس کی وجہ سے اس کا یہ حال ہوا۔ یہ روایت بہت سی کتب حدیث اور تواریخ میں ملتی ہے۔
مغیرہ نے بحوالہ شعبی بیان کیا ہے کہ معاویہ پہلا شخص تھا جس نے بیٹھ کر خطبہ دیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب اُس کی چربی زیادہ ہو گئی اور پیٹ بڑھ گیا اور اسی طرح مغیرہ سے بحوالہ ابراہیم روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ جمعہ کے روز بیٹھ کر خطبہ دینے والا سب سے پہلا شخص معاویہ تھا ۔ اور ابو ملیح نے بحوالہ میمون بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے منبر پر بیٹھنے والا شخص معاویہ تھا اور لوگوں سے بیٹھنے کے لیے اُس نے اجازت طلب کی تھی ۔ امام ابن ابی شیبہ نے بھی اپنی کتاب المصنف میں یہ روایت نقل کی ہے۔ یہ روایت "مصنف ابن ابی شیبہ" کے الجزء الثامن، کتاب الأوائل، رقم 5088 میں موجود ہے۔
اس کے علاوہ، امام سیوطی نے بھی اپنی کتاب "تاریخ الخلفاء" کے صفحہ 77 پر اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔
حاصل بحث یہ ہے کہ معاویہ بن ابو سفیان کی شخصیت پر محدثین نے کسی بھی صحیح حدیث کو ضعیف اور غیر سند یافتہ قرار دیا ہے اور جو ایک حدیث صحیح السند ہے اس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی بددعا کے علاوہ کوئی بھی بات ایسی نہیں جو کسی محدث کے لیے "فضائل معاویہ بن ابو سفیان" کے عنوان کا باعث بنتی اس لیے امام بخاری نے بھی فضائل معاویہ کی بجائے ذکر معاویہ کا باب لکھا ہے۔
تاریخ اسلام اور کتب احادیث معاویہ بن سفیان کی مولا علی علیہ السّلام سے دشمنی اور اسلام مخالف پالیسیوں کو چینخ چینخ کر بیان کر رہی ہیں لیکن امت مسلمہ میں کچھ بد عقیدہ اور بے عقل لوگ معاویہ بن سفیان کی تعریفوں کے پل باندھنے میں لگے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ ان کا یہ کردار او عمل سراسر بغض علی و اہل بیت ہے یا کم علمی لیکن محبان اہلِ بیت کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور ناقابلِ برداشت ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ اسلام کی سربلندی یا تبلیغ دین کی خاطر ہی معاویہ بن ابو سفیان کے کردار کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی یہ کسی طرح بھی دین کی خدمت کا کام تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی کو تاریخ اور حدیث پر بات کرنے کا اتنا ہی شوق و ذوق تھا تو حق بات بیان کر دینا کافی تھا جس میں نہ تو کسی کہ تعریف کی جاتی اور نہ ہی تذلیل کا ہی پہلو سامنے آتا۔ لیکن کچھ جھوٹی روایات اور احادیث کا سہارا لے کر نہ جانے یہ لوگ کون سا ثواب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے اس بات سے منسوب کرتے ہیں کہ صحابہ کی توہین نہ ہوجائے تو ایسے لوگ جن کے دل اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور اہل بیت علیہم السّلام کی محبت سے خالی ہوں انہیں صحابی کہنا بھی اصحابِ رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین ہے۔ اس لیے کہ صحابی صرف کردار و گفتار سے بنتا ہے نہ کہ صرف دیدارِ مصطفٰے سے کیونکہ اگر دیدارِ مصطفٰے ہی صحابیت کے لیے کافی ہوتا تو اصحابِ رسول میں بارہ منافقین نہ ہوتے اور نہ ہی ابو بکر رضی اللہ کو فتنہ ارتداد سے نمٹنے کی ضرورت پیش آتی، نہ ہی عمر رضی اللہ اور عثمان رضی اللہ کو قتل کیا جاتا، نہ ہی جنگ جمل، جنگ صفین و نہروان ہوتیں اور نہ ہی حسن و مولا علی علیہم السّلام کو شہید کیا جاتا اور کسی صورت بھی مکمن نہیں تھا کہ اتنے صحابہ یزید بن معاویہ ملعون و مردود کے ہاتھ پر بیت کرتے اور امام حسین علیہ السّلام کی صورت میں اسلام و دین کا نہر فرات کے کنارے بہیمانہ اور ظالمانہ قتل کرتے۔ اس سارے دورانیہ میں اصحابِ رسول کی ہزاروں کی تعداد موجود تھی تو کیا وہ سب عزت و احترام کے حامل ہیں؟ علمی اعتبار سے ہم کسی صورت یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ کوئی شخص سر عام دین اسلام کی دھجیاں اڑائے اور عزت و احترام کا حقدار بھی ہو۔ دین اسلام نے منافقین کی جو نشانیاں بیان فرمائی ہیں ان کے مطابق بھی بنو امیہ کا کردار سب کے سامنے ہے پھر امت مسلمہ کی اصلاح چاہنے والے کیوں اپنی آنکھیں بند کر کے جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔ قرآن مجید فرقان حمید میں منافقین کی چار بڑی نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔
حصہ دوم 👇