Thursday, October 24, 2024

اُمّی کے معنی عربی اور اسلامی تناظر میں

اُمّی کے معنی عربی اور اسلامی تناظر میں

"امّی" کی اصطلاح اور اس کے لغوی اور سیاق و سباق کے معنی:

تحقیق و تصنیف: سید مسعود الرحمٰن بخاری

Read in English

عربی زبان میں امی کا لفظی معنی دیکھیں تو امی لفظ ام سے مشتق ہے جس کے ایک معنی ماں، دادی، اصل،  اور اس کے علاوہ ام کو کسی جگہ، چیز، یا نام کے ساتھ اس کی بڑائی بیان کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے قرآن کریم میں مکہ کی بستی والوں کے لیے ام القرای کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب سب بستیوں کی ماں، اصل، بنیادی، پہلی یا مرکزی لیا جاتا ہے۔  قرآن کریم چونکہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے تو امی یا ام کو ہم فارسی، عبرانی یا کسی اور زبان میں ترجمہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ کتاب اللہ کی توہین اور اس کے معنوں میں تبدیلی و تحریف ہو گی جو ہلاکت اور اللہ کی لعنت کا باعث ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الۡہُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾ۙ

بیشک جو لوگ ہماری نازل کردہ کھلی نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں اس کے بعد کہ ہم نے ایسے لوگوں کے لئے کتاب میں واضح کردیا ہے تو انہی لوگوں پر اللہ لعنت بھیجتا ہے اور لعنت بھیجنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں ( سورہ بقرہ 159)

اللہ ربّ العزّت نے قرآن پاک کی سورہ بقرہ کی آیہ نمبر 159 میں کھلی نشانیوں اور ہدایت کو چھپانے کا جو ذکر ارشاد فرمایا ہے اس سے مراد کتاب اللہ کو کہیں چھپا دینا نہیں بلکہ یقیناً اس کے معنوں میں تبدیلی کر کے اپنے حساب کے معنی کرنا مراد ہے۔ جیسے اگر اقیموا الصلوہ کے معنی نماز قائم کرو سے کوئی نماز قائم ہوئی کر کے بتائے تو پورا مفہوم ہی بدل جائے گا جو کہ لعنت اللہ کا باعث ہے۔

اسی آیہ کریمہ کی روشنی میں ہمارا خیال ہے کہ قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر کرنے والوں پر سخت ترین پابندی عائد ہے کہ وہ کسی بھی قرآنی آیت کو عربی زبان کے مطابق ہی ترجمہ و تفسیر کریں۔

تاریخ اسلام میں لفظ امی کا معنی "ان پڑھ" کیسے اور کیوں پڑا اس کا ہمیں علم نہیں ہو سکا لیکن یہ اتنی بڑی غلطی ہے جسے سدھارنے اور تصحیح کے لیے آج تک علماء و مشائخ نے اپنی سی کوششیں کر لیں لیکن عوام الناس کو اس لفظ کے اصل معنی سمجھنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ ابتدائی غلطیوں یا کوتاہیوں کے سوا کچھ نہیں۔

مختلف تحاریر اور بیانات سے امی لفظ کے کچھ مفہوم سامنے آتے ہیں۔ جو کافی حد تک قابل قبول ہیں لیکن ان میں لفظ امی کے معنوں میں تبدیلی کی کوشش ناکام ہو رہی ہے۔ جو کہ ایک اچنبھے والی بات ہے کہ ایک لفظ جو زد عام میں غلط معنوں میں ڈھل گیا ہے کیونکر اپنے اصل کی طرف نہیں جا پا رہا۔

سب سے پہلے ہم لفظ "امی" کو قرآن حکیم سے پرکھنے کی کوشش کریں گے جو حکمت کی کتاب ہے اور جس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور اس کا ہر لفظ سچا ہے اور یہی وہ واحد کتاب ہے جس میں کسی صورت تبدیلی ممکن نہیں کیونکہ اس کی حفاظت خود ربِ ذوالجلال نے اپنے زمے لے رکھی ہے۔

قرآن مجید فرقان حمید میں "امی" امیون" امیین" "ام القرای"جیسے الفاظ وارد ہوئے ہیں جو معنوں کے اعتبار سے لفظ "امی" سے ماخذ ہیں یا مطابقت رکھنے والے ہیں۔

ان تینوں الفاظ کو سمجھنے کے لیے مختلف مواقع پر ان کا استعمال دیکھ لینا قاری کو سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہوگا۔

لیکن یہاں ایک بات واضح کرنا انتہائی ضروری ہے اور یقیناً ہم اس پر سیر حاصل بحث کریں گے کہ امی نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ذاتی وصف کسی صورت نہیں ہے بلکہ یہ امیین، امیون یا ام القرای کا نبی ہونے کی وجہ سے آپ کو کہا گیا ہے۔

  1. اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ ۫ یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ  وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ  وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ  ہُمُ  الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾ ۔ ( یہ وہ لوگ ہیں ) جو اس رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی پیروی کرتے ہیں جو اُمّی ( لقب ) نبی ہیں ( یعنی  دنیا  میں کسی شخص سے پڑھے بغیر مِن جانبِ اللہ لوگوں کو اخبارِ غیب اورمعاش و معاد کے علوم و معارف بتاتے ہیں )  جن  ( کے اوصاف و کمالات ) کو وہ لوگ اپنے  پاس  تورات اور انجیل میں لکھا  ہوا  پاتے ہیں ، جو انہیں اچھی باتوں کا  حکم  دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع فرماتے ہیں اور ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ان پر پلید چیزوں کو  حرام  کرتے ہیں اور ان سے ان کے بارِگراں اور طوقِ ( قیود ) جو ان پر ( نافرمانیوں کے باعث مسلّط ) تھے ، ساقط فرماتے ( اور انہیں نعمتِ آزادی سے بہرہ یاب کرتے ) ہیں ۔ پس جو لوگ اس ( برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی  تعظیم  و توقیر کریں گے اور ان ( کے  دین  ) کی  مدد  و نصرت کریں گے اور اس نورِ (  قرآن  ) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے ، وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں ۔


اس آیہ کریمہ میں النبی امی کا استعمال ہوا ہے جسے غلط العام میں نعوذ بااللہ من ذالک (ان پڑھ) نبی کے معنوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

حالانکہ اگر یہاں ایسا مطلب ہوتا تو فقط امی کہنا کافی تھا جبکہ اللہ ربّ العالمین نے النبی امی کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس سے مراد نعوذباللہ (ان پڑھ) نبی کسی صورت ممکن نہیں ہے کیونکہ جب (ان پڑھ) کہنا مقصود ہوتا تو النبی امی کہنا ضروری نہیں تھا فقط امی کہ دینا بھی قرآن کے لیے کافی تھا جس کے بہت سے معنی دیے جا سکتے تھے لیکن النبی امی کہنے سے یہاں مراد کسی امت کے نبی ہیں جو امی کہلاتی ہے جس کی تفصیل آگے چل کر ہم قرآن کی مختلف آیات کے سیاق و سباق سے سمجھ پائیں گے۔


موجودہ آیہ کریمہ میں النبی امی کو اگر ام کے ماخذ سے جوڑا جائے تو پہلا مطلب النبی امی کا ان معنوں میں نکلتا ہے (وہ نبی جو اپنی ماں کے رحم سے یا پیدائش سے عالم ہیں جنہیں کسی سے علم سیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ رب العالمین اپنے انبیاء کو خود علم سے بہرہ ور کرتا ہے اور کوئی نبی پیدائشی نبی ہی ہوتا ہے اور اس کی زندگی اللہ ربّ العزّت کی نگرانی میں پروان چڑھتی ہے جیسا کہ ایک حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا میں تب بھی نبی تھا جب ابھی آدم کی تخلیق بھی نہیں ہوئی تھی۔ (سنن ترمذی حدیث 3609)

اور پھر سورہ علق میں الذی علم بالقلم میں بھی واضع ہے کہ اللہ ربّ العزّت قلم کے ذریعے سے علم سکھا رہا ہے۔ اور یہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو بتایا گیا ہے کہ ہم یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو کس ذریعے سے تعلیم فرماتے ہیں۔

اگر یہاں امی مراد پیدائشی تعلیم شدہ لی جائے تو بھی لفظ امی قابل قبول ہے لیکن چونکہ آگے کی آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امی کسی صورت بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ذاتی وصف نہیں ہے اس لیے ہم اس معنی کو بھی اپنانے سے گریز کریں گے۔


دوسرے معنوں میں امی کے ماخذ ام سے مراد ایسا نبی جو رحم مادر سے معصوم ، پاکباز، راست باز اور ہدایت شدہ بھی زیادہ قابل قبول ہے۔ یعنی ایسے نبی جنہوں نے دنیا میں کسی استاد سے دوزانوں بیٹھ کر تعلیم نہ لی ہو بلکہ وہ خود ایک معلم کی حیثیت سے دنیا میں تشریف لائے ہوں اور جن کی زندگی کے چالیس سال زمانے کے تغیر و تبدل سے نہ تو متاثر ہوئی ہو اور نہ ہی کسی بری عادت پر مائل ہوئی ہو۔ لیکن چونکہ امی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ذاتی وصف نہیں ہے اس لیے یہ معنی بھی قابل قبول ہونے کے ہم مراد نہیں لے سکتے۔

تیسرے معنوں میں النبی امی کا مطلب دنیا کے مرکزمکہ کی قوم یعنی ام القرای میں مبعوث ہونے کی وجہ سے بھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو امی کہا گیا ہے قرآن کریم میں اہل مکہ کو ام القری اور اس کے آس پاس کی بستوں کا ذکر ان آیات کریمہ میں وارد ہوا ہے۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ-وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ(سورہ الأنعام 92)

اور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ،پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس لئے (اتری) تاکہ تم اس کے ذریعے مرکزی شہر اور اس کے اردگرد والوں کو ڈر سناؤ اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں وہی اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں ۔

وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (سورہ الشوریٰ 7)

اور اسی طرح ہم نے تیری طرف عربی قرآن وحی کیا، تاکہ تو بستیوں کے مرکز (مکہ) کو ڈرائے اور ان لوگوں کو بھی جو اس کے ارد گرد ہیں اور تو اکٹھا کرنے کے دن سے ڈرائے جس میں کوئی شک نہیں، ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔


ان آیات کریمہ میں امت محمدیہ کو ام کہ کر پکارا گیا ہے یعنی ام سے مراد امت یعنی قوم بھی ہو سکتا ہے جیسے ام القرای مرکزی قوم اور آس پاس کی اہل کتاب قوم۔ اس لیے اگر ہم شاہ امم کو مرکزی ام میں مبعوث ہونے والے نبی کا ذکر کریں تو ام القرای میں آنے کی وجہ سے بھی النبی امی درست ہوگا۔

لیکن چونکہ ام القرای صرف اہل مکہ کو کہا گیا ہے اور اگلی آیات میں اس کی وجہ تسمیہ بھی ہم سمجھ پائیں گے اس لیے صرف ایک امت کی طرف آنے والے کو ہم النبی امی کہنے سے اس وقت تک گریز کریں گے جب تک کہ ام القرای کا اصل مفہوم واضح نہ ہو جائے۔

ان آیات میں جو لفظ اہل مکہ کے لیے استعمال ہوا ہے وہ عرب میں اہل مکہ کے لیے استعمال ہونے والا عام لفظ ہے اور اس سے مراد ایسی قوم ہے جو پورے عرب کے مرکز یعنی وسط میں واقع ہے اسی لیے قرآن پاک میں اللہ ربّ العزّت نے اہل مکہ کو ام القری اور اہل کتاب کو آس پاس کی قوم کہ کر مخاطب کیا ہے۔

یہاں اہل مکہ کے لیے ام القرای یعنی وسطی یا مرکزی قوم کے مطابق ام القرای کے نبی کو النبی امی یعنی وسطی یا مرکزی قوم میں مبعوث ہونے والے بھی مراد لیا جا سکتا ہے لیکن چونکہ اگلی آیات اور واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ امی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذاتی وصف نہیں بلکہ نسبتی وصف ہے اس لیے ام القرای کی نبی کی وجہ سے لفظ النبی امی مان لینا کافی نہیں ہے۔ جسے سمجھنے کے لیے ہم اگلی آیات کا مطالعہ کریں گے۔


  1.  قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا    ۨ الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾ آپ فرما دیں: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ( بن کر آیا ) ہوں جس کے لئے تمام آسمانوں اور  زمین  کی بادشاہت ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی جلاتا اور مارتا ہے ، سو تم اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان لاؤ جو ( شانِ اُمیّت کا حامل ) نبی ہے ( یعنی اس نے اللہ کے سوا کسی سے کچھ نہیں پڑھا مگر جمیع خلق سے  زیادہ  جانتا ہے اور کفر و شرک کے معاشرے میں جوان  ہوا  مگر بطنِ مادر سے نکلے ہوئے بچے کی طرح معصوم اور پاکیزہ ہے ) جو اللہ پر اور اس کے ( سارے نازل کردہ ) کلاموں پر ایمان رکھتا ہے اور تم انہی کی پیروی کرو تاکہ تم  ہدایت  پا سکو۔

سابقہ آیہ کریمہ اور اس آیہ کریمہ میں بالترتیب النبی امی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس لیے اس آیہ کریمہ کی تشریح میں ہم پرانی عبارت پر ہی اکتفا کریں گے۔ کیونکہ یہاں النبی امی کے وہی معنی مراد لیے جا سکتے ہیں جن پہ ہمیں سخت اعتراض ہے اور جنہیں ہم قرآن سے ہی سمجھنے کی کوشش کریں گے۔


  1. وَ مِنۡہُمۡ اُمِّیُّوۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ الۡکِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنۡ ہُمۡ  اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۷۸﴾ اور ان ( یہود ) میں سے ( بعض ) ان پڑھ ( بھی ) ہیں جنہیں ( سوائے سنی سنائی جھوٹی امیدوں کے )  کتاب  ( کے معنی و مفہوم ) کا کوئی علم ہی نہیں وہ (  کتاب  کو ) صرف زبانی  پڑھنا  جانتے ہیں یہ لوگ محض وہم و  گمان  میں پڑے رہتے ہیں۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ ربّ العزّت نے امیون کا لفظ استعمال کیا ہے جس کو غلط العام میں (بعض ان پڑھ) کے معنوں میں ڈال دیا گیا حالانکہ یہاں اس آیہ کریمہ میں کسی صورت بھی یہ مراد لینا جہالت ہے کیونکہ یہاں اہل عرب یا ان القرای کا تقابل اہل کتاب یعنی بنی اسرائیل سے کیا گیا ہے جس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے مقابلے میں عرب قوم ایسی تھی جن کے پاس حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے بعد اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تک کوئی رسول نہیں آیا اور نہ ہی یہ کسی کتاب کے حامل ہیں اس لیے اہل عرب اپنے حساب سے دین ابراہیمی کے پیروکار تو تھے لیکن انہیں دین کی صحیح سمجھ بوجھ نہیں تھی کہ کس طرح وہ دین ابراہیمی پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں یہی وجہ تھی کہ نبوت سے پہلے چالیس سال تک اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم بھی اس سوچ و بچار میں رہتے تھے کہ اس قوم کو کس طرح واحدانیت پر اکٹھا کیا جائے کیونکہ ان کے پاس کوئی واضح لائحہ عمل نہیں تھا اس ضمن میں غار حرا میں قیام کا واقعہ بھی دلیل ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم غار حرا میں جا کر اکثر کئی دنوں تک ربّ العالمین سے امت کی ہدایت کے لیے کسی راہ کے تعین کی جستجو میں لگے رہتے تھے۔

اس آیہ کریمہ کی تشریح خود ربِ ذوالجلال قرآن پاک کی ایک دوسری آیہ کریمہ میں ارشاد فرماتے ہیں۔


وما کنت تتلومن قبلہ من کتاب ولا تخطہ بیمینک اذا الار تاب المبطلون۔ (العنکبوت : ٤٨ )

اس (کتاب کے نزول) سے پہلے آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ‘ ایگر ایسا ہوتا تو باطل پرستوں کو شبہ پڑجاتا !

اس آیہ کریمہ سے مراد وہ شعرو شاعری بھی لیا جا سکتا ہے جو اہل عرب کا خاصہ تھا کیونکہ اللہ رب العالمین خود ہی قرآن حکیم میں ارشاد فرماتے ہیں۔


وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ(سورہ یاسین 69)


اور ہم نے نبی کو شعر کہنا نہ سکھایااور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن قرآن۔ (یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن اور نصیحت لکھنے کے علاوہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو لکھنے سے منع فرمایا دیا)


اس اے پہلے آپ کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے یا لکھتے تھے والی آیہ کریمہ میں جو اندیشہ اللہ ربّ العزّت نے ارشاد فرمایا وہ بالکل درست تھا

جیسا کہ اہل عرب نے بعد میں یہ اعتراض اٹھایا ہی دیا جسے اللہ ربّ العزّت نے قلمبند کر لیا۔

وقالو اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصیلا (الفرقان : ٥)

اور انہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کے لکھے ہوے قصے ہیں جو اس (رسول) نے لکھوا لیے ہیں ‘ سو وہ صبح و شام اس پر پڑھے جاتے ہیں۔


مترجمین نے یہاں بھی ایک ظلم عظیم کیا اور اس آیہ کریمہ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو نعوذباللہ (ان پڑھ) ثابت کرنے کی کوشش کر دی (انا للّٰہ وانا الیہ راجعون) جبکہ یہ آیت گزشتہ آیت کی تشریح بھی ہے اور ام القرای کی بنیادی پریشانیوں اور راہ ہدایت کے لیے کسی صحیح انتخاب کی کمی کا بھی اظہار ہے۔


اور اس آیہ کریمہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اہل عرب کسی کتاب کے حامل نہیں تھے جس کی وجہ سے انہیں اللہ ربّ العالمین نے امیون کہ کر مخاطب کیا اور امیون کے ساتھ واضح فرمایا کہ یہ وہ امیون ہیں جنہیں کسی کتاب کا علم نہیں یا جن کے پاس اسے سے پہلے کوئی کتاب نہیں بھیجی گئی اس تشریح کو لے کر چلیں تو جنہیں کوئی کتاب نہ ملی ہو وہ قوم امیون اور اس کے نبی کو امی کہنا کسی صورت (ان پڑھ) کے معنوں میں استعمال نہیں ہو سکتا بلکہ امیون کے نبی "النبی امی"  ایک کم علم انسان بھی واضح سمجھ سکتا ہے۔

اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ امی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا خاص لقب یا وصف نہیں تھا بلکہ عرب قوم کا نبی ہونےکی وجہ سے انہیں اس نام سے پکارا گیا ہے

جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم امی لوگ ہیں لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٩١٣‘ صحیح مسلم الصیام ‘ ١٥ (١٠٨٠) ٢٤٧٢‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٣١٩‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢١٤١‘ السنن الکبری ٰ للنسائی رقم الحدیث : ٢٤٥١‘ مسند احمد ج ٢‘ ص ٤٤‘ طبع قدیم ‘ جامع الاصول ج ٦‘ رقم الحدیث : ٤٣٩٣)

اس حدیثِ مبارکہ میں بھی واضح سمجھ آرہا ہے کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے امی کا لفظ فقط اپنے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے استعمال کیا کہ ہم امی لوگ ہیں۔

یہاں اس حدیثِ مبارکہ کی تھوڑی تشریح کرنا اشد ضروری ہے کہ یہاں لکھنے اور حساب کرنے سے مراد یہ ہر گز نہیں کہ مکہ کے لوگ جاہل تھے یا ان پڑھ تھے بلکہ یہاں لکھنے اور حساب سے مراد علم نجوم سے ہے جو مکہ میں نہیں پایا جاتا تھا جس میں ستاروں کے علم کے مطابق فال نکالنا اور حساب و کتاب کے ذریعے مختلف پیشگوئیاں کرنا ہوتا تھا۔ جسے قرآن نے پانسے اور فال والا علم قرار دیا ہے۔

اس حدیثِ مبارکہ کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مہینوں کے دنوں کے بارے پوچھا گیا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی اور بعض احادیث میں جن کے حوالے درج کر دیئے گئے ہیں میں نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ہاتھ کی انگلیوں پر مہینے کے دن گن کر بتائے۔

اس حدیثِ مبارکہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ علم نجوم اور اس طرح کے علوم سے بھی اہل مکہ نابلد تھے جو کہ ان کے اوصاف کو ظاہر کرتا ہے بجز اس کے کہ ان میں شرک و بدعات کی بہتاب تھی لیکن ستاروں جیسے علم سے انہیں مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔


  1. ہُوَ الَّذِیۡ  بَعَثَ فِی  الۡاُمِّیّٖنَ  رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ  یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ  اٰیٰتِہٖ  وَ  یُزَکِّیۡہِمۡ وَ  یُعَلِّمُہُمُ  الۡکِتٰبَ وَ  الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ  اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ  قَبۡلُ  لَفِیۡ ضَلٰلٍ  مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۲﴾ وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک ( با عظمت ) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بھیجا وہ اُن پر اُس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور اُن ( کے  ظاہر  و باطن ) کو  پاک  کرتے ہیں اور انہیں  کتاب  و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں ، بیشک وہ لوگ اِن ( کے تشریف لانے ) سے  پہلے  کھلی گمراہی میں تھے۔


اس آیہ کریمہ میں بھی تراجم کا ایسا ہیر پھیر کیا گیا ہے کہ عام آدمی بنا سوچے سمجھے امیین سے ان پڑھ قوم مراد لے کر یقین کر رہا ہے جبکہ آیہ کریمہ میں واضح سمجھ آرہا ہے کہ اللہ ربّ العالمین نے ایک ایسی امیین قوم جن کے پاس اس سے پہلے کسی کتاب کا علم نہیں تھا انہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو انہیں اللہ ربّ العزّت کی آیات سناتے ہیں اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور پرانی قوموں اور انبیاء کے قصے سناتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے انہیں ان میں سے کسی کتاب کا علم نہیں تھا۔


اس آیہ کریمہ پر غور کیا جائے تو بھی یہ بات واضح سمجھ آتی ہے کہ یہاں بھی امی صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو نہیں کہا گیا بلکہ امیین کا نبی بیان کیا گیا ہے اور نہ ہی امیین سے مراد انپڑھ قوم لیا جائے گا بلکہ ایسی قوم جس کے پاس پہلے کتاب کا علم نہیں تھا اور اب انہیں اللہ ربّ العزّت کتاب کا علم اپنے معلم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ذریعے سکھا رہا تھا۔


اس آیہ کریمہ میں ایک بات اور واضح ہورہی ہے کہ اہل مکہ امیون تھے یعنی کسی کتاب کا علم اور تصرف نہیں رکھتے تھے لیکن اللہ ربّ العزت نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو علم سے بہرہ ور کر رکھا تھا کیونکہ وہ کتاب اور حکمت دونوں سکھانے والے تھے اور یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ نعوذباللہ ایک ان پڑھ نبی کسی کو تعلیم دے سکے۔

یہاں یہ اعتراض بن سکتا ہے اور بعض فقہاء و محدثین کا خیال بھی ہے کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو چالیس سال کے بعد علم و عرفان سے نوازا گیا جس کی دلیل اس آیہ کریمہ کو بنایا جاتا ہے جس میں اللہ ربّ العالمین ارشاد فرماتے ہیں ۔


الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم (العلق : ٤٠٥) ” جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ‘ اور انسان کو وہ علم دیا ‘ جس کو وہ جانتا نہ تھا “۔


اس آیہ کریمہ سے وہ علم جو اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نہیں جانتے تھے مراد ہے نا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا نعوذباللہ ان پڑھ ہونا مراد ہے۔ اور جو علم اللہ ربّ العالمین نے سکھایا وہ وہی ہے جس کا پہلے قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے کہ " آپ اس قرآن سے پہلے کسی کتاب کو پڑھتے تھے نا اس کے احکامات لکھتے تھے" حالانکہ وہ اس پر قدرت رکھتے تھے اور ایک با علم انسان تھے جنہوں نے اپنی چالیس سالہ زندگی مکہ کے پر فتن ماحول میں گزاری اور خود کو صادق و امین جیسے القابات سے پہچان کرایا۔

ان چالیس سالوں میں ہزاروں مواقع ایسے آئے جہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے علم و دانش اور حسن و کمال کی تعریف و توصیف ہوئی جن میں تعمیر کعبہ کا واقع سر فہرست مانا جاتا ہے جس میں چار قبائل کو جنگ و جدل سے بچا کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنی علم و دانش سے محبت و الفت کی لڑی میں پرو دیا۔

اللھم صل علیٰ محمد وآل محمد 


  1. فَاِنۡ حَآجُّوۡکَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡہِیَ لِلّٰہِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ؕ وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡاُمِّیّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۲۰﴾  ۔ ( اے حبیب! ) اگر پھر بھی آپ سے جھگڑا کریں تو فرما دیں کہ میں نے اور جس نے ( بھی ) میری پیروی کی اپنا روئے نیاز اللہ کے حضور جھکا دیا ہے ، اور آپ اہلِ  کتاب  اور اَن پڑھ لوگوں سے فرما دیں: کیا تم بھی اللہ کے حضور جھکتے ہو ( یعنی اسلام  قبول  کرتے ہو ) ؟ پھر اگر وہ فرمانبرداری  اختیار  کر لیں تو وہ حقیقتاً  ہدایت  پا گئے ، اور اگر  منہ  پھیر لیں تو آپ کے ذمہ فقط  حکم  پہنچا  دینا  ہی ہے ، اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے ۔


قرآن مجید فرقان حمید کی امیین کے ذکر والی یہ تیسری اور امی سے مطابقت رکھنے والی پانچویں آیہ کریمہ ہے اس میں بھی مترجمین نے انتہائی کم علمی اور زیادتی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ عربی سمجھنے والے اس آیہ کریمہ کا ترجمہ ان پڑھ قوم کے طور پر کسی صورت نہیں کریں گے۔

اس آیہ کریمہ میں واضح فرمایا گیا ہے کہ "آپ اہل کتاب اور امیین (جن کے پاس اس سے پہلے کتاب نہیں تھی) سے فرما دیں"

یہاں واضح طور پر اہل مکہ کا تقابل اہل کتاب سے کیا گیا ہے یعنی اہل کتاب جن کے پاس کتاب الٰہی موجود تھی اور اہل مکہ جن کے پاس اسماعیل علیہ السّلام سے محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تک کوئی نبی اور کتاب نازل نہیں ہوئی۔

دوسری بات کہ یہاں بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو امی نام سے نہیں پکارا گیا بلکہ امیین کا نبی پکارا ہے اور جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ امیین کے نبی کو امی کہنا بذات خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا وصف نہیں کہا جا سکتا بلکہ قوم کا وصف ہے جبکہ خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ہمیشہ سے معلم ہیں اور ایک معلم ہر علم سے واقف ہوتا ہے۔


  1. وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مَنۡ  اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِقِنۡطَارٍ یُّؤَدِّہٖۤ  اِلَیۡکَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ  اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِدِیۡنَارٍ لَّا یُؤَدِّہٖۤ  اِلَیۡکَ اِلَّا مَادُمۡتَ عَلَیۡہِ قَآئِمًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَیۡسَ عَلَیۡنَا فِی الۡاُمِّیّٖنَ سَبِیۡلٌ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُمۡ  یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾ اور اہلِ  کتاب  میں ایسے بھی ہیں کہ اگر آپ اس کے  پاس   مال  کا ڈھیر امانت رکھ دیں تو وہ آپ کو لوٹا دے گا اور انہی میں ایسے بھی ہیں کہ اگر اس کے  پاس  ایک دینار امانت رکھ دیں تو آپ کو وہ بھی نہیں لوٹائے گا سوائے اس کے کہ آپ اس کے  سر  پر کھڑے رہیں ، یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں ، اور اللہ پر  جھوٹ  باندھتے ہیں اور انہیں خود ( بھی ) معلوم ہے 

ایک بار پھر اس آیہ کریمہ میں امیین کا لفظ اہل کتاب کے تقابل میں بیان کیا گیا ہے جس سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ امیین یا امیون ایسی قوم کو کہتے ہیں جس کے پاس کتاب یعنی راہ ہدایت کے لیے کوئی کلام نہیں پہنچا تھا اور اگر یہاں ہم النبی امی کے معنی کو واضح کرنے کی سعی کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ایک ایسی قوم کہ جس کو اسماعیل علیہ السّلام سے محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تک کوئی کتاب نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی نبی دیا گیا میں مبعوث فرمایا اور انہیں اہل کتاب کے مقابل کھڑا کر دیا۔ جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیہ کریمہ سے واضح ہوتا ہے۔


” اولئک الذین اتینہم الکتب والحکم النبوۃ فان یکفر بہا ھؤلاء فقد وکلنا بہا قوما لیسوا بہا بکافرین : یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم شریعت اور نبوت عطا کی ہے۔ پس اگر ان چیزوں کے ساتھ یہ لوگ کفر کریں تو بیشک ہم نے ان چیزوں پر ایسی قوم کو مقرر فرما دیا ہے جو ان سے انکار کرنے والے نہیں ہیں ” (الانعام :89)


تاریخ اسلام کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب اور یہود و نصارٰی اس انتظار میں تھے کہ بنی اسرائیل یعنی حضرت اسحاق علیہ السّلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام جن کا نام اسرائیل تھا میں سے آخری نبی مبعوث ہونگے اور انہیں ہدایت و راہنمائی فرمائیں گے لیکن اللہ ربّ العزّت نے بنی اسرائیل کی سابقہ کوتاہیوں اور نافرمانیوں کے سبب آخری نبی ایسی امت میں بھیجے جنہیں اہل کتاب کم تر اور حقیر سمجھتے تھے کیونکہ ایک طویل عرصے سے حضرت ابرہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے بعد اس قوم میں کوئی نبی نہیں آئے تھے یہی وجہ تھی کہ اللہ ربّ العزّت نے اس قوم کو امیین یا امیون کہ کر پکارا کہ جس قوم میں طویل عرصے سے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی راہ ہدایت کے لیے صحیفہ یا کتاب اللہ نازل ہوئی۔

پس اسی قوم کا نبی ہونے کی نسبت سے نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو النبی امی کہا گیا یعنی ایسی قوم کے نبی جن کے پاس راہ ہدایت کے لیے اہل کتاب کے مقابلے میں قرآن مجید سے پہلے کوئی کتاب نہیں تھی۔

یہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ النبی امی والی آیات میں امی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا وصف نہیں بلکہ امیین یا امیون کا نبی ہونے کی نسبت سے النبی امی ہے۔

اور یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ امی، امیین یا امیون کا مطلب ان پڑھ قوم یا انسان نہیں بلکہ جنہیں پہلے کتاب اللہ نہیں دی گئی وہ مراد ہیں۔

جیسا کہ اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے۔

عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میری حضرت عمرو بن العاص (رض) سے ملاقات ہوئی، میں نے کہا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس صفت کے متعلق بتائیے جو تورات میں ہے۔ انہوں نے کہا اچھا ! اللہ کی قسم تورات میں آپ کی ان بعض صفات کا ذکر ہے جو قرآن مجید میں مذکور ہیں، وہ یہ ہیں : اے نبی ! ہم نے آپ کو بھیجا در آنحالیکہ آپ شاہد اور مبشر اور نذیر ہیں، اور امیین کی پناہ ہیں، آپ میرے بندے اور رسول ہیں، میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے، آپ سخت مزاج اور درشت خو نہیں ہیں، اور نہ بازار میں شور کرنے والے ہیں اور نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں، لیکن معاف کرتے ہیں اور بخش دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک آپ کی روح ہرگز قبض نہیں کرے گا حتی کہ آپ کے سبب سے ٹیڑھی قوم کو سیدھا کردے گا، بایں طور کہ وہ کہیں گے لا الہ الا اللہ اور آپ کے سبب سے اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھول دے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 2125، مسند احمد ج 2، ص 174، طبع قدیم، رقم الحدیث : 6622، طبع جدید، الادب المفرد رقم الحدیث : 247، 246، دلائل النبوۃ ج 1، ص 374 ۔ سنن دارمی رقم الحدیث : 5، 6 ۔ مجمع الزوائد، ج 8، ص 271 ۔ جامع الاصول ج 11، رقم الحدیث : 8837، المعجم الکبیر رقم الحدیث : 10046)


زیر موضع بحث سے ہم جن نتائج پر پہنچے ہیں اس میں سب سے پہلے ہمیں اس بات کا مکمل یقین ہے کہ امی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا وصف نہیں بلکہ امیین قوم یا امیون قوم کی نسبت ہے۔

دوسرا یہ کہ امیین یا امیون کسی ان پڑھ قوم کو کسی صورت نہیں کہتے بلکہ مکہ کی وہ قوم جو بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں سے تھی اور جن کے پاس حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے بعد کوئی نبی اور کتاب اللہ کا دعویٰ نہیں تھا۔

تیسری بات ہمیں معلوم ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں امیین یا امیون اہل کتاب کی مقابل قوم کو کہا گیا ہے جن کے پاس کتاب نہیں تھی اور اب اللہ ربّ العزّت نے بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور گناہوں کی وجہ سے نبوت ان سے لے کر قیامت تک کے لیے بنی اسماعیل میں عطا فرما دی اور اس قوم کو تمام قوموں پر تسلط عطا فرما دیا۔

چوتھی بات جو ہمیں سمجھ آتی ہے کہ اہل مکہ کو پوری دنیا کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے اسی لیے اسے ام القرای یعنی مرکزی قوم کہا گیا ہے۔

پانچویں اور سب سے اہم بات کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو یا ان کی قوم کو کسی صورت ان پڑھ کہنا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ کسی کتاب کا علم نہ ہونا اس علم سے ناواقفیت تو ہو سکتی ہے جیسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ ہم امی قوم ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں (حدیث) اور اللہ ربّ العزّت نے فرمایا کہ "اس سے پہلے آپ کتاب کا علم نہیں رکھتے تھے اور نہ دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے (یعنی اسے کاپی کرتے تھے)" (العنکبوت : ٤٨ )

یہاں ایک دنیاوی مثال کی جسارت صرف سمجھانے کی غرض سے کر رہے ہیں کہ اگر ایک شخص ایم۔اے کیمسٹری کر چکا ہے لیکن وہ فزکس اور بیالوجی سے ناواقف ہے تو اسے کوئی ان پڑھ ہی ان پڑھ کہ سکتا ہے۔

اسی طرح نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور ان کی قوم علوم و فنون، حرب و ضرب ، تجارت و صنعت اور بے شمار علوم سے واقف تھے لیکن وہ اللہ ربّ العالمین کی طرف سے کسی واضح راہ ہدایت سے محروم تھے۔ حالانکہ بنو ہاشم دین ابراہیمی پر قائم تھے اور دین حنیف کے بنیادی عقائد و نظریات پر عمل پیرا تھے لیکن یہ سب علم انہیں فقط حسب و نسب سے ملا تھا جبکہ واضح طور پر کوئی کتاب اللہ جیسا کہ یہود و نصارٰی اور اہل کتاب کے پاس تھی اہل مکہ کے پاس یا بنی اسماعیل کے پاس نہیں تھی۔

یہی وجہ تھی کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے بچپن سے ہی حسب و نسب کی اس روش کے سبب حالات و خیالات سے خود کو محفوظ رکھا اور پھر بعد ازاں امت کے بگڑے ہوئے ماحول اور معاشرے کو اللہ ربّ العزّت کے سچے راستے پر موڑنے کا بوجھ اہنے کاندھوں پر محسوس کیا جس کی وجہ سے غار حرا اور پھر مختلف مقامات پر غورو فکر اور کسی متعین راستے کی تلاش شروع کر دی۔

اہل مکہ کو امیین یا امیون سے مراد ان پڑھ اس لیے بھی نہیں لیا جا سکتا کہ خاندان نبوت میں بھی شعراء اور خطابت کی ڈھیروں امثال ملتی ہیں جیسا کہ حضرت عبد المطلب علیہ السلام کے اشعار اور پھر ابو طالب علیہ السّلام اور پھر مولا علی علیہ السّلام کے دیوان اس کا واضح ثبوت ہیں۔

لفظ امی کو ہم اس وجہ سے بھی ان پڑھ کے معنی نہیں دے سکتے کہ یہ کسی صورت ممکن نہیں اور نہ ہی اللہ ربّ العزّت کو گوارا ہے کہ کوئی اس کے نبی کو ان پڑھ کہے جبکہ اصحابِ رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے اونچی آواز کرنے پر اللہ ربّ العزّت نے انہیں سختی سے ڈانٹ دیا اور یہود کے "راعنا" کہنے پر مسلمانوں کو راعنا کی بجائے "انظرنا" کی تربیت فرمائی وہ اہل کتاب اور یہود و نصاری کو کسے یہ موقع دے دیتا کہ وہ اللہ کے محبوب ترین نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو ان پڑھ کہیں اور اللہ ربّ العزّت اس بات پر خاموش رہے۔


اب اگر فرض کیا امیین یا امیون کا مطلب ان پڑھ قوم مان بھی لیا جائے تو النبی امی کا مطلب امیین یا امیون کے نبی ہی بنتا ہے نہ کہ نعوذباللہ ان پڑھ کہنا کسی صورت مناسب ہے۔


لیکن چونکہ اہل مکہ اور خاص طور پر بنو ہاشم کے افراد میں بھی شعراء کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اہل مکہ کسی طور ان پڑھ نہیں تھے اس لیے امیین اور امیون کا مطلب واضح طور پر ایسی قوم جس کے پاس اہل کتاب کے مقابلے میں کتاب نہیں تھی ہی سب سے زیادہ موزوں ہے۔


اور ایسی قوم جس کے پاس کتاب نہیں تھی ان میں ایک کتاب اللہ والے نبی کا آنا اور اسے اللہ ربّ العزّت کا النبی امی (یعنی امیین کا نبی)  کہنا بالکل مناسب اور موزوں ہے۔ جو کہ حدیثِ مبارکہ سے بھی واضح ثبوت ملتا ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم امیین کی پناہ میں ہیں۔

فما علینا الاالبلاغ المبین ۔


تحقیق و تصنیف: سید مسعود الرحمٰن بخاری

Saturday, October 19, 2024

What is Sufism?/ تصوف کیا ہے؟

تحریر و تحقیق:سید مسعود الرحمن بخاری

 تصوف کیا ہے؟

تصوف ایک ایسا فعل یا طرزِ زندگی ہے جس میں صوفی مکمل طور پر دنیاوی معاملات سے الگ تھلگ ہو کر رضائے الٰہی کا دعویٰ کرتا ہے وہ اپنے اس عمل میں اسقدر بختہ ہوتا ہے کہ اکثر و بیشتر کچھ صوفیاء نکاح کرنے کو بھی ممنوع قرار دیتے ہیں اور ہر طرح کے دنیاوی معاملات سے دستبردار ہو جاتے ہیں حالانکہ ایک عام فہم انسان بھی یہ عقل رکھتا ہے کہ اللہ ربّ العزّت کے آخری نبی محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے زیادہ متقی و پرہیز گار کون ہو سکتا ہے اگر انہوں نے ایک نبی ہوتے ہوئے دنیاوی معاملات اور دینی معاملات کو حسن و خوبی سے نبھایا ہے تو ایک عام انسان یہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ ایک ایسا طریقہ ایجاد کرے جو اسے تقوی میں افضل ترین کر دے۔

رہبانیت یا صوفی ازم کے رد میں نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے سخت وعید فرمائی ہے حدیثِ مبارکہ ہے؛

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا معاملہ پیش آیا جنہوں نے عورتوں سے ترک تعلق کر لیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: ”اے عثمان! مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا ہے، کیا تم میری سنت سے بیزار ہو گئے؟“ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا نہیں ہے، فرمایا: ”پھر میری سنت تو یہ ہے کہ (رات کو) نماز پڑھتا ہوں تو سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں تو (افطار بھی کرتا رہتا ہوں) کھاتا بھی ہوں، نکاح بھی کرتا ہوں اور طلاق بھی دیتا ہوں۔ پس جس نے میرے طریقے سے بےرغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی صحابہ نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ اگر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حالت پر برقرار رہنے کی اجازت دے دی تو ہم سب اپنے آپ کو خصی بنا لیتے اور (عورت سے) ترک تعلق کر لیتے۔ (سنن دارمی 2206, صحیح بخاری 5063, صحیح مسلم 1401)


تصوف یا صوفی ازم ایک زمانے سے اسلام کا ایک معتبر طریقہ مانا جاتا ہے حالانکہ اسلام میں اس کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں جتنے بھی صوفیاء گزرے ہیں وہ یا تو شاعر تھے یا پھر انہوں نے خود کو ایک خول میں قید کر کے دنیا سے تعلق توڑ لیا تھا۔ جو کہ سراسر اسلام کے منافی عمل ہے۔


عہد فاروقی میں بہت سے علاقے فتح ہوئے جن میں نو مسلم جو عربوں کے مفتوحہ علاقوں میں رہتے تھے مقامی روحانی طرز فکر سے عہد قدیم سے ہی متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مورخین کی رائے میں اسلامی صوفی ازم نے عیسائیت کے روحانی ماحول میں نشو نما پائی ہے۔ 


جیسا کہ صوفی قدیم عرب لفظ صوف سے مُشتق ہے جو کہ اونی کپڑے کو کہتے ہیں اورایسے ملبوسات مشرق میں رہنے والے عیسائی صوفی استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اسلام کی آمد سے پہلے کے عیسائی لوگوں کے کپڑے مثلاً مختلف رنگوں کے کپڑوں کے ٹکڑوں سے گدڑی زیبِ تن کرنے کا رواج عام تھا اگر عیسائی صوفی خیالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان میں تارک الدنیا ہونا مذہب کا حصہ قرار پا چکا تھا اور اسے یونانی نظریات نے مزید تقویت دی۔ جس میں جسم کا تصور ایک فانی حیثیت سے سامنے آیا فقر کو سراہنا ملی اور مختلف عبادات پر زور دیا گیا۔


جیسا کہ مسلمان صوفیاء خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نصرانیت میں رہبانیت کو قبول کرلیا تھا۔ حالانکہ اس آیہ کریمہ میں اللہ ربّ العالمین نے اس طرز عمل کو ان کا اپنا ایجاد کردہ طریقہ بتایا ہے اور جس پر وہ خود بھی عمل نہ کر سکے اور عذاب الٰہی کے مستحق ٹھہرے۔


اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں''رہبانیت ان لوگوں نے خود ایجاد کی تھی ہم نے اس کا حکم نہیں دیا تھا انہوں نے یہ طریقہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا مگر اسے صحیح طورپر نبھا نہ سکے( سورہ حدید-آیت 27)


ہماری دنیا بڑی عجیب ہے جہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے بلکہ جو دکھایا جاتا ہے وہ بک جاتا ہے۔ ہم نے جب تصوف پر تحقیق شروع کی تو ہمیں پتہ چلا کہ تصوف یا صوفی ازم اور صوفیاء اسلام کی تعلیمات و شریعت سے کوسوں دور ہیں۔ تاریخ اسلام میں نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے دور میں کسی صوفی کا ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی قرآن و حدیث میں صوفی ازم کا کوئی حوالہ موجود ہے۔ ایک عام انسان کو یہ بات واضح سمجھ لینی چاہئے کہ جس طرز عمل کا ذکر قرآن و حدیث میں سرے سے موجود ہی نہیں وہ قرب الہٰی کا موجب کسیے اور کیونکر ہو سکتا ہے، جبکہ اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا اور پھر دینی معاملات کو دنیاوی معاملات کے ساتھ نبھانے کی ترغیب و تربیت بھی کی۔ 


تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی ہمیں معلوم ہوئی کہ تصوف علماء محدثین اور فقہاء کے نظریات سے الگ شے کا نام ہے اور تصوف ہی وہ واحد قرینہ ہے جس میں مسلم و غیر مسلم کا امتیاز نہیں ہے کیونکہ غیر مسلم بھی اس طرز فکر اور طریقہ کار کو اپناتے رہے ہیں اور ان کے نزدیک بھی تصوف دنیا سے بے رغبتی اور تنہائی میں یاد الٰہی کا نام ہے یعنی ان کے مطابق انسان کے اندرونی معاملات میں اللہ سے ایک رابطہ رکھنا اور اپنے ذہن و دماغ کو دنیاوی معاملات سے پاک رکھنا تصوف کہلاتا ہے۔

حالانکہ تاریخ دانوں نے کسی بھی صوفی میں ایسے کمالات کا ذکر نہیں کیا اور پھر جب صوفی ازم میں اسلام کے بنیادی عقیدہ توحید و رسالت سے انسان کو مبرا کر دیا جائے تو اس عقیدے کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک انسان اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی صداقت پر ایمان بھی نہ لائے اور صوفی ازم کے ذریعے سے خود کو جنت کا حقدار ٹھہرائے۔

عالم تصوف میں مشہور مسلم و غیر مسلم صوفیاء کے کچھ نام یہاں ذکر کرتے ہیں جن سے یہ اندازہ ہو جائے کہ تصوف کسی اسلامی نظریے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طرز عمل ہے جو ہر مذہب کا انسان اپنا لیتا ہے اور اس کی اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

مسلم صوفیاء:

رابعہ بصری ، بایزید بسطامی ، جنید بغدادی، منصور بن حلاج، علی ہجویری، عبدالقادر جیلانی، معین الدین چشتی وغیرہ

غیر مسلم صوفیاء:

مھر بابا، مرشد سموئیل لوئیس، منوہر لال کانپوری، وؤگان لی وغیرہ


ان سب لوگوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اسلام کے بنیادی عقائد پر بات تک نہیں کی۔ مثلآ رابعہ بصری پہلی صدی ہجری کے آخری سالوں میں پیدا ہوتی ہیں اور پھر ان کی صوفیانہ زندگی تقریباً پندرہویں سال سے شروع ہو جاتی ہے لیکن ان کے حوالے سے کوئی بھی حدیث کی روایت آپ تک نہیں پہنچتی جبکہ اسی دور میں امام زمانہ باقر علیہ السّلام اور ان کے فرزند امام جعفر الصادق علیہ السّلام آپ کو دین کے ستون نظر آتے ہیں جن کے واعظ و نصیحت نے زمانے پر اپنا ایک اثر چھوڑا اور بے شمار غیر مسلم بھی مسلمان ہوئے۔


اسی دور کی دوسری ہستی امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ ہیں جنہیں آج دنیا امام الفقہ اور جدالفقہ کے نام سے جانتی ہے انہوں نے اسلام میں ایسی قانون سازی کی بنیاد رکھی جس نے حقیقت میں اسلام کی راہیں آسان کر دیں۔

لیکن افسوس کہ ہمارے مسلمان امام باقر و امام جعفر الصادق علیہم السّلام اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ جیسی ہستیوں کو چھوڑ کر رابعہ بصری جیسے شعراء اور غیر اسلامی طرزِ زندگی اپنانے والےصوفیاء کے قصیدے پڑھتے رہے۔


جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ صوفی ازم یا رہبانیت اسلام سے پہلے کی ایک سوچ اور طرز عمل کا نام ہے اور اسلام کے اوائل میں اس کا کوئی وجود نہیں ملتا لیکن موجودہ دور کے صوفیاء نےتصوف کی دنیا میں ایسے ایسے نام جوڑ لیے ہیں جو اس طرز عمل کو تقویت دینے کا کام کرتے ہیں حالانکہ ان میں اکثر لوگ اپنے اس وصف سے ناواقف تھے۔


صوفیاء کا طریقہ کار یہ رہا ہے کہ انہوں نے تصوف یعنی ایک اختراعی طریقہ کار سے ہر مذہب اور کتاب سے ایسے نظریات کو اکٹھا کر رکھا تھا جس میں روحانی طرزِ فکر کا وہم موجود تھا۔

بایزید بسطامی کا تذکرہ بھی جن حوالوں سے ملتا ہے جو شمالی ایران کے شہر بوستان کا باشندہ تھا اور 875ء میں فوت ہوا اس سے متعدد وضائف منسوب ہیں جو کہ ''شاتھ'' کہلاتے ہیں ۔ اس کی تعلیمات میں ہندوئوں کی مقدس کتب اپنشد اور ودانت کے حوالے سے مماثلت بھی ملتی ہے۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ شاید وہ پہلا شخص تھا جس نے فناء فی اللہ کا نظریہ پیش کیا۔


 تمام صوفیا اپنے زمانے کے ذہین لوگ تھے لیکن نہ تو یہ پیشہ ور فلسفی تھے اور نہ ہی باقاعدہ سکالر سمجھے جاتے تھے۔ یہ لوگ اپنے عقائد اور طریقہ کار کو کسی واضح حقائق سے پیش نہیں کرتے تھے۔ ان تمام میں مورثی طور پر روحانی اور صوفی ازم کے اوصاف موجود تھے۔ مگر انہوں نے محبت،انا ، وجود، بقا،فنا، نفس اور روح کے متعلق اپنے اپنے عقائد وضع کر لیے تھے ، خدا سے بندے کا تعلق اور اس کی ذات سے بے پایاں محبت کے سلسلے صوفیاء کا بنیادی مرکز نگاہ رہا۔ کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ صوفیاء خدا کے خاص بندے تھے اور پیغمبر کے بعد ان کی حیثیت مسلم تھی۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی ہی پہچان کی بھول بھلیوں میں بھٹک گئے تھے۔


لیکن یہ بات مسلم ہے کہ اسلام نے رہبانیت اور تصوف کی کہیں بھی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے اس کے برعکس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی طرز زندگی ایک مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے۔ جس میں نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے بحیثیت انسان ایک مکمل ضابطہ حیات کا درس دیا ہے اور بحیثیت نبی افضل الانبیاء کا خطاب بھی لیا ہے۔

اللھم صل علیٰ محمد وآل محمد ۔


Writing and research: Syed Masood ul Rehman Bukhari

What is Sufism?

Sufism is a way of life or practice in which Sufi claims to seek the pleasure of Allah by completely isolating themselves from worldly affairs. A Sufi becomes so engrossed in this practice that many even consider marriage forbidden and renounce all worldly matters. However, even a person with basic understanding can comprehend that no one could be more pious and God-fearing than the last Prophet of Allah, Muhammad (PBUH). Despite being a prophet, he balanced worldly and religious matters with grace. How can an ordinary person claim to invent a path that supposedly makes them superior in piety?

The Prophet Muhammad (PBUH) issued stern warnings against monasticism or asceticism. In a hadith, it is narrated:

"Sa'd bin Abi Waqqas (RA) said: When Uthman bin Maz'un (RA) renounced relations with women, the Prophet (PBUH) called for him and said: 'O Uthman! I have not been commanded to adopt monasticism. Are you displeased with my way (Sunnah)?' Uthman replied: 'No, O Messenger of Allah!' The Prophet (PBUH) said: 'Then my Sunnah is that I pray at night and sleep, I fast and break it (at times), I marry and I also divorce. Whoever turns away from my way is not of me.'" (Sunan al-Darimi 2206, Sahih Bukhari 5063, Sahih Muslim 1401)

Sufism or asceticism has been considered a valid path in Islam for centuries, despite the fact that it has no real basis in Islam. Many of the Sufis in our society were either poets or isolated themselves from the world, which is contrary to Islamic teachings.

During the era of Caliph Umar (RA), many areas were conquered, and new Muslims, who lived in these conquered regions, were influenced by the spiritual ideologies of the past. Some historians suggest that Islamic Sufism grew in the spiritual environment of Christianity.

The term "Sufi" is derived from the ancient Arabic word "suf," meaning wool, which refers to the woolen garments worn by Christian ascetics in the East. Before Islam, Christian monks often wore patched garments of different colors. In Christian asceticism, renouncing worldly life had become part of their religion, which was further reinforced by Greek philosophies that considered the body temporary and promoted spiritual practices.

Muslim Sufis believe that Allah accepted monasticism in Christianity. However, the Quran tells us that this was an invented practice, and those who followed it failed to adhere to it properly, and they were subject to divine punishment.

Allah says in the Quran: "But monasticism they invented; We did not prescribe it for them. They did so to seek the pleasure of Allah, but they did not observe it as it should have been observed." (Surah Al-Hadid, 57:27)

Our world is strange, where what is visible is sold, and what is shown is believed. Upon researching Sufism, we discovered that Sufism and its practitioners are far from the teachings of Islam. In the time of the Prophet Muhammad (PBUH), there is no mention of any Sufi, nor is there any reference to Sufism in the Quran or Hadith. It should be clear to an ordinary person that if a practice is not mentioned in the Quran or Hadith, how can it be a means of attaining closeness to Allah?

Through studying history, we learn that Sufism is separate from the beliefs of scholars of hadith and Islamic jurisprudence. Sufism is the one idea that blurs the line between Muslims and non-Muslims, as people from other religions also adopt this way of thinking, considering Sufism to be detachment from worldly matters and a spiritual connection with Allah. However, no historian has mentioned any such achievements of a Sufi, and when Sufism deviates from the core Islamic beliefs of monotheism and the finality of the Prophet, the very foundations of faith become weak. How can a person who does not believe in Allah and His Messenger (PBUH) claim paradise through Sufism?

Some well-known Sufi figures, both Muslim and non-Muslim, illustrate that Sufism is not an Islamic ideology, but rather a practice adopted by people of various religions, which has no basis in Islam.

Famous Muslim Sufis:

  • Rabia Basri
  • Bayazid Bastami
  • Junayd Baghdadi
  • Mansur al-Hallaj
  • Ali Hujwiri
  • Abdul Qadir Jilani
  • Moinuddin Chishti

Famous Non-Muslim Sufis:

  • Meher Baba
  • Murshid Samuel Lewis
  • Manohar Lal Kanpuri
  • Wugan Li

If we examine their histories, we find that many of them never spoke about Islam's fundamental beliefs. For example, Rabia Basri was born in the later years of the first century Hijri, and her ascetic life began around the age of fifteen. However, no hadith narrations have been attributed to her, while during the same period, Imam Muhammad al-Baqir (RA) and his son Imam Ja'far al-Sadiq (RA) were active pillars of religion, whose teachings had a lasting impact.

Similarly, Imam Abu Hanifa (RA), known as the father of Islamic jurisprudence, laid the foundation for laws that made Islam's path easier. Unfortunately, many Muslims, instead of following figures like Imam Baqir, Imam Ja'far al-Sadiq, and Abu Hanifa, glorified poets and Sufi figures like Rabia Basri.

As we have mentioned, Sufism or monasticism predates Islam, and there is no evidence of it in early Islamic history. But contemporary Sufis have included names to strengthen this practice, even though many of these figures were unaware of this association.

Sufis, through their invented practices, compiled spiritual concepts from various religions and scriptures. For instance, the famous Sufi Bayazid Bastami, from Bostam in northern Iran, is said to have adopted many practices from Hindu scriptures such as the Upanishads and Vedanta. It is believed that he was the first to present the concept of fanaa fillah (annihilation in God).

Sufis were often intellectuals, but neither professional philosophers nor recognized scholars. They did not present their beliefs based on clear facts. Their spiritual tendencies were hereditary, but they formulated personal beliefs regarding love, ego, existence, annihilation, self, and soul. The connection between man and God, and an overwhelming love for God, was the central theme of Sufism. Some believe that Sufis were special people of God, while others argue that they were lost in the labyrinth of their own identity.

What is certain is that Islam has never encouraged monasticism or Sufism. On the contrary, the life of the Prophet Muhammad (PBUH) serves as the perfect example for Muslims, where he provided a complete way of life as both a human being and the most honored of the prophets.

Allahumma Salli Ala Muhammad Wa Ala Aali Muhammad.

Friday, October 18, 2024

مناقب اہل بیت علیہم السّلام/Virtues of the Ahl al-Bayt (Peace Be Upon Them)

 اللھم صل علیٰ محمد وآل محمد 

مناقب اہل بیت علیہم السّلام

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

سورۃ الاحزاب، آیت نمبر (56)میں ارشاد خداوندی ہوتا کہ

’’بیشک اللہ(تعالیٰ) اور اس کے فرشتے نبی ( اکرمﷺ ) پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو! تم بھی نبی (اکرمﷺ) پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو‘‘


جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کرنے لگے "اے اللہ کے رسولﷺ ! سلام کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں، ہم درود کیسے بھیجیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا تم درود ابراہیم پڑھا کرو" (صحیح بخاری: 3370)۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔

اے اللہ رحمت نازل فرما محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر، جیسا کہ تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، بے شک تو بڑی تعریف والا بزرگی والا ہے۔

اے اللہ برکت نازل فرما محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر، جیسا کہ تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، بے شک تو بڑی تعریف والا بزرگی والا ہے۔

مذکورہ درود ابراہیمی میں نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے مطابق نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور ان کی آل پر درود و سلام کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی آل (اہل بیت) کون ہیں یہ ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم کرتے ہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : لَمَّانَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : (قُلْ لاَّ أَسْئَلُکُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلاَّ الْمًوَدَّةَ فِي الْقُرْبَي) قَالُوْا : يَارَسُوْلَ اللهِ، مَنْ قَرَابَتُکَ هَؤُلاءِ الَّذِيْنَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتُهُمْ؟ قَالَ : عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَابْنَاهُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت : (قُلْ لاَّ أَسْئَلُکُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلاَّ الْمًوَدَّةَ فِي الْقُرْبَي) نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے عرض کیا :

یا رسول اللہ! آپ کی قرابت کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دو بیٹے (حسن و حسین علیہم السلام)۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 5 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 47، الرقم : 2641، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 168.

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَحِبُّوْا اللهَ لِمَا يَغْذُوْکُمْ مِنْ نِعَمِهِ، وَأَحِبُّوْنِي بِحُبِّ اللهِ عزوجل. وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ أَبُوعِيْسَي : هَذَا حَدَيْثٌ حَسَنٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا فرمائیں اور مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کے سبب اور میرے اہل بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

الحديث رقم 8 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب أهل البيت النبي ﷺ، 5 / 664، الرقم : 3789، والحاکم في المستدرک 3 / 162، الرقم : 4716، والبيهقي في شعب الإيمان، 1 / 366، الرقم :408


اس کے علاوہ بھی درود و سلام کے مستحق آل رسول (اہل بیت)علیہم السّلام کی شان میں ڈھیروں احادیثِ مبارکہ موجود ہیں۔ اب جو شخص درود و سلام کو زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کر کے پڑھے گا وہی اہل بیت علیہم السّلام کے درجات و افضلیت کو پہچان سکتا ہے، اور جو شخص محض عادتاً پڑھے اسے اہل بیت علیہم السّلام سے اسقدر محبت و عقیدت نہیں ہوگی۔

حب اہل بیت علیہم السّلام سے شفاعت کے راستے ہموار ہوتے ہیں اور یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی مسرت کا باعث ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے اللہ کی محبت کے سبب محبت کرنا اور اہل بیت سے محمد الرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی خاطر محبت کرنا ہی اصل میں محبت ہے۔ جب ہم اہل بیت علیہم السّلام کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا اصل وارث اور جانشین مان کر محبت کریں گے تو یقیناً ہم اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے محبت کر رہے ہونگے۔ اور اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے محبت کا تقاضا ہے کہ اپنی جان، مال، اولاد اور دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر محبت کی جائے اور یہ ایمان کی تکمیل کے ساتھ مشروط ہے۔

حدثنا محمد بن بشار ، ومحمد بن المثنى ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، قال: سمعت قتادة ، عن انس بن مالك ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا يؤمن احدكم حتى اكون احب إليه من ولده، ووالده، والناس اجمعين".

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والد، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 67) ‏‏‏‏


اللہ ربّ العزّت تمام مسلمانوں کے دل میں حب اہل بیت علیہم السّلام کا جذبہ پیدا فرمائے اور تمام مومنین کو حب اہل بیت پر استقامت نصیب فرمائے آمین۔


مناقب اہل بیت علیہم السّلام 

سید مسعود الرحمٰن بخاری 


O Allah, send blessings upon Muhammad (PBUH) and the family of Muhammad (PBUH).

Virtues of the Ahl al-Bayt (Peace Be Upon Them)

In the name of Allah, the Most Compassionate, the Most Merciful.

In Surah Al-Ahzab, verse (56), Allah Almighty says:

"Indeed, Allah and His angels send blessings upon the Prophet (peace be upon him). O you who believe, send blessings upon him and greet him with peace."

When this noble verse was revealed, the Companions (may Allah be pleased with them) asked the Prophet (peace be upon him), "O Messenger of Allah, we know how to offer greetings of peace, but how should we send blessings (salat) upon you?" The Prophet (peace be upon him) responded, "You should recite the Salat al-Ibrahim." (Sahih Bukhari: 3370)

O Allah, send blessings upon Muhammad and the family of Muhammad, as You sent blessings upon Ibrahim and the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.

O Allah, bless Muhammad and the family of Muhammad, as You blessed Ibrahim and the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.

In the aforementioned Salat al-Ibrahim, according to the beloved Prophet (peace be upon him), the command to send blessings and peace is upon the Prophet (peace be upon him) and his family. To understand who constitutes the family (Ahl al-Bayt) of the Prophet (peace be upon him), we refer to the following blessed hadith:

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that when the following verse was revealed: "Say, I ask of you no reward for this except for the love of kinship (near relatives)." (Quran 42:23), the Companions asked, "O Messenger of Allah, who are your close relatives whose love is incumbent upon us?" The Prophet (peace be upon him) replied, "Ali, Fatimah, and their two sons (Hassan and Hussain)." This hadith was narrated by Imam Tabarani. (Hadith No. 5: Tabarani, al-Mu'jam al-Kabir, 3/47, No. 2641; and Al-Haythami, Majma' al-Zawa'id, 9/168)

Ibn Abbas narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Love Allah for the favors He bestows upon you, love me for the sake of Allah, and love my family for my sake." This hadith was narrated by Imam Tirmidhi and Al-Hakim, and Imam Tirmidhi classified it as Hasan (sound). (Hadith No. 8: Tirmidhi, Sunan, Book: The Virtues of the Prophet's Household, 5/664, No. 3789; Al-Hakim, al-Mustadrak, 3/162, No. 4716; Al-Bayhaqi, Shu'ab al-Iman, 1/366, No. 408)

There are many other noble hadiths extolling the virtues of the Ahl al-Bayt (peace be upon them), who are deserving of blessings and peace. Only the one who recites the blessings and peace sincerely, with both verbal acknowledgment and heartfelt conviction, can truly recognize the elevated status and superiority of Ahl al-Bayt. On the other hand, someone who merely recites out of habit may not develop the same love and reverence for them.

Love for the Ahl al-Bayt opens the pathways to intercession and brings joy to the Prophet (peace be upon him). Loving the Prophet (peace be upon him) for the sake of Allah, and loving the Ahl al-Bayt for the sake of the Prophet (peace be upon him), constitutes true love. When we love the Ahl al-Bayt, recognizing them as the true heirs and successors of the Prophet (peace be upon him), we are indeed loving the Messenger of Allah (peace be upon him). Loving the Messenger of Allah (peace be upon him) demands that we love him more than ourselves, our wealth, our children, and everything else in this world, which is a condition of the perfection of faith.

Anas bin Malik (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "None of you truly believes until I am more beloved to him than his children, his parents, and all people." (Sunan Ibn Majah, Hadith No. 67)

May Allah, the Lord of Might and Glory, instill the love of the Ahl al-Bayt in the hearts of all Muslims and grant all believers steadfastness in their love for the Ahl al-Bayt. Ameen.

Virtues of the Ahl al-Bayt (Peace Be Upon Them)