Showing posts with label مسلک کسے کہتے ہیں، برصغیر میں مسالک، مسالک کی وجوہات، شیعہ، سنی، وہابی کون ہیں،. Show all posts
Showing posts with label مسلک کسے کہتے ہیں، برصغیر میں مسالک، مسالک کی وجوہات، شیعہ، سنی، وہابی کون ہیں،. Show all posts

Saturday, November 23, 2024

مسلکی اختلافات کی وجوہات

مسلکی اختلافات کی وجوہات

تحقیق و تحریر: سید مسعود الرحمٰن بخاری

:ابتدائی کلمات:

تاریخ اسلام کے اس نازک موضوع پر کچھ تحریر کرنے سے پہلے تمام قارئین سے گزارش ہے کہ اس تحریر کو خالصتاً ایک تحقیقی جائزہ سمجھیں اور خود سے بھی تحقیق اور جستجو کریں۔ کسی بھی تحقیقی مواد کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تحقیق کرنے والا اپنی تحقیق کو دوسروں کی سوچ اور فکر پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور نہ ہی ایسا ممکن ہے کہ کسی مذہبی تحقیق کو ہر مسلک پرست انسان پسند بھی کرے۔ اس لیے اگر کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی بھی بات بری لگے تو ہم معذرت خواہ ہیں اور اگر کسی بات سے اختلاف ہو یا کسی بات کی سند کے لحاظ سے شکوک وشبہات ہوں تو برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے سے ضرور مستفید کریں تاکہ ہم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کر سکیں۔ 

جزاکم اللہ خیرا کثیرا۔


:مسلک کی تعریف:

"مسلک" عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "چلنے کا راستہ" یا "طریقہ" ہیں۔ اسلامی سیاق میں، دینِ اسلام کے کسی خاص فکری، فقہی یا عقیدتی نظام کی پیروی کرنے کو مسلک کہا جاتا ہے۔ مسلک عام طور پر کسی امام یا عالم دین کے طے کردہ اصول و ضوابط پر مبنی ہوتا ہے۔ 

قرآن و حدیث میں لفظ "مسلک" مخصوص اصطلاحی معنی میں نہیں آیا، لیکن اس کے مترادف الفاظ اور ان کے مفہوم ہمیں مختلف آیات اور احادیث میں ملتے ہیں۔ مثلاً:


قرآن مجید میں ارشاد ہوا:


وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ

(سورۃ الانعام: 153)

ترجمہ: "یہی میرا سیدھا راستہ ہے، اسی کی پیروی کرو، اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو، وہ تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔"

اس آیت میں "صراط" (راستہ) کا ذکر اس مفہوم میں آتا ہے جو مسلک یا طرزِ عمل کی تشریح کرتا ہے۔


وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪-وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ-وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(سورہ آل عمران:103)

ترجمہ "اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اوراللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔ اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔"

اس آیہ کریمہ میں تفرقات کا ذکر تو موجود ہے جو مسلک پرستی کے بعد ایک دوسرے میں فرق کر کے کیا جاتا ہے لیکن مسلک کا ذکر نہیں البتہ اس آیہ کریمہ کو مسلک کے معنی کے مترادفات میں ذیادہ قریب سے لیا جاتا ہے۔


احادیث میں بھی اس قسم کا اشارہ موجود ہے:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


"میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے صرف ایک جنت میں جائے گا۔"

(ترمذی، کتاب الإيمان)

یہ حدیث ان فکری اور عقیدتی اختلافات کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مسلک اور مکتب فکر کی صورت میں نمودار ہوئے۔

:اختلافی وجوہات 

چونکہ مسلک کسی امام یا عالم دین کے وضع کردہ طریقے یا فکری اور نظریاتی سوچ کے نتیجے میں بننے والے گروہ کو کہتے ہیں اس لیے ایسے عقیدے، طریقے یا نظریے سے اختلاف کی گنجائش موجود رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی عالم دین کہلانے والا یا ایک نظریاتی فکر رکھنے والا کسی بھی موقع پر دوسرے مسالک سے اختلاف کی گنجائش نکال کر اپنا ایک الگ مسلک تخلیق کرنے کی جرات کر لیتا ہے۔

تاریخ اسلام میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ہر دور میں مطالعے اور تحقیق و تبصروں میں تضادات پائے گئے ہیں جن کی مثال امام ابو حنیفہ کے اپنے ہی شاگرد امام مالک اور امام مالک کے شاگرد امام شافعی اور بالترتیب امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل کے نظریات اپنے استاد سے میل نہیں کھاتے یہاں تک کہ ان چاروں اساتذہ اور شاگردان علمائے کرام کے نام سے حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مسالک کی بنیاد پڑ گئی اور آج ان چاروں مسالک کے ہر دور میں نئے آنے والے شاگردوں اور عقیدت مندوں کے مختلف عقائد و نظریات کی بنا پر اختلافات کی لمبی لکیر کھینچ دی گئی ہے۔

مسلکی اور نظریاتی اختلافات میں تیرہویں اور چودہویں صدی کے مذہبی مصنفین نے بھی اپنا پورا حصہ ڈالا ہے جس کی ڈھیروں مثالیں مختلف مکاتب فکر کی کتابوں میں بے بنیاد قصوں اور کہانیوں کو تاریخ کا حصہ بنانے کا کام کر کے چھوڑی گئی ہیں۔ بر صغیر میں ہر فکر کو مکمل آزادی حاصل ہونے کی بنیاد پر مصنفین اور فرقہ وارانہ عقائد و نظریات رکھنے والوں نے مبالغہ آرائی اور جھوٹ کی ساری حدود پھلانگ ڈالیں۔ اس ماحول میں خاص طور پر اہل سنت اور اہل تشیع کے مسلکی مصنفین نے ایک دوسرے کے علماء اور عقائد پر ڈائریکٹ تحریری حملے کیے اور دوسرے مسلک کے علماء کی تذلیل کا کوئی پہلو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جس کی مثالیں شاہ ولی اللہ نے اپنے خوابوں کو بنیاد بنا کر اہل تشیع کے خلاف "فیوض الحرمین"، "قراۃ العینین"، "ازالۃ الخفا" اور "حجۃ اللہ البالغہ" جیسی کتابیں لکھ کر اور 1790ء میں شاہ عبد العزیز نے شیعہ اعتقادات کے خلاف "تحفۃ اثنا عشریۃ" نامی کتاب لکھی، آیت اللہ سید دلدار علی نقوی ؒ نے شیعہ عقیدہ توحید، نبوت، امامت و آخرت کے خلاف لکھے گئے ابواب پنجم، ششم، ہفتم و ہشتم کے رد میں "الصَّوارمُ الإلهیّات فی قَطْع شُبَهات عابدی العُزّی و اللّات"، "حِسامُ الاسلام و سَهامُ المَلام"، " خاتِمَۃُ الصَّوارم"، "ذو الفقار"اور "اِحْیاءُ السُّنّۃ و اماتَۃُ الْبِدْعَۃ بِطَعْنِ الأسِنَّۃ" لکھیں۔ علامہ سید محمد قلی موسوی ؒنے تحفہ اثنا عشریہ کے پہلے، دوسرے، ساتویں، دسویں اور گیارہویں ابواب کا الگ الگ جواب دیا اور ان کتب کا مجموعہ "الأجناد الإثنا عشريۃ المحمديۃ" کے عنوان سے شائع ہوا۔ مولانا خیر الدین محمد الہ آبادی ؒ نے باب چہارم کے جواب میں "هدایۃ العزیز " لکھی۔ ان کے علاوہ بھی کئی علما نے تحفہ اثنا عشریہ کے ابواب کے رد میں کتب تصنیف کیں جن میں شیعہ مکتب فکر کا موقف واضح کیا گیا۔ البتہ بعض علما نے اس کے تمام ابواب کے جواب میں ایک ہی کتاب لکھی جن میں سے علامہ سید محمّد کمال دہلوی ؒنے" نزھۃ اثنا عشریۃ" اور مرزا محمد ہادی رسواؒ نے اردو میں "تحفۃ السنۃ " لکھیں۔ اس طرح کی ڈھیروں کتابیں جنہوں نے فرقہ پرستی کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا مختلف مصنفین کی طرف سے لکھی گئیں۔

موجودہ دور میں جہاں مطالعہ انتہائی آسان اور عام ہو چکا ہے وہیں اکثر لوگ فرقوں اور مسالک سے بے بیزار ہوتے جا رہے ہیں جس کی بڑی وجہ کسی بھی فرقے یا مسلک کے علماء کا دوسرے فرقوں یا مسالک پر تنقید برائے تنقید اور اپنے مسلک یا فرقے کو ثابت کرنے کے لیے جھوٹے دلائل کا پیش کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیث فارمز سے کوئی نیا فرقہ پرست مشہور ہوتا ہے اور اس کے پیچھے ہزاروں کی تعداد میں اس کے فالوورز اسے ڈیفینڈ کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا فرقہ جنم لے رہا ہے۔

کچھ عرصہ تک تو مسلکی اختلافات صرف بحث و تمحیص اور نوک جھونک کی حد تک رہے لیکن پھر کچھ شدت پسند عناصر نے ان مسلکی اختلافات کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا جس کی بنیاد پر مختلف فرقوں یا مسالک میں ہاتھا پائی اور گالم گلوچ کا رواج عام ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ اہل عرب کی اسلام سے قبل والی حالت ہوگئی اور مسالک میں عربوں کی پہلی خاندانی دشمنی کی طرح مسلکی دشمنی کی بدولت قتل و غارتگری اور آخری حد تک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا۔ ان سب کی وجہ تاریخ اسلام میں من گھڑت کہانیوں اور قصوں سے شروع ہوئی جسے لوگوں اور مسلک کے ٹھیکیداروں نے ثابت کرنے کے لیے کمر کس لی اور اپنی اپنی فوج لے کر مسلکی منافرت کے میدان میں کود گئے۔ جس کے نتیجے میں مسلکی منافرت تو پھیلی ہی لیکن اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ مسلک میں شدت پسندی کا راستہ بھی کھل گیا۔ سب سے پہلے شاہ اسماعیل نے اپنی کتب میں اہل سنت کو عزاداری پر حملے کے لیے اکسایا اور کہا کہ تعزیہ توڑنے کا ثواب بت شکنی جیسا ہے۔ جس کے جواب میں اہل تشیع نے تبرا کا جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا لیکن سید دلدار علی نقوی نے انہیں اس کام سے روک دیا۔ لیکن ان عوامل کے باعث بر صغیر میں فکری و تحریری انتشار نے شدت پسندی کی طرف قدم بڑھا دیے۔

موجودہ دور میں شیعہ سنی فساد اور دونوں مکاتب فکر کے نظریات و عقائد میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور اس کی وجہ بنو امیہ کے مختلف ادوار یا ان کے حامی تاریخ دانوں کی حکام کی خوشامد اور چاپلوسی کے نتیجے میں لکھی گئی مختلف تاریخی کتب بھی ہیں۔ مثلاً تاریخ اسلام میں محمد بن قاسم کے کردار کو کچھ مصنفین نے اسلامی ہیرو کے طور پر متعارف کروا کر داد تحسین تو وصول کر لیا لیکن تاریخ کو اتنا غلط ملط کر دیا کہ اصل کہانی ہی منظر عام سے غائب ہو گئی۔ آج ایک فرقہ اس کہانی کو سچ ثابت کرنے اور دوسرا جھوٹ ثابت کرنے پر لڑ رہے ہیں۔ اسی طرح تاریخ اسلام میں بنو امیہ اور بنو حکم جیسے حکمرانوں کو بعض علمائے کرام اور مصنفین نے انتہائی قابل احترام و قابل ستائش ہستیاں بیان کرنے میں ایڑی چوٹی کا ذور لگا دیا جبکہ دوسری طرف دوسرے فرقے نے بنو امیہ اور بنو حکم کی غلط حکمتِ عملی اور جابرانہ نظام مملکت کے کردار کے ساتھ مرچ مصالحہ لگا کر جلتی پر تیل کا کام کیا جس کے نتیجے میں ایک نہ ختم ہونے والا محاذ گرم ہوگیا۔ ان سارے حقائق کی بنیاد پر سادہ لوح اور کم علم طبقہ بنا تحقیق و تفتیش کے دونوں گروہوں میں تقسیم ہوتا چلا گیا اور پھر ان سب نے بھیڑ چال کی طرح اپنے عقائد و نظریات کے پیشوا اور ٹھیکیداروں کو ہی سچ مان کر آپس میں دشمنیاں پال لیں۔

فرقوں یا مسالک میں نظریاتی اختلافات کی سب سے بڑی وجہ مختلف مکاتب فکر میں موجود وہ کم علم عالم ہیں جو صرف اپنے مسالک کی کتاب پڑھ کر اور اپنے پیشواؤں کو سن کر دوسرے مسالک پر چڑھ دوڑتے ہیں انہیں اپنے مسلک کے پیشواؤں کی لکھی ہر بات اتنی ہی سچ لگتی ہے جتنا اللہ کی کتاب یہانتک کہ بعض اوقات وہ اپنے مسلک پرست عالم کی قرآن مجید کے مقابلے میں لکھی بات کو بھی سچ ثابت کرنے کے لیے دلائل کے انبار لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں اکثر لوگ یہ بات جانتے بھی ہیں کہ جو بات قرآن و حدیث سے ٹکرا رہی ہے وہ غلط ہی ہے لیکن وہ پھر بھی حیلے بہانوں اور مکاری و عیاری سے مسلک پر آنچ نہیں آنے دیتے بلکہ اس بات کو ایک نئے معنی دے کر ثابت کرنے کی جستجو میں جت جاتے ہیں۔ اس تگ و دو میں اکثر لوگ کفریہ کلمات اور لعن طعن کا سہارا لیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں جس سے انتشار کی فضا معتدل ہونے کی بجائے مزید گرم ہونے لگتی ہے نتیجتاً مصالحت کے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔

فرقہ پرستی کو ہوا دینے میں ہر فرقے یا مسلک میں پائے جانے والے شدت پسند عناصر بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جن کی مثال اہل تشیع اور اہل سنت میں مختلف ادوار میں قتل ہونے والے مولوی اور ذاکرین ہیں۔ ان شدت پسند گروپس کی تربیت اس نہج پر کی جاتی ہے کہ وہ ایک کلمہ گو کو قتل کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ اس کے قتل کو جہاد اکبر سمجھتے ہیں جبکہ دوسری طرف مقتول کے مسلکی ورثاء مقتول کے قتل پر فخر محسوس کرتے اور اسے مجاہد قرار دیتے ہوئے اس کی مسند پر اپنے ایک اور مجاہد کو بٹھا دیتے ہیں۔ معاشرے میں ایسے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انہیں شہ دینے والے عناصر اپنے ان مجاہدین کی تربیت و تعلیم کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ان کی ہر طریقے سے حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

تاریخ اسلام میں سب سے زیادہ مسلکی و نظریاتی اختلافات اہل سنت اور اہل تشیع میں پائے جاتے ہیں لیکن موجودہ دور میں اہل سنت والجماعت کے مختلف گروہوں میں بھی ایسے اختلافات پروان چڑھتے جا رہے ہیں۔ اہل سنت والجماعت کے مختلف مکاتب فکر کے ان اختلافات اور نظریات کی بڑی وجہ مناظرات اور مختلف گروہوں کے درمیان ممبروں اور اسٹیجوں سے بیان بازیاں ہیں۔ اس کی مثال موجودہ دور میں محمد علی مرزا اور دیوبندی علماء کے بہت سے مجاہدین ہیں جو ایک دوسرے کو چیلنجز اور لعن طعن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس کے نتیجے میں دونوں طرف کے فالوورز اور معتقدین ہر میڈیم پر محاذ لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جس طرح ایک وقت میں اہل سنت اور اہل تشیع میں ہلکے پھلکے فقرات اور طنز و تشنیع سے شروع ہونے والا ٹاکرا ایک جنگ کا میدان بن گیا تھا اسی طرح آنے والے ادوار میں بریلوی ، دیوبندی، وہابی محاذ بھی گرم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ موجودہ فرقوں اور گروہوں سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں ان کے اپنے ہی عقائد و نظریات تقویت پا رہے ہیں اور یہ سب کچھ تہتر فرقوں والی حدیث کو پورا کرتا نظر آرہا ہے۔

ان سب وجوہات نے فرقہ وارانہ عقائد کو تقویت تو دی لیکن خوش قسمتی سے کسی بھی ملک میں اس کے اثرات اتنی شدت سے رونما نہیں ہوئے جتنی تباہی ان نظریات و افکار نے انڈیا اور پاکستان میں کی۔ ہندوستان اور پاکستان میں مسلک پرستی کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ان ممالک میں غیر اسلامی قوانین و ضوابط کا بھی ہے۔ باقی ممالک کے مقابلے میں ہمارے ممالک میں اسلامی قوانین کے نفاذ نہ ہونے کی وجہ انڈیا میں تو غیر مسلم حکومت اور پاکستان میں غیر اسلامی نظریات کے حامل حکمران ہیں، جنہیں دین کی الف ب بھی نہیں آتی اس کی ہزاروں مثالیں آئے روز سوشل میڈیا پر ہمارے حکمرانوں کی میمز دیکھ کر مل جائیں گی جس میں کسی کو کوئی سورہ باوجود کوشش کی پڑھی نہیں جاتی اور کوئی تو بسم اللّٰہ بھی پڑھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک کے حکمران اللہ ربّ العالمین سے کھلی جنگ کرنے کا اعلان سود پر قرض دینے کا اعلان کر کے کرتے ہیں۔ دین سے کوسوں دور ہونے کی وجہ سے ملک میں مسلکی منافرت اور آئے روز کے مذہبی عقائد و نظریات کی صورت میں پھیلے انتشار کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ جہاں ملک کے حکمرانوں کو دین سے رغبت اور اسلامی سوچ و فکر سے تعلق نہ ہو وہاں مذہبی و مسلکی اختلافات بنا کسی خوف و خطر کے معاشرے کو گندگی کا ڈھیر بنا سکتے ہیں۔ اگر ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہو جائے تو یہ مسلکی اختلافات اور نظریات کا ویسے ہی دم گھٹ جائے گا۔ جب کسی مناظرے یا تکرار یا پھر لعن تعن کا حساب حاکم وقت مانگے گا تو ان فرقہ پرست عناصر کی ہمت ٹوٹ جائے گی۔ جب کسی کلمہ گو کو بیچ چوراہے میں یا پھر بھرے مجمع میں یا گھر میں گھس کر قتل کیا جائے گا اور بدلے میں قاتل کو سرعام پھانسی ہوگی تو انتشار پھیلانے والوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ جب ایک اسلامی مملکت میں مذہبی حکمران برسر اقتدار ہوگا تو وہاں کسی مسلک کا نہیں بلکہ صرف اللہ کے دین اور شریعت محمدی کا نفاذ ہوگا۔

:خلاصہ تحقیق:

مسلکی منافرت اور اختلافات نے سب سے زیادہ برصغیر کو متاثر کیا ہے ان سب عقائد و نظریات کو برصغیر میں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں برصغیر سر فہرست ہے جہاں اتنے بڑے بڑے عالم و فاضل ہر گلی کی نکڑ پر مل جاتے ہیں، لیکن یہی سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ یہ عالم و فاضل طبقہ بنا کسی روک ٹوک کے آزادی سے اپنے افکار و نظریات کا پرچار کر رہا ہے۔ ایک عام انسان جس کی فکر دو وقت کی روٹی اور ذریعہ معاش دن بھر کی محنت و مشقت ہے وہ جب شام کو گھر جا کر ٹی وی آن کرتا ہے یا اپنے موبائل پر سوشل میڈیا کو کھولتا ہے تو ہر روز نئے عقائد و تعلیمات کا سامنا اسے دین سے ہی بیزار کر دیتا ہے۔ اور جو لوگ دن بھر سوشل میڈیا میں گھسے بیٹھے رہتے ہیں وہ ان اختلافات سے تنگ آکر کسی بھی راستے کا انتخاب نہیں کر پاتے اور اپنا ہی کوئی طریقہ یا عقیدہ وضع کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔

ان اختلافات اور مسلکی رشہ کشی کا یہ نقصان بھی ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب تک اسلام کی صحیح تعلیم و تصویر نہیں پہنچتی اور وہ اس انتشار کی فضاء کو دیکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے معاملے میں غلط تصورات پال لیتے ہیں۔ البتہ اس بات کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ غیر مسلم جو قرآن و حدیث اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی حیات طیبہ سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں وہ مسلمانوں کے بین المسالک انتشار کو دیکھ کر خود سے تحقیق و تفتیش کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں اکثر کامل و اکمل مومنین بن کر ابھرتے ہیں۔

ہم اس دور میں یہ بیڑا تو نہیں اٹھا سکتے کہ بین المسالک اتحاد و اتفاق کو تقویت دے سکیں لیکن کم سے کم اتنا ضرور کر سکتے ہیں کہ ہر باشعور انسان کو ایک فکر اور سوچ دے سکیں تاکہ وہ اپنی تحقیق و جستجو سے اصل دین کی لذت کو محسوس کر سکے۔

فما علینا الاالبلاغ المبین ۔