Showing posts with label حدیثِ قرطاس. Show all posts
Showing posts with label حدیثِ قرطاس. Show all posts

Tuesday, November 5, 2024

وراثت کے اصول اور اہل بیت علیہم السّلام

 وراثت کے اصول اور اہل بیت علیہم السّلام

انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی حدیث کا تحقیقی جائزہ

تحقیق و تصنیف: سید مسعود الرحمٰن بخاری

قرآن میں وراثت کے اصول کا بیان سوره النساء

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

سورہ نساء آیات 11-12

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ-فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًاؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(11)وَ  لَكُمْ  نِصْفُ  مَا  تَرَكَ  اَزْوَاجُكُمْ  اِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّهُنَّ  وَلَدٌۚ-فَاِنْ  كَانَ  لَهُنَّ  وَلَدٌ  فَلَكُمُ  الرُّبُعُ  مِمَّا  تَرَكْنَ  مِنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  یُّوْصِیْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-وَ  لَهُنَّ  الرُّبُعُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  اِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّكُمْ  وَلَدٌۚ-فَاِنْ  كَانَ  لَكُمْ  وَلَدٌ  فَلَهُنَّ  الثُّمُنُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  تُوْصُوْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-وَ  اِنْ  كَانَ  رَجُلٌ  یُّوْرَثُ  كَلٰلَةً  اَوِ  امْرَاَةٌ  وَّ  لَهٗۤ  اَخٌ  اَوْ  اُخْتٌ  فَلِكُلِّ  وَاحِدٍ  مِّنْهُمَا  السُّدُسُۚ-فَاِنْ  كَانُوْۤا  اَكْثَرَ  مِنْ  ذٰلِكَ  فَهُمْ  شُرَكَآءُ  فِی  الثُّلُثِ  مِنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  یُّوْصٰى  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍۙ-غَیْرَ  مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً  مِّنَ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  عَلِیْمٌ  حَلِیْمٌﭤ(12)

ترجمہ: کنزالعرفان

اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا حصہ ہے اوراگر میت کی اولاد ہوتو میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے ترکے سے چھٹا حصہ ہوگا پھر اگرمیت کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کے لئے تہا ئی حصہ ہے پھر اگر اس (میت) کے کئی بہن بھا ئی ہو ں توماں کا چھٹا حصہ ہوگا، (یہ سب احکام) اس وصیت (کو پورا کرنے) کے بعد (ہوں گے) جو وہ (فوت ہونے والا) کرگیا اور قرض (کی ادائیگی ) کے بعد (ہوں گے۔) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ ان میں کون تمہیں زیادہ نفع دے گا، (یہ) اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصہ ہے۔ بیشک اللہ بڑے علم والا، حکمت والا ہے۔ اور تمہاری بیویاں جو (مال) چھوڑ جائیں اگر ان کی اولاد نہ ہو تواس میں سے تمہارے لئے آدھا حصہ ہے، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے ۔(یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو انہوں نے کی ہو اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے) اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو توتمہارے ترکہ میں سے عورتوں کے لئے چوتھائی حصہ ہے، پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے (یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو وصیت تم کر جاؤ اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے۔) اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ تقسیم کیا جانا ہو جس نے ماں باپ اور اولاد (میں سے ) کوئی نہ چھوڑا اور (صرف) ماں کی طرف سے اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہوگا پھر اگر وہ (ماں کی طرف والے) بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہوں گے (یہ دونوں صورتیں بھی) میت کی اس وصیت اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد ہوں گی جس (وصیت) میں اس نے (ورثاء کو) نقصان نہ پہنچایا ہو ۔یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے اور اللہ بڑے علم والا، بڑے حلم والا ہے۔


مقدمہ وراثت:

اللہ ربّ العزّت نے قرآن مجید فرقان حمید میں وراثت کے اصول تفصیلاً بیان فرما کر قیامت تک کے لیے مرنے والے اور اس کے رشتہ داروں کے لیے آسانیاں عطا فرما دیں۔

اللہ ربّ العالمین نے ان آیات میں صرف ایک سہولت دی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی جائیداد کے بارے میں وصیت کرتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے کسی رشتہ دار کے ساتھ وصیت میں ناانصافی یا حق تلفی نہیں کرتا تو ان احکامات میں کچھ حد تک تبدیلی ممکن ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی ایک فرد یا چند افراد کو نواز کر اپنے کسی رشتہ دار کی حق تلفی کرتا ہے تو اس کی وصیت کی کوئی اہمیت نہیں پھر وراثت کی تقسیم من و عن قرآن کریم کے احکامات کی روشنی میں کی جائے گی۔


بہرحال یہ ایک طویل بحث ہے جس میں ہم اپنے موضوع کی قربانی سے گریز کرتے ہوئے اصل مقصد کی جانب آتے ہیں۔ زیر موضوع بحث میں ہم یہ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ اللہ ربّ العزّت کے احکامات اور قانون وراثت سے اہل بیت علیہم السّلام کیوں مستفید نہیں ہو سکے۔


اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی اظہارِ نبوت سے پہلے کی چالیس سالہ زندگی لے لیں یا پھر نبوت کے اظہار کے بعد والی زندگی تاریخ گواہ ہے کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کا ہر عمل حکم الٰہی اور نگرانی میں سرانجام پایا ہے اور اس بات سے کسی مسلمان و مومن کو انکار نہیں کہ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل حیات ہمارے لیے بہترین نمونہ اور راہ ہدایت ہے۔


نبوت کے اظہار کے بعد بھی اللہ ربّ العالمین نے قرآن حکیم کو یک بارگی نہیں نازل کیا بلکہ جہاں بھی کسی قسم کا کوئی مسئلہ زیر بحث آیا یا کسی سائل نے معاشرتی، معاشی یا سیاسی اور کسی قسم کا بھی کوئی سوال کیا اللہ ربّ العزّت نے اس کے لیے حکم یا نصیحت کے لیے احکامات کا نزول فرما دیا۔ زندگی کے ہر شعبے کے ساتھ ساتھ وراثت کے اصول بھی اللہ ربّ العزّت نے قرآن مجید فرقان حمید میں خوبصورتی سے بیان کر دیے اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت و رہنمائی کا تعین کر دیا۔


اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ وحی کی صورت میں اللہ ربّ العزّت کے ہر حکم کے مخاطب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ وراثت کے اصول و قوانین کے احکامات بھی ہمیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں لیکن اللہ ربّ العزّت نے کسی آیہ کریمہ میں وراثت کے ان قوانین سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو الگ نہیں کیا بلکہ تمام احکاماتِ الٰہی کی طرح وراثت کے اصول بھی سب سے پہلے بیان کرنے والے پر لاگو ہوئے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کا کوئی اتنا اہم اور ضروری حکم ہو اور وہ اللہ کے نبی پر لاگو نہ ہو۔ اور اللہ کیسے اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو اپنے کسی حکم سے محروم رکھ کر انہیں مشعل راہ بناتا جبکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کو اللہ ربّ العالمین نے زندگی کے ہر شعبہ میں ایک نمونہ اور مثال بنا کر پیش کیا۔ اگر اللہ ربّ العزّت کو نبی علیہ السّلام کو وراثت سے الگ کرنا ہوتا تو واضح حکم ہوتا کہ اے ایمان والو وراثت کے یہ اصول صرف امت پر لاگو ہونگے چونکہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی اس لیے انہیں اس سے علیحدہ رکھا جا رہا ہے۔


وراثت کے اصول و قوانین پر تحقیق کے دواران ہمیں ایک بات عجیب سی محسوس ہوئی کہ اہل بیت علیہم السّلام کو قرآن حکیم کے اس بنیادی اور اہم حکم اور وراثت کے حقوق سے محروم رکھا گیا۔ عجیب و غریب بات ہے کہ اگر ایک شخص وفات پا جائے تو اس کی اولاد کو اس کے ترکہ میں سے کچھ حصہ نہ دیا جائے بلکہ انہیں باپ کی وفات کے بعد حکم دیا جائے کہ چلو بھائی آپ کے والد وفات پا گئے ہیں اب آپ کا یہاں کوئی کام نہیں یہ گھر خالی کرو اور باہر کھلے آسمان تلے چلے جاؤ اپنے رہنے کے لیے کوئی اور چھت اور کھیتی کے لیے کوئی اور کھیت تلاش کرو۔


یہاں ایک سوال ذہن نشین رہے کہ وراثت کے قرآنی اصول و قوانین میں یہ ہرگز درج نہیں ہے کہ کوئی بیٹی یا بیٹا اگر شادی شدہ ہے اور الگ گھر میں رہتا ہے تو اسے وراثت میں حصہ نہیں ملے گا۔ 


وراثت اور فاطمہ و اہل بیت علیہم السلام 

یہاں ہم اپنے اصل متن کی طرف بڑھنے سے پہلے جنابِ فاطمہ سلام اللہ علیھا  اور حضرت عباس علیہ السلام کے وراثت کے مطالبے کا متن زیرِ نظر لائیں گے تاکہ واقعہ کی نزاکت و اہمیت کو بہتر ظور پر زیر بحث لایا جا سکے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ: مَنْ يَرِثُكَ؟ فَقَالَ: أَهْلِي وَوَلَدِي، فَقَالَتْ: مَا لِي لَا أَرِثُ أَبِي؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا نُورَثُ» ، وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں اور فرمانے لگیں: آپ کا وارث کون بنے گا؟ انہوں نے فرمایا: میرے اہل اور اولاد۔ فرمانے لگیں: تو پھر میں اپنے باپ کی وارث کیوں نہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ” ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔“ لیکن میں ان کی کفالت کروں گا جن کی کفالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے اور میں اس پر خرچ کروں گا جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خرچ کیا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 401]

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنده حسن» ‏‏‏‏ :

«(سنن ترمذي: 1608، وقال: حسن غريب)، مسند احمد (13/1)»


اس حدیث میں جو متن بیان کیا گیا ہے وہ انتہائی دکھ دہ ہے کہ ابو بکر رضی اللہ اپنی وراثت کی تو تقسیم کے حق میں ہیں لیکن اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وراثت سے ہی انکار کر رہے ہیں۔  پھر یہ بھی کہا کہ میں کفالت کروں گا یعنی بحیثیت حکمران اور رعایا میں کفالت تو کرونگا لیکن وراثت تقسیم نہیں کر سکتا۔


یہی حدیث دوسری روایت سے اس طرح بیان کی گئی ہے۔


حدثنا عبد الله بن محمد حدثنا هشام أخبرنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة أن فاطمة والعباس عليهما السلام أتيا أبا بکر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلی الله عليه وسلم وهما حينئذ يطلبان أرضيهما من فدک وسهمهما من خيبر فقال لهما أبو بکر سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول لا نورث ما ترکنا صدقة إنما يأکل آل محمد من هذا المال قال أبو بکر والله لا أدع أمرا رأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته قال فهجرته فاطمة فلم تکلمه حتی ماتت ۔(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1645 ،- فرائض کی تعلیم کا بیان)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رسول اللہ کے (ترکہ میں سے) اپنے میراث مانگنے آئے اور وہ دونوں اس وقت فدک کی زمین اور خیبر کی زمین سے اپنا حصہ وصول کر رہے تھے تو ان دونوں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے صرف اس مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھائیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا خدا کی قسم میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کو نہیں چھوڑتا ہوں چنانچہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور ان سے گفتگو چھوڑ دی یہاں تک کہ وفات پاگئیں۔

 اس روایت میں جو بیان وارد ہوا ہے اس کے مطابق ابو بکر رضی اللہ اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اہل بیت علیہم السّلام اس مال میں سے کھائیں گے لیکن چونکہ انبیاء کے ورثاء نہیں ہوتے اس لیے جائیداد تقسیم نہیں ہوگی۔


صحت حدیث لا نورث ما ترکنا صدقة

ان روایات میں ابو بکر صدیق رضی اللہ نے جو کلمات ادا کیے وہ صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وراثت سے مراد نہیں تھے بلکہ یہاں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ انبیاء کے وارث نہیں ہوتے یا جو وراثت ہوتی ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔ (گزشتہ حدیث لا نورث ما ترکنا صدقة)


ان روایات کو پڑھنے کے بعد اگر اس روایت کی صحت کو دیکھیں تو یہ وہ واحد حدیث یا قول نبی ہے جو ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی صحابی کو معلوم نہیں تھا۔ حالانکہ اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے واضح فرمایا تھا کہ میں علم کا شہر اور علی علیہ السّلام اس کا دروازہ ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم جنہوں نے مولا علی علیہ السّلام کو زندگی کے کسی بھی شعبہ کی تعلیم سے محروم نہیں رکھا لیکن اتنے اہم مسئلے کو بیان نہیں کیا۔


مولا علی علیہ السّلام کے بعد حضرت حذیفہ رضی اللہ کو رازداران رسول کا خطاب ملا لیکن عجیب اتفاق ہے کہ یہ حدیث انہوں نے بھی بیان نہیں کی۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللّٰہ خود فرماتی ہیں کہ ازواجِ مطہرات کا ارادہ تھا کہ وہ وراثت کا مطالبہ کریں لیکن فاطمہ سلام اللہ علیہا نے پہل کی اور ان کے ساتھ ہوئے سلوک کی وجہ سے انہوں نے ارادہ ترک کر دیا اس کا مطلب ہے ازواجِ مطہرات کو بھی یہ حدیث معلوم نہیں تھی۔


اس روایت کی صحت انتہائی کمزور ہو جاتی ہے جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللّٰہ نے کہا کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے انہوں نے سنا کہ (لا نورث ما ترکنا صدقة) انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا اور وہ جو مال چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔


جب ہم نے تاریخ اسلام سے پہلے کی تواریخ پر نظر دوڑائی تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ روایت پرانی تواریخ سے بھی ٹکرا رہی ہے جس کی وجہ سے اس کی صداقت پر شکوک میں مزید اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ گزشتہ انبیاء کرام علیہم السّلام کے ورثاء بھی تھے اور انہوں نے اس وقت کے قوانین یا اپنی وصیت کے مطابق اپنی اولاد کو وراثت بھی تقسیم کی ہے۔


وراثت اور ورثاء سابقہ ادیان میں

ملاحظہ ہوں تورات کے مختلف مضامین اور اسباق ۔

Job 42

New International Version Job:  13 And he also had seven sons and three daughters. 14 The first daughter he named Jemimah, the second Keziah, and the third Keren-Happuch. 15 Nowhere in all the land were there found women as beautiful as Job’s daughters, and their father granted them an inheritance along with their brothers.

ایّوب 42: 13

اُسکے سات بیٹے اور تین بیٹیاں بھی ہُوئیں ۔

ایّوب 42: 14

اور اُس نے پہلی کا نام یمیمہ ؔ اور دوسری کانام قصیاہؔ اور تیسری کانام قرہُپّوکؔ رکھا ۔

ایّوب 42: 15

اور اُس ساری سرزمین میں اَیسی عورتیں کہیں نہ تھیں جو ایوبؔ کی بیٹیوں کی طرح خوبصورت ہوں اور اُنکے باپ نے اُنکو اُنکے بھائیوں کے درمیان میراث دی۔

Manasseh and Ephraim

 3 Jacob, said to Joseph, “God Almighty appeared to me at Luz in the land of Canaan, and there he blessed me 4 and said to me, ‘I am going to make you fruitful and increase your numbers. I will make you a community of peoples, and I will give this land as an everlasting possession to your descendants after you.’

5 “Now then, your two sons born to you in Egypt before I came to you here will be reckoned as mine; Ephraim and Manasseh will be mine, just as Reuben and Simeon are mine. 6 Any children born to you after them will be yours; in the territory they inherit they will be reckoned under the names of their brothers. 7 As I was returning from Paddan, to my sorrow Rachel died in the land of Canaan while we were still on the way, a little distance from Ephrath. So I buried her there beside the road to Ephrath” (that is, Bethlehem).

21 Then Israel said to Joseph, “I am about to die, but God will be with you and take you back to the land of your fathers. 22 And to you, I give you one more ridge of land than to your brothers, the ridge I took from the Amorites with my sword and bow.” 

The Death of Jacob

29 Then he gave them these instructions: “I am about to be gathered to my people. Bury me with my fathers in the cave in the field of Ephron the Hittite, 30 the cave in the field of Machpelah, near Mamre in Canaan, which Abraham bought along with the field as a burial place from Ephron the Hittite. 31 There Abraham and his wife Sarah were buried, Isaac and his wife Rebekah were buried, and I buried Leah. 32 The field and the cave were bought from the Hittites.”

**ترجمہ اردو:**


**منسّی اور افرائیم**

48 کچھ وقت بعد یوسف کو اطلاع ملی کہ "تمہارے والد بیمار ہیں"۔ اس پر وہ اپنے دونوں بیٹوں منسّی اور افرائیم کو ساتھ لے کر وہاں گئے۔ 2 جب یعقوب کو بتایا گیا کہ "تمہارا بیٹا یوسف تم سے ملنے آیا ہے"، تو اسرائیل نے اپنی طاقت جمع کی اور بستر پر بیٹھ گئے۔


3 یعقوب نے یوسف سے کہا، "قادرِ مطلق خدا نے مجھے کنعان کے علاقے میں لوز کے مقام پر ظاہر ہو کر مجھے برکت دی 4 اور فرمایا، 'میں تمہیں بڑھاؤں گا اور تمہاری تعداد میں اضافہ کروں گا۔ میں تمہیں قوموں کی جماعت بناؤں گا اور یہ زمین تمہاری نسل کے لیے ہمیشہ کے لیے وراثت میں دوں گا۔'


5 "اب تمہارے وہ دو بیٹے جو مصر میں تمہارے یہاں میرے آنے سے پہلے پیدا ہوئے، وہ میرے کہلائیں گے؛ افرائیم اور منسّی میرے ہوں گے، جیسے روبن اور شمعون میرے ہیں۔ 6 تمہارے بعد کے بیٹے تمہارے کہلائیں گے اور انہیں اپنی جگہ اپنے بھائیوں کے نام سے وراثت ملے گی۔ 7 جب میں پدّان سے واپس آ رہا تھا تو راحیل میرے غم میں کنعان کی سرزمین میں انتقال کر گئیں جبکہ ہم افرا کے قریب تھے۔ میں نے انہیں وہاں راستے میں دفن کیا" (جو کہ بیت لحم ہے)۔


21 تب اسرائیل نے یوسف سے کہا، "میری موت قریب ہے، لیکن خدا تمہارے ساتھ رہے گا اور تمہیں تمہارے آبا کی سرزمین پر واپس لے جائے گا۔ 22 اور میں تمہیں تمہارے بھائیوں سے ایک اضافی حصہ دیتا ہوں، وہ حصہ جو میں نے اپنے تلوار اور تیر سے اموریوں سے لیا تھا۔"



**یعقوب کی وفات**

29 تب یعقوب نے انہیں یہ ہدایت دی: "میں اپنے لوگوں کے ساتھ ملنے جا رہا ہوں۔ مجھے اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ دفن کرنا، اس غار میں جو افرون حِتی کے میدان میں ہے، 30 مَمری کے نزدیک مَکپیلہ کے میدان میں وہ غار جسے افرون حِتی سے دفن کی جگہ کے لیے ابراہیم نے خریدا تھا۔ 31 وہاں ابراہیم اور اس کی بیوی سارہ کو دفن کیا گیا، وہاں اسحاق اور اس کی بیوی ربقہ کو دفن کیا گیا، اور میں نے وہاں لیاہ کو دفن کیا۔ 32 میدان اور اس کی غار حِتیوں سے خریدی گئی۔"


Genesis 15:2-3 (NIV):

But Abram said, ‘Sovereign Lord, what can you give me since I remain childless and the one who will inherit my estate is Eliezer of Damascus?’ And Abram said, ‘You have given me no children; so a servant in my household will be my heir.

God’s Promise:

 God then reassures Abraham that his heir will not be Eliezer but rather his biological son. This promise is fundamental as it establishes Isaac as the true heir of Abraham's covenant and inheritance.

Genesis 15:4 (NIV):

 “Then the word of the Lord came to him: ‘This man will not be your heir, but a son who is your flesh and blood will be your heir

Genesis 25:5-6 NIV

"Abraham left everything he owned to Isaac. But while he was still living, he gave gifts to the sons of his concubines and sent them away from his son Isaac to the land of the east."

This distribution reflects Abraham’s following of God’s covenant, which designated Isaac as the son through whom the primary promises and blessings would continue, as seen in earlier chapters (e.g., Genesis 17:19-21).


**پیدائش 15:2-3 (NIV)**:

"لیکن ابرام نے کہا، 'اے خداوند، تو مجھے کیا دے گا، جب کہ میں بے اولاد ہوں اور جو میری جاگیر کا وارث ہوگا، وہ دمشق کا الیعزر ہے؟' اور ابراہیم نے کہا، 'تو نے مجھے کوئی اولاد نہیں دی؛ اس لیے میرے گھر کا ایک غلام میرا وارث ہوگا۔'"


**خدا کا وعدہ**: پھر خدا نے ابراہیم کو یقین دلایا کہ اس کا وارث الیعزر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا اپنا بیٹا ہوگا۔ یہ وعدہ اس لحاظ سے بنیادی ہے کہ یہ اسحاق کو ابراہیم کے عہد اور وراثت کا حقیقی وارث قرار دیتا ہے۔


**پیدائش 15:4 (NIV)**:

"تب خداوند کا کلام اس کے پاس آیا: 'یہ شخص تیرا وارث نہیں ہوگا، بلکہ ایک بیٹا جو تیرا اپنا flesh اور خون ہوگا، تیرا وارث ہوگا۔'"


اسکے علاوہ حضرت داؤد علیہ السّلام نے حضرت سلیمان علیہ السّلام کو خلعت و حکومت وراثت میں عطا کی تھی اس پر اہل سنت یہ اعتراض کرتے ہیں داؤد علیہ السّلام کی کثیر التعداد اولاد تھی جن میں سے صرف حضرت سلیمان علیہ السّلام کو ہی کیوں وراثت ملی اس لیے اس واقعے کو ہم نے حوالے کے بنا صرف زبانی بیان کیا ہے۔


حاصلِ بحث حق وراثت 

تورات کے ان مضامین سے ہم اس ںتیجے پر پہنچے ہیں کہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کے مطالبہ وراثت کے موقع پر جو روایت بیان کی گئی ہے وہ مشکوک ہے جس کا نہ تو قرآن و حدیث اور نہ ہی سابقہ انبیاء کرام علیہم السّلام کے طرز عمل سے کوئی ثبوت ملتا ہے۔ جبکہ ہمیں تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ عمر بن عبدالعزیزجو کہ بنو امیہ کے دور حکومت کے اواخر میں مسند مملکت پر بیٹھے تو انہوں نے اہل بیت علیہم السّلام کو بلا کر جاگیر فدک اور خیبر کی زمینیں ان کی تصرف میں دینے کا فیصلہ کیا جو کہ ایک اموی حکمران سے ایسا عمل سرذد ہونے پر ایک دلیل ہے کہ ان سے پہلے حکمرانوں نے اہل بیت علیہم السّلام کو وراثت سے جان بوجھ کر محروم رکھا ۔


اس روایت کا رد ایک حدیثِ مبارکہ سے بھی ہوتا ہے جس میں اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر مآل فے کا ذکر کیا ہے جو کہ اللہ ربّ العالمین نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے لیے مختص کر دیا تھا۔


حضرت عثمان رضی اللہ نے اس مال فے یعنی خیبر کی کچھ زمینوں کو اور فدک کی زمین کو مروان بن حکم کی دسترس میں دے دیا تھا جسے مروان بن حکم نے اپنی عیاشیوں پر خرچ کو اپنا حق سمجھ لیا تھا۔


 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏أخبرنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ ؟،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِذَنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَلْقَاكَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَلْحَقَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي . (سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4759)


  حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے بعد تمہارا کیا حال ہو گا جبکہ امام ( خلیفہ ) اس مال فے اور غنیمت کو ذاتی مال سمجھیں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ‘ تب تو میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور اس سے ماروں گا حتیٰ کہ آپ سے آ ملوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتا دوں ؟ صبر کرنا حتیٰ کہ مجھ سے آ ملو۔


یہی وہ صبر کی تلقین ہے جو کہ مولا علی علیہ السّلام کو بھی یقیناً کی گئی تھی یہی وجہ ہے کہ آج جہلاء یہ سوال کرتے ہیں کہ مولا علی علیہ السّلام نے حق وراثت کے لیے تلوار کیوں نہ اٹھائی یا اپنے دور خلافت میں وراثت کیوں نہ لی۔ جبکہ مولا علی علیہ السّلام کو یہ معلوم تھا کہ روز قیامت وہ جنت کے سرداروں سے بھی افضل ہونگے تو دنیاوی خلعت و حکومت دنیا والوں کے لیے ہی رینے دی جائے۔


یہاں ہم حدیثِ قرطاس کا ذکر بھی ضروری سمجھتے ہیں جسے اہل سنت اور اہل تشیع دونوں نے ذور و شور سے بیان کیا ہے لیکن اس حدیث کے بیان میں ایک اہم نقطہء دونوں مکاتب فکر نے نظر انداز کر دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنی آخری بیماری کے دوران کاغذ اور قلم کیوں مانگا؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کیا وصیت لکھنا چاہتے تھے؟ یہ وہ سوالات تھے جن پر سیر حاصل بحث ہو چکی ہے اور ہر مکتبہ فکر نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے لیکن ہم اس بحث میں ایک اہم نقطے کو زیر بحث لائیں گے۔


حدیثِ قرطاس اور اس کا مفہوم:

سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

لَمَّا حُضِرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَفِی البَیْتِ رِجَالٌ فِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، قَالَ: ہَلُمَّ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَلَبَہُ الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمُ القُرْآنُ فَحَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ، وَاخْتَلَفَ أَہْلُ البَیْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ: قَرِّبُوا یَکْتُبْ لَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَکْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلاَفَ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُومُوا عَنِّی .

''نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت ہوا تو اس وقت گھرمیں کچھ صحابہ موجودتھے ، ایک عمر بن خطاب بھی تھے ، آپ نے فرمایا: قلم کاغذ لائیں ،میں تحریر کر دوں ، جس کے بعد آپ ہر گز نہ بھولوگے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں ہیں اور قرآن موجود ہے ، لہٰذا ہمیں قرآن و حدیث ہی کافی ہے ۔ گھر میں موجود صحابہ نے اس میں اختلاف کیا اور بحث مباحثہ ہونے لگا ، کچھ کہہ رہے تھے کہ (قلم کاغذ)دیں ، آپ تحریر فرما دیں ،جس کے بعد آپ ہر گز نہیں بھولیں گے ،کچھ کہہ رہے تھے،رہنے دیجئے آپ تکلیف میں ہیں۔اختلاف شدت اختیار کر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے پاس سے اُٹھ جائیں۔ ''

(صحیح البخاری :7366، صحیح مسلم :1637)

2 ایک روایت ہے :

ائْتُونِی بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاۃِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاۃِ - أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ أَبَدًا ، فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَہْجُرُ .

'' ہڈی اوردوات یا تختی اوردوات لائیں ،میں تحریر کر دیتا ہوں تاکہ اس کے بعد آپ نہ بھولیں ،صحابہ نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض موت میں تکلیف کی شدت سے تو ہر گز نہیں کہہ رہے۔''

(صحیح البخاری :4431، صحیح مسلم :1637)

3 سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جمعرات کا دن کتنا پریشان کن تھا،آپ روتے ہوئے فرما رہے تھے:

اشتد برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وجعہ، فقال: ائتونی أکتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ أبدا، فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازع، فقالوا: ما شأنہ، أہجر استفہموہ؟ فذہبوا یردون علیہ، فقال: دعونی، فالذی أنا فیہ خیر مما تدعونی إلیہ .

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرمرض موت کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تھی،آپ نے فرمایا:میرے پاس کچھ لاؤ میں تحریر کر دیتا ہوں ،جس کے بعد کبھی نہیں بھولو گے،صحابہ نے آپس میں اختلاف کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں باہمی اختلاف مناسب نہیں تھا،صحابہ کہنے لگے ؛آپ کو کیا معاملہ درپیش ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات شدت تکلیف کی بنا پر تو ہر گز نہیں ہے،اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے،صحابہ آپ کو باربار لکھنے کا کہہ رہے تھے،تو فرمایا؛''مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں ،آپ جو مجھے لکھنے کا کہہ رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ نہ لکھنا ہی بہتر ہے۔''

(صحیح البخاري : 4431، صحیح مسلم : 1637)


سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

إِنَّ الرَّزِیَّۃَ کُلَّ الرَّزِیَّۃِ مَا حَالَ بَیْنَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَیْنَ أَنْ یَکْتُبَ لَہُمْ ذٰلِکَ الکِتَابَ مِنَ اخْتِلاَفِہِمْ وَلَغَطِہِمْ .

''بہت بڑی مصیبت تب واقع ہوئی جب صحابہ میں اختلاف اور شورہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔''(صحیح البخاری :7366، صحیح مسلم :1637)


حدیثِ قرطاس کی مختلف روایات اور اس کی تشریحات سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہے وہ ہر گز اپنے بعد فقط خلافت کا نظر نہیں آتا اور اگر کچھ اہتمال ہو بھی تو یہ اس قدر اختلافی مسئلہ نہیں تھا جس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو وصیت کی ضرورت پیش آتی کیونکہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی میں بہت بار مولا علی علیہ السّلام کو اپنا جانشین، وصی، مثل ہارون یعنی معاون اور تمام مسلمانوں کا مولا قرار دے چکے تھے اور اہل سنت کے مطابق آخری ایام میں ابو بکر رضی اللہ کو مصلے پر بٹھا کر خلافت کا اعلان کر دیا تھا۔


حدیثِ قرطاس کے مطالعے میں ہم با آسانی اس کے مفہوم تک پہنچ جاتے ہیں کہ اس میں لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ کا فقرہ ہر حدیث میں اپنے معنی کے ساتھ موجود ہے اور کسی حدیث میں بھی ان الفاظ کو بدلنے یا نظر انداز کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ یعنی تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جاو کو اردو میں ترجمہ کے دوران تم میرے بعد بھول نہ جاؤ بھی لکھا گیا ہے جو کہ عربی ترجمہ کے لحاظ سے درست نہیں لیکن قریب ترین ہونے کی وجہ سے قابل قبول ہے۔ اگر ہم "بھول نہ جاؤ" اور گمراہ نہ ہو جاؤ" دونوں پر ہی بحث کریں تو ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کون سا کام بھول جانے والا تھا یا کس کام سے گمراہی کا خدشہ تھا جس کی وصیت کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر لکھنا چاہتے تھے۔

خلافت کا معاملہ ایسا نہیں تھا جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات

کے فوراً بعد ہی بھول جانے کا اہتمال ہو۔ البتہ عربی لغت کے اعتبار سے گمراہ ہونے

والا عنصر اس میں شامل تھا۔ لیکن اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس

بات کا خدشہ ہوتا تو وہ ہر صورت خلیفہ مقرر کر دیتے اس کے لیے وصیت لکھنا

ضروری نہیں تھا۔

مزید ایسا کام جو بھول جانے والا یا جس کے نہ کرنے سے گمراہی کا امکان ہو
نماز، روزہ، زکوٰۃ ،حج ہو سکتا تھا لیکن قریب ترین خطبہ حجتہ الوداع میں نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے تمام ارکان اسلام اور قوانین و
ضوابط کو اس خوبی سے بیان کیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ جو موجود
ہیں وہ غیر موجود تک یہ پیغام پہنچا دیں۔ اس لیے یہ وصیت یقیناً ان احکامات
کے لیے بھی نہیں ہو سکتی تھی۔
اس کے علاوہ بھول جانے یا گمراہ ہونے والے کاموں میں اطیع اللّہ واطیع الرسول
سے رو گردانی تھا جس کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی مکمل
حیات طیبہ اور قرآن مجید فرقان حمید کی صورت میں راہ ہدایت موجود تھی
جس کی بنا پر عمر رضی اللہ نے کہا تھا کہ ہمارے لیے قرآن و حدیث کافی ہے اس
کا مطلب یہ وصیت یقینی طور پر اس کے لیے بھی نہیں تھی۔
نتیجتاً دین کا کوئی بھی ایسا معاملہ اس وصیت میں نظر نہیں آتا جس کے لیے
وصیت کی ضرورت پیش آتی اور پھر ایسا معاملہ ہوتا تو یہ ممکن ہی نہیں تھا
کہ اصحابِ رسول کے شورو غل اور اونچا بولنے کی وجہ سے نبی کریم صلی
اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم وصیت کا ارادہ ہی ترک کر دیتے۔ کیونکہ نبی کریم صلی
اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو کوئی خوف نہیں تھا اور نہ ہی وہ کوئی بھی ایسی بات
جس سے ان کی امت کی گمراہی یا جہنم میں جانے کا اہتمال ہوتا ترک کر سکتے
تھے۔ جو نبی کفار کی تلواروں اور تیروں کی برسات میں حق بات کہنے سے نہیں
چوکے وہ صحابہ کے اختلافی شور کی وجہ سے ایک ایسی نصیحت جو دین کا
حصہ ہوتی اور امت کو گمراہی سے بچا سکتی تھی سے کیسے پیچھے ہٹ سکتے
تھے۔ جبکہ خطبہ حجتہ الوداع میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے یہ لبیک کہلوا چکے تھے کہ
میں نے تم تک دین کی ہر بات پہنچا دی اور اللہ ربّ العزّت نے بھی الیوم اکملت لکم
دینکم والی آیہ کریمہ میں اس بات کا اقرار کر دیا تھا کہ اب دین مکمل ہو چکا ہے۔

حدیثِ قرطاس میں یقیناً نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اپنے اہل بیت علیہم
السّلام کے لیے وصیت کرنا چاہتے تھے کیونکہ یہی ایک ایسا معاملہ تھا جو دنیاوی
تھا اور جس کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے چھپے لفظوں میں تو
خطبہ حجتہ الوداع میں بھی فرمایا تھا کہ میں تمہیں اپنے اہل بیت علیہم السلام کے معاملہ میں اللّٰہ
کا خوف دلاتا ہوں اور پھر مولا علی علیہ السّلام کو سب کا مولا بھی بنایا تاکہ لوگ
ان کی رحلت کے بعد مولا علی علیہ السّلام اور اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ
ویسا ہی رویہ رکھیں جو ان کی حیات میں رکھتے ہیں۔ لیکن حیاء کی وجہ سے
وہ اپنے اہل بیت علیہم السّلام کے لیے کسی دنیاوی منفعت سے مستفید ہونے کی
تلقین نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن انہیں اس بات کا ادارک تھا کہ ان کے بعد اہل بیت
علیہم السّلام کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نبی مکرم
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم صحابہ کے شورو غل کی وجہ سے بے زاری کا اظہار کرتے
ہوئے یہ ارادہ ترک کر دیا۔

اس بحث سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اہل بیت علیہم السّلام  کے معاملے میں نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے شکوک وشبہات صحیح تھے کیونکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وفات کے فوراً بعد ہی اہل بیت علیہم السّلام کو امت محمدیہ نے مشق ستم بنا لیا تھا یہاں تک کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی اولاد کو نہر فرات کے کنارے ذبح کر دیا گیا اور فاتحانہ اعلان کیا گیا کہ آج ہم نے احد کا بدلہ لے لیا۔ تاریخ اسلام اور تمام ادیان کی تواریخ میں اس طرح کے کسی مظلوم نبی علیہ السلام کی مثال نہیں ملتی جس طرح کا سلوک احمد بن عبداللہ علیہ السلام کی امت نے اپنے نبی اور ان کی اولاد کے ساتھ کیا۔


اس بیان کی تصدیق کے لیے حدیثِ قرطاس سے شروع کریں اور پھر تاریخی جنگیں جمل و صفین و نہروان اور پھر میدان کرب و بلا تک امت محمدیہ کا کرادر اتنا بدبودار اور نفرت انگیز نظر آتا ہے کہ غیر مسلم بھی ان کے ایسے کردار پر لعنت و ملامت کرتے نظر آتے ہیں۔ 


کچھ اہل ذوق نے وراثت انبیاء پر انبیاء کی وراثت علم ہے اور علماء انبیاء کے حقیقی وارث ہیں والی حدیث کا سہارا لیا ہے تو ان حضرات کے لیے یہی مثال کافی ہے کہ اگر نبی کے وارث عالم ہیں تو یہ وراثت فاطمہ سلام اللہ علیھا سے منتقل ہو کر مولا علی علیہ السّلام کی طرف منسوب ہو جاتی ہے کیونکہ مولا علی علیہ السّلام سے بڑا عالم کون تھا پھر وراثت میں ہی سہی انہیں مسند خلافت پر کیوں نہ بٹھایا گیا۔ جبکہ اس بات کی تاریخ  گواہ ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے بعد علم کے سب سے اونچے مقام پر تھے۔ جن سے خود ابو بکر اور عمر و عثمان رضوان اللہ بھی مسائل و معاملات میں مشاورت کرتے رہے۔ مولا علی علیہ السّلام کے علم و عرفان اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی تربیت و پرورش پر ہر مکتبہ فکر متفق ہے اس لیے اگر وراثت انبیاء کا معاملہ علم کی حد تک محدود ہوتا تو بلاشبہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وراثت کے اصل اور اول حقدار مولا علی علیہ السّلام ہی تھے۔


لیکن وراثت انبیاء جس طرح سابقہ ادیان میں ثابت ہوتا ہے کہ جائیداد ہی تھی دین محمدی میں بھی جاگیر فدک اور خیبر کی زمینیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی جائیداد میں شمار ہونگی کیونکہ جس طرح سابقہ انبیاء کو اللہ ربّ العالمین نے مختلف خلعتوں سے نوازا تھا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی نوازا اور ان پر حق تصرف بھی دیا۔ ورنہ یہ کسی طور ممکن نہیں تھا کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ ربّ العزّت انہیں آیات میں بتا رہا ہے کہ اس زمین کی پیداوار میں مساکین، مسافر، مہاجرین اور انصار بھی حصہ دار ہیں لیکن ساتھ ہی ان سب کو یہ بھی تلقین کی کہ جو نبی دیں وہ لے لو اور زیادہ کی لالچ نہ کرو۔ مطلب یہ سب نبی کی وراثت ہے اس میں سے جو وہ صدقہ خیرات کرتے ہیں وہی تمہارا حق ہے باقی وہ جس پر چاہیں خرچ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اور یہی وہ جائیداد تھی جس کی وصیت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم حدیثِ قرطاس میں کرنے والے تھے امت کے لیے وصیت کہ اس زمین پر تصرف اہل بیت علیہم السّلام کا ہوگا اور اہل بیت کو وصیت کہ اس میں سے میرے طریقہ پر واجب الادا صدقہ و خیرات کن کن لوگوں کو دینا ہے۔


 فما علینا الاالبلاغ المبین ۔