Showing posts with label لو كان من بعدي نبي، میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ، جھوٹی روایات ، من گھڑت احادیثِ مبارکہ ،. Show all posts
Showing posts with label لو كان من بعدي نبي، میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ، جھوٹی روایات ، من گھڑت احادیثِ مبارکہ ،. Show all posts

Tuesday, December 24, 2024

میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

تحقیق حدیث: لو كان من بعدي نبي، لكان عمر بن الخطاب

میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا 

تحریر و تحقیق: سید مسعود الرحمٰن بخاری 

مولا علی علیہ السلام بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو۔ یقینا جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ متفق علیہ

ویسے تو تاریخ میں دور نبوت کے بعد بہت سی خرافات نے جنم لیا ہے لیکن ان سب میں تاریخ اسلام کو نقصان پہچانے والی چیز غلط روایات کا عام ہونا ہے۔ دور نبوت کے بعد زمانہ خلافت راشدہ میں کچھ حد تک معاملات بہتر رہے لیکن بنو امیہ کے دور حکومت میں دین اسلام میں اور تاریخ اسلام میں ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیے گئے جنہوں نے نہ صرف تاریخ اسلام کو شدید ترین نقصان پہنچایا بلکہ دین اسلام میں بھی بہت سی خرافات و بدعات کو تقویت مل گئی۔

زیر بحث موضوع بھی تاریخ اسلام کے ان پہلوؤں کے بارے میں ہے جو صرف ایک تاریخی غلطی میں نہیں گنے جاتے بلکہ اس کا تعلق ایک مسلمان اور خاص کر ایک مربی و خطیب کے لیے جنت و دوزخ کا فیصلہ کرنے والے پہلو ہیں۔

ابتدائیہ میں ہم نے مولا علی علیہ السّلام سے روایت کی گئی ایک حدیثِ مبارکہ بیان کی ہے جو مستند اور متفق علیہ ہے اور تمام مکاتب فکر کے ساتھ ساتھ تمام محدثین نے اس پر جرح کی ہے اور اسے مستند اور معتبر کہا ہے۔ اس حدیثِ مبارکہ کے مطابق سب سے زیادہ محتاط رہنے کی تلقین علمائے کرام اور مصنفین و مبلغین کو کی گئی ہے اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بھی یہی ہے کہ اگر وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی طرف کوئی جھوٹی روایت منسوب کرے گا تو وہ دوزخی ہے۔

زیر بحث حدیث حضرت عمر رضی اللہ کی شان میں بیان کی جانے والی احادیث میں سب سے زیادہ مشہور و مقبول ہونے والی احادیث میں سے ایک ہے لیکن افسوس کہ یہ ایک منقطع اور ضعیف حدیث ہے لیکن ہمارے ادیب اور مبلغین ممبر رسول پر ہی بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر اتنی بڑی تہمت لگا رہے ہیں اور اس پر گھنٹوں بحث کرتے ہیں۔

عجیب سی بات ہے کہ کسی صحابی کی فضیلت و اہمیت بیان کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا جائے حالانکہ ایک صحابی ہونا ہی اتنا بڑا رتبہ ہے کہ ایک عام انسان اس معیار تک کسی صورت نہیں پہنچ سکتا۔ پھر بھی کچھ لوگوں کو جھوٹ اور قصہ گوئی کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ وہ صرف واہ واہ کے لیے اپنے بیانات کو جھوٹ سے مرچ مصالحہ لگا کر بیان کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔

یہ حدیث جن کتب میں بیان کی گئی ہے ان میں اکثر میں اسے منقطع اور ضعیف کہا گیا ہے لیکن یہ اسقدر زد عام ہو گئی ہے کہ کسی نے اس پر تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اور جو لوگ ایسی کوشش کرتے ہیں ان پر فتوے لگ جاتے ہیں اور پھر انہیں مناظروں اور بحثوں کے چیلنج ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔

(مرفوع) حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا المقرئ، عن حيوة بن شريح، عن بكر بن عمرو، عن مشرح بن هاعان، عن عقبة بن عامر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب ". قال: هذا حسن غريب، لا نعرفه إلا من حديث مشرح بن هاعان ترمذی 3686 ضعیف.

عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا“ ۱؎۔

امام ترمذی کہتے ہیں:

یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔

امام ابن حجر العسقلاني اپنی کتاب تهيذيب التهذيب میں لکھتے ہیں:

وعلته : مشرح بن هاعان ، فإنه وإن وثقه ابن معين ، فقد قال ابن حبان : ” يروي عن عقبة مناكير لا يتابع عليها ، فالصواب ترك ما انفرد به ” .

اس حدیث کی سند میں مسئلہ مشرح بن ھاعان ہے، اسکو ابن معین نے ثقہ کہا ہے، اور ابن حبان نے کہا ہے کہ وہ عقبہ سے منکر احادیث بیان کرتا تھا اور کوئی اور سند نہیں ان احادیث کی جو اسکی حمایت کریں، تو بہتر ہے کہ وہ احادیث ترک کی جائیں جن میں وہی راوی ہے۔

 تهيذيب التهذيب، ج 10، ص 155


2.

حدثنا ابو عبد الرحمن ، حدثنا حيوة ، حدثنا بكر بن عمرو ، ان مشرح بن هاعان اخبره، انه سمع عقبة بن عامر ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لو كان من بعدي نبي، لكان عمر بن الخطاب (مسند احمد ضعیف روایت)17405" .


حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔  

المنتخب من علل الخلال میں درج ہے کہ امام أحمد بن حنبل سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا کہ "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا” تو انہوں نے کہا:

فقال: اضرب عليه حديثة فإنه عندي منكر۔

اس حدیث کو کاٹ دو کیونکہ یہ میرے نزدیک منکر ہے۔

المنتخب من علل الخلال )ص 190 اور 191)

اس حدیث پر بحث یا تحقیق کا مقصد صرف اصلاح اور بنا تحقیق تبلیغ و اشاعت کرنے والوں کے لیے تحقیق و تفتیش کی فکر دینا مقصود ہے۔ اس حدیث پر تحقیق کے دوران ہماری کچھ موجودہ علمائے کرام سے بات ہوئی تاکہ ہم اس پر بحث کر سکیں لیکن ہمیں انتہائی افسوس اور مایوسی ہوئی جب انہوں نے ہماری تحقیق و جستجو کو حضرت عمر رضی اللہ کا بغض قرار دیا۔

ہم ایسی طرز فکر رکھنے والے علماء سے گذارش کرتے ہیں کہ تحقیق کے پہلو کو ہر صورت زیر نظر رکھیں اور ہر بات اور تحریر کو مسلکی منافرت کی نظر سے نہ دیکھیں اور نہ ہی کسی تحقیقی تحریر یا قول کو بغض و عناد سمجھیں۔ ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ حضرت عمر یا کسی بھی صحابی کی فضیلت و اہمیت بیان کرنےکے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر جھوٹ باندھنے کی کیوں ضرورت پیش آرہی ہے جب کہ تاریخ میں ہر صحابی کے متعلق صحیح روایات بھی موجود ہیں۔

تاریخی حوالوں اور چند تاریخی کتب پڑھنے کے بعد ہمیں جو احساس ہوا وہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ بنو امیہ کے ادوار میں بعض لوگوں کو جھوٹی روایات گھڑنے اور لکھنے کے لیے مقرر کیا جاتا تھا اور اس کے عوض انہیں مراعات و انعامات سے بھی نوازا جاتا رہا ہے۔ بڑی عجیب سی بات ہے کہ آج پندرہ سو سال بعد علماء و مشائخ کسی صحابی کی زندگی پر کوئی سخت بات کر دے تو اس پر فتوے لگا دیے جاتے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے وصال کے فقط تیس سال بعد ہی ایسے ناہنجار اور اسلام دشمن عناصر مسندوں اور مسجدوں میں بیٹھ چکے تھے جو اپنے کردار اور عمل سے جہنمی اور بے دین کہلائے جانے کے لائق ہیں۔

بنو امیہ کے ان کالے کرتوتوں کے ثبوت کے طور پر چند کتب کا ذکر ضروری ہے تاکہ قارئین بھی ان کا مطالعہ کر سکیں اور اس تحریر کو بھی کسی بغض و عناد یا کسی صحابی کی توہین نہ سمجھ کر ایک تحقیقی جائزے کے طور پر سمجھا جائے۔

الموضوعات 

مصنف: ابن جوزی (متوفی 597ھ) اس کتاب میں ابن جوزی نے جعلی احادیث کو جمع کیا اور ان کی حقیقت واضح کی۔

اللالی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ

مصنف: جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ) سیوطی نے اس کتاب میں موضوع احادیث کو جمع کیا اور ان کی سند کا تجزیہ پیش کیا۔

الاخبار الدخیلة

مصنف: شیخ محمد تقی شوشتری (متوفی 1376ھ) یہ کتاب جعلی احادیث کی نشاندہی اور ان کے تجزیے پر مشتمل ہے۔

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مصنف: علامہ مرتضی عسکری علامہ عسکری نے اس کتاب میں ان صحابہ کے بارے میں تحقیق کی ہے جن کے وجود پر شبہات ہیں اور ممکنہ طور پر ان کے نام سے جعلی احادیث منسوب کی گئی ہیں۔

الموضوعات فی الآثار و الأخبار

مصنف: سید ہاشم معروف الحسنی اس کتاب میں جعلی احادیث اور ان کے پس منظر کا جائزہ لیا گیا ہے۔

آج جو علماء و مشائخ خود کو بڑی توپ شے سمجھتے ہیں اور بنا تحقیق و تفتیش کے لکھی لکھائی باتوں کو مجالس و محافل میں اور مساجد و مدارس میں ذکر کر کے داد تحسین وصول کرتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں۔

یہ صرف حضرت عمر رضی اللہ کی ہی بات نہیں بہت سے اصحابِ رسول کی فضیلت و اہمیت پر بے شمار ایسی ضعیف احادیث کی مثالیں موجود ہیں۔ لیکن کیوں؟ اس کا جواب صرف ایک محقق ہی دے سکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس طرح بغض حیدر میں کچھ بدبختوں نے جناب ابو طالب علیہ السّلام کو نعوذ باللہ بے دین ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور اہل بیت علیہم السّلام کے بغض میں باقی اصحابِ رسول کی فضیلت و برتری بیان کرنے کے لیے جھوٹی روایات و احادیث کا سہارا لیا ہے ان کا مقصد صرف اور صرف امت مسلمہ میں تفریق و اختلافات ہے اس کے علاوہ یہ لوگ اور کچھ نہیں چاہتے تھے۔

اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ایک حدیثِ مبارکہ ہے کہ:

 "لا تطروني كما تطري النصارى عيسى ابن مريم، ولكن قولوا: عبد الله ورسوله".

عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم کو نصاریٰ نے ان کے مرتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے، (بلکہ میرے متعلق یہی) کہا کرو کہ میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔“ سنن دارمی 2819

[بخاري 3445]، [أبويعلی 153]، [ابن حبان 413]، [الحميدي 27]

اس حدیثِ مبارکہ میں اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کائنات کی سب سے عظیم ترین اور معتبر ہستی یعنی اپنے بارے میں فرما رہے ہیں کہ مجھے میرے مرتبے سے بلند نہ کرو یہ نہ ہو کہ عیسائیوں کی طرح مجھے اللہ کے مقام پر بٹھا دو بلکہ مجھے اللہ کا بندہ اور نبی ہی کہو۔ ایسی صورت میں کہ جب اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اپنے لیے مقام و مرتبے میں بڑھائی کے خواہاں نہیں ہیں امت محمدیہ کے علماء و مشائخ اپنے نبی پر ہی جھوٹ باندھ کر امت کو گمراہ کن عقائد و نظریات کی راہ پر لگا رہے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی صحابی کا رتبہ بڑھانے یا گھٹانے سے دین اسلام کی ساخت یا تعلیماتِ اِسلام پر ذرا بھی فرق نہیں پڑنے والا۔ دین قرآن مجید فرقان حمید کی (الیوم اکملت لکم دینکم) والی آیہ کریمہ کے بعد نہ تو وسعت کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی دین کے کسی قانون، طریقے یا نظریے کو بدلنے کی سہولت دیتا ہے۔

جیسا کہ دین اسلام میں کسی کمی بیشی کی کوئی گنجائش اور ضرورت نہیں ہے اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید کو مکمل ضابطہ حیات اور محمد الرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کو اسلامی تعلیمات و قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ بنا کر پیش کر دیا ہے اب نہ تو دین میں کوئی کمی و کجی رہ گئی ہے اور نہ ہی کسی نئے قوانین و ضوابط کی گنجائش ہی باقی ہے۔ اس لیے ایسی جھوٹی روایات یا من گھڑت احادیثِ بیان کرنے سے دین کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی بلکہ اس عمل سے ایک زمہ دار انسان گناہ گار ہوتا جاتا ہے۔

فما علینا الاالبلاغ المبین ۔

تحقیق حدیث:لو كان من بعدي نبي، لكان عمر بن الخطاب میرے بعد کو

ئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔

سید مسعود الرحمٰن بخاری