Thursday, January 30, 2025

ذکر معاویہ بن ابو سفیان حصہ دوم

قرآن مجید میں منافقین کی نشانیاں:

1.جھوٹ بولنا: منافقین کی ایک نمایاں علامت جھوٹ بولنا ہے۔

معاویہ بن سفیان نے حضرت عثمان رضی اللہ کی ان کے محاصرے اور قتل کے دوران کوئی مدد نہیں کی اور بعد میں جھوٹ بولا کہ وہ رشتہ دار ہونے کے ناطے قصاص عثمان کا حقدار ہے یہ دھوکہ دہی صرف اقتدار کے لیے تھی۔

2.وعدہ خلافی کرنا: وعدہ کرنے کے بعد اسے پورا نہ کرنا۔

معاویہ بن سفیان نے امام حسن علیہ السّلام سے معائدہ کیا اور پھر اس کے ایک نکتے پر بھی عمل نہیں کیا۔

3.امانت میں خیانت کرنا: امانت سونپے جانے پر اس میں خیانت کرنا۔

معاویہ بن سفیان نے مال غنیمت سے سونا چاندی اور قیمتی سامان کو سرکاری مال قرار دیا اور اسے اپنے تصرف میں رکھا اور معمولی سامان مجاہدین میں تقسیم کرنا شروع کیا حالانکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور خلفائے راشدین کے زمانوں میں مال غنیمت کی ہر چیز امیر، غریب، مجاہد و معاون میں برابر تقسیم ہوتی تھی۔

4.جھگڑے میں بدکلامی کرنا: جب کسی سے جھگڑا ہو تو حد سے تجاوز کرنا اور بدکلامی کرنا۔

معاویہ بن سفیان نے مولا علی علیہ السّلام سے جنگیں بھی کیں اور حضرت حسن علیہ السلام کی وفات پر انہیں برے الفاظ سے یاد کیا اور پھر اقتدار پر قبضے کے بعد مولا علی علیہ السّلام پر ممبروں سے لعن تعن بھی کیا۔

اتنے پختہ دلائل کے بعد اگر کوئی معاویہ بن سفیان کا کلمہ گو ہے تو وہ سراسر منافق ہے۔

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ۔

علمی تحقیقات کی بنیاد پر دیکھا جائے تو مولا علی علیہ السّلام کی بجائے دشمنان علی کی تعریف و توصیف بیان کرنا منافقت ہے اور جو علی علیہ السلام سے بغض رکھے گا وہ نبی علیہ الصلواۃ والسلام کی زبان مبارک کے مطابق منافق ہے۔ اس کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ معاویہ بن ابو سفیان مولا علی علیہ السلام سے دشمنی اور اسلام مخالف پالیسیوں کے باعث لعنت و ملامت کا حق دار ہے اور مولا علی علیہ السلام نے اس شخص پر ویسے ہی قنوت نازلہ پڑھی ہے جیسا کہ نبی علیہ الصلواۃ والسلام نے کفار پر پڑھی تھی۔ اسلام مخالف پالیسیوں کا حوالہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ وہ تین کام جو نبی علیہ الصلواۃ والسلام اور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہیں ہوتے تھے معاویہ بن سفیان کے گھر میں ہو رہے تھے اور مولا علی علیہ السّلام کا معاویہ پر قنوت نازلہ پڑھنے کا حوالہ درج ذیل روایت میں موجود ہے۔

حدثنا حدثنا هشيم ، قال : أخبرنا حصين ، قال : حدثنا عبد الرحمن بن معقل ، قال : " صليت مع علي صلاة الغداة ، قال : فقنت ، فقال في قنوته : " اللهم عليك بمعاوية وأشياعه ، وعمرو بن العاص ، وأشياعه ، وأبي السلمي ، وعبد الله بن قيس وأشياعه " 

عبد الحمٰن بن معقل کہتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ پڑھی اور آپ علیہ السلام نے قنوت کیا اور قنوت میں یہ الفاظ کہے " اے اللہ معاویہ اور اس کے گروہ ، عمرو بن العاص اور اس کے گروہ ، ابو السلمی اور عبداللہ بن قیس اور اس کے گروہ کو پکڑ لے ان کو برباد کر دے" 

 مصنف ابن أبي شيبة (ت: أسامة) ج 3 ح 7124 ص 245


یاد رہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں پر قنوت پڑھنا صحیح احادیث سے سنت رسول ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ روایات ہمیں ایسی ملی ہیں جن کو پڑھنے کے بعد ہم حیرت و استعجاب کی کیفیت میں ہیں کہ امت مسلمہ کے کچھ بد عقیدہ لوگ کس طرح مولا علی علیہ السّلام اور معاویہ بن سفیان کے قضیے کو حل کیے بیٹھے ہیں اور عجیب و غریب قسم کے نعرے بازی اور جشن مناتے ہیں۔ اصل حق تو یہ تھا کہ ہر دور کے علماء و محدثین امت مسلمہ کے سامنے صرف حق اور سچ بیان کرتے اور بری ہو جاتے لیکن روایات و احادیث میں ضعیف اور منقطع روایات و احادیث کو ڈال کر ان لوگوں نے امت مسلمہ میں فرقوں کی بنیادیں مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں پر بھی ظلم کیا ہے۔

 عقل و شعور رکھنے والوں کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور اہل بیت علیہم السّلام کے دشمنوں کی تعریف و توصیف بیان کرنا کوئی نیکی کا کام نہیں اور نہ ہی یہ دین کی خدمت ہی ہے اگر محققین و کاتبین امت مسلمہ کے لیے اتنے ہی مخلص ہیں تو صرف حق اور سچ بیان کریں اور جو جھوٹ ہے اس کا دل اور قلم سے رد کریں۔

فما علینا الاالبلاغ المبین۔

ذکر معاویہ بن ابو سفیان 

سید 

مسعود الرحمٰن بخاری