Showing posts with label خطبہ حجتہ الوداع ، خطبہ حجتہ الوداع مکمل اردو ترجمہ. Show all posts
Showing posts with label خطبہ حجتہ الوداع ، خطبہ حجتہ الوداع مکمل اردو ترجمہ. Show all posts

Saturday, November 2, 2024

خطبہ حجتہ الوداع مکمل

خطبہ حجتہ الوداع مکمل


تحریر:سید مسعود الرحمٰن بخاری


 سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس توبہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی سے اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔


اللہ کے بندو! میں تمھیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر سختی سے آمادہ کرتا ہوں اور میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جو بھلائی ہے۔


لوگو! میری باتیں سن لو مجھے خبر نہیں کہ میں تم سے اس جگہ پر اس سال کے بعد پھر ملاقات کر سکوں۔


جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بنیاد پر ۔


خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی ہوتا ہے۔ تم سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔


لوگو! تمھارے خون تمھارے مال اور تمھاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔

دیکھو عنقریب تمھیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمھارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگے۔


جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔ (ربیعہ بن حارث آپ کا چچا ذاد بھائی تھا جس کے بیٹے عامر کو بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا)۔


اگر کسی کے پاس امانت ہو تو وہ اسے اس کے مالک کو لوٹا دے اور اگر سود ہو تو وہ موقوف کر دیا گیا ہے۔ ہاں تمہیں تمھارا سرمایہ مل جائے گا۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سود ختم کر دیا گیا ہے اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔


لوگو! تمھاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن باقی چھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کیے جانے پر وہ خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سے محفوظ رکھو۔


اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد اسی دن سے بارہ ہے جب اللہ نے زمین و آسمان پیدا کیے تھے۔ ان میں چار محترم ہیں۔ تین (ذیقعد ذوالحجہ اور محرم) لگا تار ہیں اور رجب اکیلا ہے۔


لوگو! اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ کے نام کی ذمہ داری سے تم نے ان کو بیوی بنایا اور خدا کے کلام سے تم نے ان کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ تمھارا حق عورتوں پر اتنا ہے کہ وہ تمھارے بستر پر کسی غیر کو نہ آنے دیں لیکن اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو ظاہر نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کو اچھی طرح کھلاؤ ،اور اچھی طرح پہناؤ۔


تمھارے غلام تمھارے ہیں جو خود کھاؤ ان کو بھی وہی کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی ان کو بھی پہناؤ۔


خدا نے وراثت میں ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے۔ اب کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اس کا وارث جس کے بستر پر پیدا ہو، زناکار کے لیے پتھر اور ان کا حساب خدا کے ذمہ ہے۔


عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں ہے۔ قرض ادا کیا جائے۔ عاریت واپس کی جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ اور ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔


مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا بیٹا ذمہ دار نہیں ہے اور بیٹے کے جرم کا باپ ذمہ دار نہیں ہے۔


اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمھارا امیر ہو اور وہ تم کو اللہ کی کتاب کے مطابق لے کر چلے تو اس کی اطاعت اور فرماں برداری کرو۔


لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ کوئی نئی امت ہی پیدا ہونے والی ہے۔ خوب سن لو کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پانچ وقت کی نماز ادا کرو۔ سال بھر میں ایک مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ اور اللہ کے گھر کا حج بجا لاؤ۔


میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ اگر تم نے ان کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے ایک کتاب اللہ اور  دوسرے میرے اہل بیت۔ اور میں تمہیں اپنے اہل بیت کے معاملہ میں اللہ کا خوف دلاتا ہوں، (تین بار)


اس جامع خطبہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:


لوگو! قیامت کے دن جب اللہ میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔’’اے اللہ تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے اللہ تو گواہ رہنا‘‘ اے اللہ تو گواہ رہنا اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔ کیونکہ شاید ان میں کوئی تمہاری نسبت ان باتوں کو ذیادہ بہتر سمجھ سکے۔