Showing posts with label Sufism in Islam. Show all posts
Showing posts with label Sufism in Islam. Show all posts

Saturday, October 19, 2024

What is Sufism?/ تصوف کیا ہے؟

تحریر و تحقیق:سید مسعود الرحمن بخاری

 تصوف کیا ہے؟

تصوف ایک ایسا فعل یا طرزِ زندگی ہے جس میں صوفی مکمل طور پر دنیاوی معاملات سے الگ تھلگ ہو کر رضائے الٰہی کا دعویٰ کرتا ہے وہ اپنے اس عمل میں اسقدر بختہ ہوتا ہے کہ اکثر و بیشتر کچھ صوفیاء نکاح کرنے کو بھی ممنوع قرار دیتے ہیں اور ہر طرح کے دنیاوی معاملات سے دستبردار ہو جاتے ہیں حالانکہ ایک عام فہم انسان بھی یہ عقل رکھتا ہے کہ اللہ ربّ العزّت کے آخری نبی محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے زیادہ متقی و پرہیز گار کون ہو سکتا ہے اگر انہوں نے ایک نبی ہوتے ہوئے دنیاوی معاملات اور دینی معاملات کو حسن و خوبی سے نبھایا ہے تو ایک عام انسان یہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ ایک ایسا طریقہ ایجاد کرے جو اسے تقوی میں افضل ترین کر دے۔

رہبانیت یا صوفی ازم کے رد میں نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے سخت وعید فرمائی ہے حدیثِ مبارکہ ہے؛

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا معاملہ پیش آیا جنہوں نے عورتوں سے ترک تعلق کر لیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: ”اے عثمان! مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا ہے، کیا تم میری سنت سے بیزار ہو گئے؟“ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا نہیں ہے، فرمایا: ”پھر میری سنت تو یہ ہے کہ (رات کو) نماز پڑھتا ہوں تو سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں تو (افطار بھی کرتا رہتا ہوں) کھاتا بھی ہوں، نکاح بھی کرتا ہوں اور طلاق بھی دیتا ہوں۔ پس جس نے میرے طریقے سے بےرغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی صحابہ نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ اگر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حالت پر برقرار رہنے کی اجازت دے دی تو ہم سب اپنے آپ کو خصی بنا لیتے اور (عورت سے) ترک تعلق کر لیتے۔ (سنن دارمی 2206, صحیح بخاری 5063, صحیح مسلم 1401)


تصوف یا صوفی ازم ایک زمانے سے اسلام کا ایک معتبر طریقہ مانا جاتا ہے حالانکہ اسلام میں اس کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں جتنے بھی صوفیاء گزرے ہیں وہ یا تو شاعر تھے یا پھر انہوں نے خود کو ایک خول میں قید کر کے دنیا سے تعلق توڑ لیا تھا۔ جو کہ سراسر اسلام کے منافی عمل ہے۔


عہد فاروقی میں بہت سے علاقے فتح ہوئے جن میں نو مسلم جو عربوں کے مفتوحہ علاقوں میں رہتے تھے مقامی روحانی طرز فکر سے عہد قدیم سے ہی متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مورخین کی رائے میں اسلامی صوفی ازم نے عیسائیت کے روحانی ماحول میں نشو نما پائی ہے۔ 


جیسا کہ صوفی قدیم عرب لفظ صوف سے مُشتق ہے جو کہ اونی کپڑے کو کہتے ہیں اورایسے ملبوسات مشرق میں رہنے والے عیسائی صوفی استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اسلام کی آمد سے پہلے کے عیسائی لوگوں کے کپڑے مثلاً مختلف رنگوں کے کپڑوں کے ٹکڑوں سے گدڑی زیبِ تن کرنے کا رواج عام تھا اگر عیسائی صوفی خیالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان میں تارک الدنیا ہونا مذہب کا حصہ قرار پا چکا تھا اور اسے یونانی نظریات نے مزید تقویت دی۔ جس میں جسم کا تصور ایک فانی حیثیت سے سامنے آیا فقر کو سراہنا ملی اور مختلف عبادات پر زور دیا گیا۔


جیسا کہ مسلمان صوفیاء خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نصرانیت میں رہبانیت کو قبول کرلیا تھا۔ حالانکہ اس آیہ کریمہ میں اللہ ربّ العالمین نے اس طرز عمل کو ان کا اپنا ایجاد کردہ طریقہ بتایا ہے اور جس پر وہ خود بھی عمل نہ کر سکے اور عذاب الٰہی کے مستحق ٹھہرے۔


اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں''رہبانیت ان لوگوں نے خود ایجاد کی تھی ہم نے اس کا حکم نہیں دیا تھا انہوں نے یہ طریقہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا مگر اسے صحیح طورپر نبھا نہ سکے( سورہ حدید-آیت 27)


ہماری دنیا بڑی عجیب ہے جہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے بلکہ جو دکھایا جاتا ہے وہ بک جاتا ہے۔ ہم نے جب تصوف پر تحقیق شروع کی تو ہمیں پتہ چلا کہ تصوف یا صوفی ازم اور صوفیاء اسلام کی تعلیمات و شریعت سے کوسوں دور ہیں۔ تاریخ اسلام میں نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے دور میں کسی صوفی کا ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی قرآن و حدیث میں صوفی ازم کا کوئی حوالہ موجود ہے۔ ایک عام انسان کو یہ بات واضح سمجھ لینی چاہئے کہ جس طرز عمل کا ذکر قرآن و حدیث میں سرے سے موجود ہی نہیں وہ قرب الہٰی کا موجب کسیے اور کیونکر ہو سکتا ہے، جبکہ اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا اور پھر دینی معاملات کو دنیاوی معاملات کے ساتھ نبھانے کی ترغیب و تربیت بھی کی۔ 


تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی ہمیں معلوم ہوئی کہ تصوف علماء محدثین اور فقہاء کے نظریات سے الگ شے کا نام ہے اور تصوف ہی وہ واحد قرینہ ہے جس میں مسلم و غیر مسلم کا امتیاز نہیں ہے کیونکہ غیر مسلم بھی اس طرز فکر اور طریقہ کار کو اپناتے رہے ہیں اور ان کے نزدیک بھی تصوف دنیا سے بے رغبتی اور تنہائی میں یاد الٰہی کا نام ہے یعنی ان کے مطابق انسان کے اندرونی معاملات میں اللہ سے ایک رابطہ رکھنا اور اپنے ذہن و دماغ کو دنیاوی معاملات سے پاک رکھنا تصوف کہلاتا ہے۔

حالانکہ تاریخ دانوں نے کسی بھی صوفی میں ایسے کمالات کا ذکر نہیں کیا اور پھر جب صوفی ازم میں اسلام کے بنیادی عقیدہ توحید و رسالت سے انسان کو مبرا کر دیا جائے تو اس عقیدے کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک انسان اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی صداقت پر ایمان بھی نہ لائے اور صوفی ازم کے ذریعے سے خود کو جنت کا حقدار ٹھہرائے۔

عالم تصوف میں مشہور مسلم و غیر مسلم صوفیاء کے کچھ نام یہاں ذکر کرتے ہیں جن سے یہ اندازہ ہو جائے کہ تصوف کسی اسلامی نظریے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طرز عمل ہے جو ہر مذہب کا انسان اپنا لیتا ہے اور اس کی اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

مسلم صوفیاء:

رابعہ بصری ، بایزید بسطامی ، جنید بغدادی، منصور بن حلاج، علی ہجویری، عبدالقادر جیلانی، معین الدین چشتی وغیرہ

غیر مسلم صوفیاء:

مھر بابا، مرشد سموئیل لوئیس، منوہر لال کانپوری، وؤگان لی وغیرہ


ان سب لوگوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اسلام کے بنیادی عقائد پر بات تک نہیں کی۔ مثلآ رابعہ بصری پہلی صدی ہجری کے آخری سالوں میں پیدا ہوتی ہیں اور پھر ان کی صوفیانہ زندگی تقریباً پندرہویں سال سے شروع ہو جاتی ہے لیکن ان کے حوالے سے کوئی بھی حدیث کی روایت آپ تک نہیں پہنچتی جبکہ اسی دور میں امام زمانہ باقر علیہ السّلام اور ان کے فرزند امام جعفر الصادق علیہ السّلام آپ کو دین کے ستون نظر آتے ہیں جن کے واعظ و نصیحت نے زمانے پر اپنا ایک اثر چھوڑا اور بے شمار غیر مسلم بھی مسلمان ہوئے۔


اسی دور کی دوسری ہستی امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ ہیں جنہیں آج دنیا امام الفقہ اور جدالفقہ کے نام سے جانتی ہے انہوں نے اسلام میں ایسی قانون سازی کی بنیاد رکھی جس نے حقیقت میں اسلام کی راہیں آسان کر دیں۔

لیکن افسوس کہ ہمارے مسلمان امام باقر و امام جعفر الصادق علیہم السّلام اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ جیسی ہستیوں کو چھوڑ کر رابعہ بصری جیسے شعراء اور غیر اسلامی طرزِ زندگی اپنانے والےصوفیاء کے قصیدے پڑھتے رہے۔


جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ صوفی ازم یا رہبانیت اسلام سے پہلے کی ایک سوچ اور طرز عمل کا نام ہے اور اسلام کے اوائل میں اس کا کوئی وجود نہیں ملتا لیکن موجودہ دور کے صوفیاء نےتصوف کی دنیا میں ایسے ایسے نام جوڑ لیے ہیں جو اس طرز عمل کو تقویت دینے کا کام کرتے ہیں حالانکہ ان میں اکثر لوگ اپنے اس وصف سے ناواقف تھے۔


صوفیاء کا طریقہ کار یہ رہا ہے کہ انہوں نے تصوف یعنی ایک اختراعی طریقہ کار سے ہر مذہب اور کتاب سے ایسے نظریات کو اکٹھا کر رکھا تھا جس میں روحانی طرزِ فکر کا وہم موجود تھا۔

بایزید بسطامی کا تذکرہ بھی جن حوالوں سے ملتا ہے جو شمالی ایران کے شہر بوستان کا باشندہ تھا اور 875ء میں فوت ہوا اس سے متعدد وضائف منسوب ہیں جو کہ ''شاتھ'' کہلاتے ہیں ۔ اس کی تعلیمات میں ہندوئوں کی مقدس کتب اپنشد اور ودانت کے حوالے سے مماثلت بھی ملتی ہے۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ شاید وہ پہلا شخص تھا جس نے فناء فی اللہ کا نظریہ پیش کیا۔


 تمام صوفیا اپنے زمانے کے ذہین لوگ تھے لیکن نہ تو یہ پیشہ ور فلسفی تھے اور نہ ہی باقاعدہ سکالر سمجھے جاتے تھے۔ یہ لوگ اپنے عقائد اور طریقہ کار کو کسی واضح حقائق سے پیش نہیں کرتے تھے۔ ان تمام میں مورثی طور پر روحانی اور صوفی ازم کے اوصاف موجود تھے۔ مگر انہوں نے محبت،انا ، وجود، بقا،فنا، نفس اور روح کے متعلق اپنے اپنے عقائد وضع کر لیے تھے ، خدا سے بندے کا تعلق اور اس کی ذات سے بے پایاں محبت کے سلسلے صوفیاء کا بنیادی مرکز نگاہ رہا۔ کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ صوفیاء خدا کے خاص بندے تھے اور پیغمبر کے بعد ان کی حیثیت مسلم تھی۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی ہی پہچان کی بھول بھلیوں میں بھٹک گئے تھے۔


لیکن یہ بات مسلم ہے کہ اسلام نے رہبانیت اور تصوف کی کہیں بھی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے اس کے برعکس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی طرز زندگی ایک مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے۔ جس میں نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے بحیثیت انسان ایک مکمل ضابطہ حیات کا درس دیا ہے اور بحیثیت نبی افضل الانبیاء کا خطاب بھی لیا ہے۔

اللھم صل علیٰ محمد وآل محمد ۔


Writing and research: Syed Masood ul Rehman Bukhari

What is Sufism?

Sufism is a way of life or practice in which Sufi claims to seek the pleasure of Allah by completely isolating themselves from worldly affairs. A Sufi becomes so engrossed in this practice that many even consider marriage forbidden and renounce all worldly matters. However, even a person with basic understanding can comprehend that no one could be more pious and God-fearing than the last Prophet of Allah, Muhammad (PBUH). Despite being a prophet, he balanced worldly and religious matters with grace. How can an ordinary person claim to invent a path that supposedly makes them superior in piety?

The Prophet Muhammad (PBUH) issued stern warnings against monasticism or asceticism. In a hadith, it is narrated:

"Sa'd bin Abi Waqqas (RA) said: When Uthman bin Maz'un (RA) renounced relations with women, the Prophet (PBUH) called for him and said: 'O Uthman! I have not been commanded to adopt monasticism. Are you displeased with my way (Sunnah)?' Uthman replied: 'No, O Messenger of Allah!' The Prophet (PBUH) said: 'Then my Sunnah is that I pray at night and sleep, I fast and break it (at times), I marry and I also divorce. Whoever turns away from my way is not of me.'" (Sunan al-Darimi 2206, Sahih Bukhari 5063, Sahih Muslim 1401)

Sufism or asceticism has been considered a valid path in Islam for centuries, despite the fact that it has no real basis in Islam. Many of the Sufis in our society were either poets or isolated themselves from the world, which is contrary to Islamic teachings.

During the era of Caliph Umar (RA), many areas were conquered, and new Muslims, who lived in these conquered regions, were influenced by the spiritual ideologies of the past. Some historians suggest that Islamic Sufism grew in the spiritual environment of Christianity.

The term "Sufi" is derived from the ancient Arabic word "suf," meaning wool, which refers to the woolen garments worn by Christian ascetics in the East. Before Islam, Christian monks often wore patched garments of different colors. In Christian asceticism, renouncing worldly life had become part of their religion, which was further reinforced by Greek philosophies that considered the body temporary and promoted spiritual practices.

Muslim Sufis believe that Allah accepted monasticism in Christianity. However, the Quran tells us that this was an invented practice, and those who followed it failed to adhere to it properly, and they were subject to divine punishment.

Allah says in the Quran: "But monasticism they invented; We did not prescribe it for them. They did so to seek the pleasure of Allah, but they did not observe it as it should have been observed." (Surah Al-Hadid, 57:27)

Our world is strange, where what is visible is sold, and what is shown is believed. Upon researching Sufism, we discovered that Sufism and its practitioners are far from the teachings of Islam. In the time of the Prophet Muhammad (PBUH), there is no mention of any Sufi, nor is there any reference to Sufism in the Quran or Hadith. It should be clear to an ordinary person that if a practice is not mentioned in the Quran or Hadith, how can it be a means of attaining closeness to Allah?

Through studying history, we learn that Sufism is separate from the beliefs of scholars of hadith and Islamic jurisprudence. Sufism is the one idea that blurs the line between Muslims and non-Muslims, as people from other religions also adopt this way of thinking, considering Sufism to be detachment from worldly matters and a spiritual connection with Allah. However, no historian has mentioned any such achievements of a Sufi, and when Sufism deviates from the core Islamic beliefs of monotheism and the finality of the Prophet, the very foundations of faith become weak. How can a person who does not believe in Allah and His Messenger (PBUH) claim paradise through Sufism?

Some well-known Sufi figures, both Muslim and non-Muslim, illustrate that Sufism is not an Islamic ideology, but rather a practice adopted by people of various religions, which has no basis in Islam.

Famous Muslim Sufis:

  • Rabia Basri
  • Bayazid Bastami
  • Junayd Baghdadi
  • Mansur al-Hallaj
  • Ali Hujwiri
  • Abdul Qadir Jilani
  • Moinuddin Chishti

Famous Non-Muslim Sufis:

  • Meher Baba
  • Murshid Samuel Lewis
  • Manohar Lal Kanpuri
  • Wugan Li

If we examine their histories, we find that many of them never spoke about Islam's fundamental beliefs. For example, Rabia Basri was born in the later years of the first century Hijri, and her ascetic life began around the age of fifteen. However, no hadith narrations have been attributed to her, while during the same period, Imam Muhammad al-Baqir (RA) and his son Imam Ja'far al-Sadiq (RA) were active pillars of religion, whose teachings had a lasting impact.

Similarly, Imam Abu Hanifa (RA), known as the father of Islamic jurisprudence, laid the foundation for laws that made Islam's path easier. Unfortunately, many Muslims, instead of following figures like Imam Baqir, Imam Ja'far al-Sadiq, and Abu Hanifa, glorified poets and Sufi figures like Rabia Basri.

As we have mentioned, Sufism or monasticism predates Islam, and there is no evidence of it in early Islamic history. But contemporary Sufis have included names to strengthen this practice, even though many of these figures were unaware of this association.

Sufis, through their invented practices, compiled spiritual concepts from various religions and scriptures. For instance, the famous Sufi Bayazid Bastami, from Bostam in northern Iran, is said to have adopted many practices from Hindu scriptures such as the Upanishads and Vedanta. It is believed that he was the first to present the concept of fanaa fillah (annihilation in God).

Sufis were often intellectuals, but neither professional philosophers nor recognized scholars. They did not present their beliefs based on clear facts. Their spiritual tendencies were hereditary, but they formulated personal beliefs regarding love, ego, existence, annihilation, self, and soul. The connection between man and God, and an overwhelming love for God, was the central theme of Sufism. Some believe that Sufis were special people of God, while others argue that they were lost in the labyrinth of their own identity.

What is certain is that Islam has never encouraged monasticism or Sufism. On the contrary, the life of the Prophet Muhammad (PBUH) serves as the perfect example for Muslims, where he provided a complete way of life as both a human being and the most honored of the prophets.

Allahumma Salli Ala Muhammad Wa Ala Aali Muhammad.