بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
تحریر و تحقیق:سید مسعود الرحمٰن بخاری
اللہ کے نام سے شروع جو رحمان اور رحیم ہے
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت رحم کرنے والا مہربان ہے
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو مہربان اور رحیم ہے
بسم اللہ کا ترجمہ و تشریح
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ہم کوئی بھی ترجمہ کریں صحیح ہے لیکن اس کے معنوں کو سمجھنے کے لیے اگر ان کلمات کی گہرائی میں جانے کا اتفاق ہو تو ہم یقیناً ہر نیک کام کی ابتداء بسم اللہ سے ہی کریں گے۔
سب سے پہلے یہ بات تو ہمیں معلوم ہو چکی ہے کہ بسم اللہ کا معنی اللہ کے نام سے شروع ہے لیکن اس کے مفہوم کو ہم تھوڑی گہرائی میں جا کر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورہ نمل کی آیہ نمبر 30 ہے لیکن اسے قرآن مجید کی ہر سورہ کی ابتداء میں لکھا اور پڑھا جاتا ہے سوائے سورہ توبہ یا سورہ برات کے۔ مفسرین اور تاریخ دانوں نے اس پر بہت بحث کی ہے کہ آیا بسم اللہ صرف سورہ نمل کی ایک آیہ کریمہ ہوتے ہوئے باقی سورتوں کے ابتداء میں لگائی جاتی ہے یا ہر سورہ کا حصہ مان کر اسے ہر سورہ کی ابتداء میں لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔
تحقیق و تشریح
ہم نے جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق ہمیں یہ بات ذیادہ قابلِ قبول لگتی ہے کہ بسم اللّٰہ سورہ نمل کی ہی آیہ نمبر 30 ہے لیکن اسے ہر سورہ کی ابتداء میں لگانے کی جو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں ان میں سب سے پہلے نزول قرآن کی ابتداء ہے جس میں اللہ ربّ العزت نے فرمایا۔
اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (سورہ علق 01)
پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے خلق کیا۔
یہاں بے شک بات پڑھنے کی ہو رہی ہے لیکن اس کا دائرہ انتہائی وسیع ہے جسے ہم آنے والے دلائل کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ قرآن کی ابتداء اور ابتدائی احکام میں بسم اللّٰہ کا حکم واضح موجود ہے اس لحاظ سے ایک مسلمان پر یہ لازم اور فرض ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھے۔
اس کے علاوہ بسم اللّٰہ ہر نیک کام کرنے سے پہلے پڑھنے کا حکم احادیثِ مبارکہ سے بھی ملتا ہے جس کے بعد امت مسلمہ پر یہ حکم عائد ہو جاتا ہے کہ قرآن کی تعلیم ہو یا کوئی بھی نیک کام اس سے پہلے بسم اللّٰہ پڑھنا فرض عین اور سنت رسول ہے۔
بسم اللّٰہ سے ابتداء کرنے کی دوسری وجوہات جو ہمیں سمجھ آتی ہیں ان میں قرآن مجید اور سابقہ انبیاء کرام علیھم السلام پر نازل ہونے والی الہامی کتابوں میں بھی بسم اللّٰہ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔
جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید میں ہی ثبوت موجود ہے کہ انھوں نے اپنے باایمان متعلقین اور اپنے ساتھیوں کو جب طوفان نوح سے پہلے کشتی میں سوار کرایا تو اس وقت اسی سے ملتے جلتے الفاظ کہے۔
وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْـهَا بِسْمِ اللّـٰهِ مَجْرِےهَا وَمُرْسَاهَآ ۚ اِنَّ رَبِّىْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (سورہ ھود41)
اور کہا اس میں سوار ہو جاؤ اس کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے نام سے ہے، بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔
اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السّلام نے جو مکتوب ملکہ سبا کو لکھا اس کی ابتداء بھی مکمل بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم سے ہی کی گئی تھی اور یہی وہ مکمل آیہ کریمہ ہے جس میں مکمل بسم اللّٰہ وارد ہوئی ہے۔
قَالَتْ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اِنِّـىٓ اُلْقِىَ اِلَـىَّ كِتَابٌ كَرِيْـمٌ (سورہ نمل 29)
کہنے لگی اے دربار والو! میرے پاس ایک معزز خط ڈالا گیا ہے۔
اِنَّهٝ مِنْ سُلَيْمَانَ وَاِنَّهٝ بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ (سورہ نمل 30)
وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے، اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے۔
تورات کے مطالعے سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے (باب 18-19) کہ موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے احکامات کی تبلیغ کے دوران ہر حکم کی تبلیغ کی ابتداء اللہ کے نام سے کریں گے۔
یہی اصول اللہ ربّ العالمین نے خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی حکم کیا کہ قرآن پڑھتے وقت اور سکھاتے وقت اللہ کے نام سے شروع کرنا ہے اور یہ حکم نزولِ قرآن کی ابتداء میں ہی اللہ ربّ العزّت نے اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ کی صورت میں دیا۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی قرآن حکیم کی تلاوت کی جاتی ہے یا کسی بھی نیک کام کی ابتداء کی جاتی ہے تو بسم اللّٰہ سے کرنا ہی فرض، واجب اور مستحب عمل ہے۔ اور پھر یہ طریقہ اور عمل اللہ ربّ العزّت کے حکم کے ساتھ ساتھ سابقہ انبیاء کرام علیھم السّلام کا بھی معمول رہا ہے۔
:خلاصہ تحقیق
یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہمارا خیال ہے کہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم سورہ نمل ہی کی آیہ نمبر 30 ہے نہ کہ ہر سورہ کی ابتدائی آیہ کریمہ لیکن اسے قرآن کی ابتداء یا ہر سورہ یا نیک کام کی ابتداء میں پڑھنے کا مقصد اور مطلب حکم الٰہی اور سنت انبیاء و خاتم النبیین ہے۔
ہمیں یہ بات تو معلوم ہو چکی ہے کہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم قرآن مجید کی تلاوت اور ہر نیک کام سے پہلے پڑھنے کا باضابطگی سے اللہ ربّ العزت کی طرف سے حکم ملا ہے جس طرح پہلے انبیاء کرام علیہم السّلام کو حکم تھا لیکن ہمیں یہ جان کر مزید سکون اور اطمینان ہوگا کہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کا فائدہ کتنا زیادہ ہے۔
:فوائد و برکات
ہم نے شروع میں بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کا ترجمہ پڑھا جس میں اللہ ربّ العزّت کے تین صفاتی نام ایک ساتھ وارد ہوئے 1۔ اللہ 2. رحمٰن 3. رحیم اگر ہم ان تین ناموں کی صفات کا تفصیلاً ذکر کریں تو یقیناً ہم اس میں ناکام رہیں گے کیونکہ اللہ رب العزت کے ہر نام کے معنی و مفہوم اتنے وسیع ہیں کہ جن کے لیے قلم اور کاغذ کم پڑ جائیں گے لیکن ان صفات کا حق ادا نہیں ہو پائے گا اس لیے ہم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کو پڑھنے کا مقصد اور فائدہ سمجھنے کے لیے مختصراً ان صفات کا تذکرہ کریں گے۔
بسم اللّٰہ میں اللہ کے نام سے ہر کام کی ابتداء کا حکم اور لفظ اللہ کا مفہوم جاننے کے لیے تھوڑی بحث ضروری ہے۔ ہر کام اور تلاوتِ قرآن سے پہلے بسم اللّٰہ پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس کام اور عمل کی زمہ داری اللہ ربّ العزّت کی سپرد کر رہے ہوتے ہیں اور جس کام کی ذمہ داری ہم اللہ ربّ العزّت کی سپرد کر دیں وہ کام کسی صورت خراب یا ناکام نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلے میں مولانا مودودی رحمہ اللّٰہ کا بسم اللّٰہ پڑھنے پر بہترین نظریہ ہے کہ جب آپ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم سے کسی کام کی ابتداء کرتے ہیں تو پھر آپ کو اس کام کی پریشانی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ آپ نے اپنا وہ کام اللہ کی ذمہ داری میں دے دیا ہے اور اللہ کوئی بھی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کرتا ہے۔
:اللہ کے معنی و مفہوم
اللہ تعالیٰ وہ اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں یعنی لا الہ الااللہ، اللہ وہ ہے جو اللہ الصمد ہے یعنی وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں بلکہ سب اسی کو حساب دیں گے اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے کیونکہ اسے کسی کام کے کرنے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ خود سب کا مددگار ہے، اللہ اکبر وہ سب سے بڑی شان والا بزرگ و برتر ہے اسے ہر شے پر دسترس اور قدرت حاصل ہے اللہ وہ ہے جو فقیر کو تونگر اور بادشاہ کو فقیر بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اللہ مالک الملک اور ذوالجلال ہے اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا اگر اللہ چاہے تو انسان کے ہر بگڑے کام کو درست کر دے وہ چاہے تو ہر مریض کو شفاء یاب کر دے وہ چاہے تو گناہ گار کو بخش دے اور اگر چاہے تو نیکوکار کی ایک کوتاہی پر اس کے اعمال ضائع کردے۔
اللہ کی اتنی صفات ہیں کہ ننانوے ناموں کی ساری صفات صرف اللہ کے نام میں موجود ہیں اسی لیے جب ایک مسلمان لاالہ الااللہ کا کلمہ پڑھتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ سب کچھ اللہ ہی ہے اور میں اللہ کی پناہ میں آنے کا اقرار کرتا ہوں۔ اللہ کے نام میں اتنی وسعت و طاقت ہے کہ غیر مسلم بھی اپنے خداؤں کو اللہ کے مقابل نہیں سمجھتے اور نہ ہی انہیں اللہ کا درجہ دیتے ہیں بلکہ وہ بتوں اور مقبرے والوں کو اللہ کے قریب تصور کر کے ان سے مدد اور نصرت کی دعائیں کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی ہستی ایسی ہے جو اس کائنات کی خالق و مالک ہے لیکن اس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہمیں اس کے اوتار اور مقرب ہستیوں کی ضرورت ہے۔ وہ اتنی جرات نہیں رکھتے کہ کسی بت یا مقبرے والے کو اللہ کا درجہ دے سکیں یہاں تک کہ جو لوگ حضرت عزیر علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پرستش کو مذہب سمجھتے ہیں وہ بھی انہیں خدا کی بجائے اس کا بیٹا مانتے ہیں یعنی وہ ایک طرف تو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں کہ لم یلد و لم یولد کا انکار کر کے جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں لیکن اتنی جرات نہیں رکھتے کہ حضرات عزیر و عیسیٰ علیہم السلام کو اللہ کہ سکیں۔
اللہ کی صفات و کمالات اسقدر لاجواب و لازوال ہیں اور وہ اتنی بڑی شان و منزلت کا مالک و خالق ہے تو ایسی صورت میں جب ایک مسلمان کسی کام یا عمل کی ابتداء بسم اللّٰہ یعنی اللہ کے نام و نصرت کی خواہش سے کرتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کام احسن طریقے سے مکمل نہ ہو یا وہ عمل ناقابلِ قبول ہو۔
:الرحمٰن کے معنی و مفہوم
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم میں ہی اللہ ربّ العزّت اس بات کی تشریح فرما رہا ہے کہ جب آپ میرے نام سے کسی بھی کام کا آغاز کرو گے تو میں رحمٰن اور رحیم ہوں اور میں اس کام اور عمل میں اپنی رحم دلی سے اتنی رحمت و برکت ڈال دونگا کہ وہ کام یر صورت میں ہو کر رہے گا اور انسان کی توقعات سے بڑھ کر احسن طریقے سے ہوگا اور برکتوں اور رحمتوں کا سبب بھی بنے گا۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم میں اللہ ربّ العزّت کی دو صفات رحمٰن اور رحیم ایک ساتھ وارد ہوئی ہیں دونوں معنی کے اعتبار سے تقریباً ایک دوسرے جیسی ہی ہیں مفسرین اور محققین نے اس پر کافی باب باندھے ہیں جن کی تفصیل کافی لمبی ہے مختصراً رحمان اور رحیم کی صفات ایک ساتھ ہونے کا مطلب اللہ ربّ العزّت کا رحمٰن ہونا اسکی مہربانی اور رحمت کے نزول میں یکتا ہونے اور ہر صورت حال میں رحم کرنے کی صفت ہے مثلاً ایک شخص انتہائی گناہگار اور بدکار ہے اور اللہ ربّ العزّت کا نافرمان ہے جس نے اپنی زندگی میں اللہ ربّ العزّت کے کسی حکم کی تعمیل نہیں کی اور نہ ہی کسی عمل سے خود کو جہنم کی آگ سے بچانے کا سامان کیا لیکن اللہ ربّ العالمین کی صفت رحمان ایسی صفت ہے کہ اللہ ربّ العزّت کو اس انسان کے نیک اعمال نہ کرنے سے ذرا بھر فرق نہیں پڑھتا بلکہ وہ اتنا رحمٰن ہے کہ زمین سے آسمان تک گناہوں کا بوجھ اٹھانے والے کو اپنی رحمت سے معاف کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور اسے اس کام سے کوئی بھی روکنے والا نہیں اور نہ ہی وہ کسی کے سامنے جوابدہ ہے۔
:الرحیم کے معنی و مفہوم
جبکہ رحیم کی صفت رحمان کی صفت کو تقویت و دوام دیتی ہے کہ اللہ ربّ العزّت کی رحمت اتنی وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ مستقل اور دائمی ہے مثلاً اسے اس بات سے فرق نہیں پڑھتا کہ ایک انسان گناہوں کے بوجھ اٹھائے تھا اور ایک دن اس نے اللہ ربّ العزّت سے معافی مانگ لی اور اللہ ربّ العالمین نے اسے ہر گناہ سے تائب ہونے پر رحم کرتے ہوئے معاف کر کے اسے نومولود بچے کی طرح پاک کر دیا لیکن کچھ وقت گزرتے ہی وہ انسان پھر سے گناہوں کی دلدل میں پھنس گیا اور پھر ایک دن اللہ کے خوف سے اس نے توبہ کی اور اللہ نے پھر اسے معاف کر دیا۔ یہی وہ رحمٰن کی صفت رحیم ہے کہ اللہ ربّ العزّت رحمت کا خالق ہے اور اس کی رحمت مستقل اور دائمی ہے۔ انسان جب جب گناہ کر کے اس سے معافی مانگتا ہے وہ انسان کو معاف کر دیتا ہے اسے کچھ فرق نہیں پڑھتا کہ ایک انسان بار بار غلطی کرتا ہے تو میں اسے کیوں معاف کروں بلکہ اپنی رحمت کے تکبر میں اللہ ربّ العزّت یہ اعلان فرما رہا ہے کہ میری رحمت تو بے حساب ہے ہی اور وہ لازوال بھی ہے۔
اللہ ربّ العزّت اپنی صفات میں اسی لیے کسی کو شریک نہیں کرتا اور شرک کرنے والے کو اسی لیے معافی بھی نہیں دیتا کہ اللہ ربّ العالمین المتکبر ہے اور تکبر اس کا ہی خاصہ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ رحمٰن ہے یعنی بے پناہ رحم کرنے والا ہے اور رحیم ہے یعنی لازوال رحم کرنے والا ہے۔
:حاصلِ بحث
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ایسے کلمات ہیں جو حکم الٰہی ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی عمل یا علم کے لیے مفید اور اللہ ربّ العزّت کی رحمت و شفقت اور نگرانی و سرپرستی کا باعث ہیں۔ اللہ ربّ العزّت ہر مسلمان کو ہر کام سے پہلے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کی توفیق اور آگاہی نصیب فرمائے آمین۔
فما علینا الاالبلاغ المبین ۔