Thursday, January 30, 2025

ذکر معاویہ بن ابو سفیان حصہ دوم

قرآن مجید میں منافقین کی نشانیاں:

1.جھوٹ بولنا: منافقین کی ایک نمایاں علامت جھوٹ بولنا ہے۔

معاویہ بن سفیان نے حضرت عثمان رضی اللہ کی ان کے محاصرے اور قتل کے دوران کوئی مدد نہیں کی اور بعد میں جھوٹ بولا کہ وہ رشتہ دار ہونے کے ناطے قصاص عثمان کا حقدار ہے یہ دھوکہ دہی صرف اقتدار کے لیے تھی۔

2.وعدہ خلافی کرنا: وعدہ کرنے کے بعد اسے پورا نہ کرنا۔

معاویہ بن سفیان نے امام حسن علیہ السّلام سے معائدہ کیا اور پھر اس کے ایک نکتے پر بھی عمل نہیں کیا۔

3.امانت میں خیانت کرنا: امانت سونپے جانے پر اس میں خیانت کرنا۔

معاویہ بن سفیان نے مال غنیمت سے سونا چاندی اور قیمتی سامان کو سرکاری مال قرار دیا اور اسے اپنے تصرف میں رکھا اور معمولی سامان مجاہدین میں تقسیم کرنا شروع کیا حالانکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور خلفائے راشدین کے زمانوں میں مال غنیمت کی ہر چیز امیر، غریب، مجاہد و معاون میں برابر تقسیم ہوتی تھی۔

4.جھگڑے میں بدکلامی کرنا: جب کسی سے جھگڑا ہو تو حد سے تجاوز کرنا اور بدکلامی کرنا۔

معاویہ بن سفیان نے مولا علی علیہ السّلام سے جنگیں بھی کیں اور حضرت حسن علیہ السلام کی وفات پر انہیں برے الفاظ سے یاد کیا اور پھر اقتدار پر قبضے کے بعد مولا علی علیہ السّلام پر ممبروں سے لعن تعن بھی کیا۔

اتنے پختہ دلائل کے بعد اگر کوئی معاویہ بن سفیان کا کلمہ گو ہے تو وہ سراسر منافق ہے۔

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ۔

علمی تحقیقات کی بنیاد پر دیکھا جائے تو مولا علی علیہ السّلام کی بجائے دشمنان علی کی تعریف و توصیف بیان کرنا منافقت ہے اور جو علی علیہ السلام سے بغض رکھے گا وہ نبی علیہ الصلواۃ والسلام کی زبان مبارک کے مطابق منافق ہے۔ اس کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ معاویہ بن ابو سفیان مولا علی علیہ السلام سے دشمنی اور اسلام مخالف پالیسیوں کے باعث لعنت و ملامت کا حق دار ہے اور مولا علی علیہ السلام نے اس شخص پر ویسے ہی قنوت نازلہ پڑھی ہے جیسا کہ نبی علیہ الصلواۃ والسلام نے کفار پر پڑھی تھی۔ اسلام مخالف پالیسیوں کا حوالہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ وہ تین کام جو نبی علیہ الصلواۃ والسلام اور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہیں ہوتے تھے معاویہ بن سفیان کے گھر میں ہو رہے تھے اور مولا علی علیہ السّلام کا معاویہ پر قنوت نازلہ پڑھنے کا حوالہ درج ذیل روایت میں موجود ہے۔

حدثنا حدثنا هشيم ، قال : أخبرنا حصين ، قال : حدثنا عبد الرحمن بن معقل ، قال : " صليت مع علي صلاة الغداة ، قال : فقنت ، فقال في قنوته : " اللهم عليك بمعاوية وأشياعه ، وعمرو بن العاص ، وأشياعه ، وأبي السلمي ، وعبد الله بن قيس وأشياعه " 

عبد الحمٰن بن معقل کہتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ پڑھی اور آپ علیہ السلام نے قنوت کیا اور قنوت میں یہ الفاظ کہے " اے اللہ معاویہ اور اس کے گروہ ، عمرو بن العاص اور اس کے گروہ ، ابو السلمی اور عبداللہ بن قیس اور اس کے گروہ کو پکڑ لے ان کو برباد کر دے" 

 مصنف ابن أبي شيبة (ت: أسامة) ج 3 ح 7124 ص 245


یاد رہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں پر قنوت پڑھنا صحیح احادیث سے سنت رسول ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ روایات ہمیں ایسی ملی ہیں جن کو پڑھنے کے بعد ہم حیرت و استعجاب کی کیفیت میں ہیں کہ امت مسلمہ کے کچھ بد عقیدہ لوگ کس طرح مولا علی علیہ السّلام اور معاویہ بن سفیان کے قضیے کو حل کیے بیٹھے ہیں اور عجیب و غریب قسم کے نعرے بازی اور جشن مناتے ہیں۔ اصل حق تو یہ تھا کہ ہر دور کے علماء و محدثین امت مسلمہ کے سامنے صرف حق اور سچ بیان کرتے اور بری ہو جاتے لیکن روایات و احادیث میں ضعیف اور منقطع روایات و احادیث کو ڈال کر ان لوگوں نے امت مسلمہ میں فرقوں کی بنیادیں مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں پر بھی ظلم کیا ہے۔

 عقل و شعور رکھنے والوں کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور اہل بیت علیہم السّلام کے دشمنوں کی تعریف و توصیف بیان کرنا کوئی نیکی کا کام نہیں اور نہ ہی یہ دین کی خدمت ہی ہے اگر محققین و کاتبین امت مسلمہ کے لیے اتنے ہی مخلص ہیں تو صرف حق اور سچ بیان کریں اور جو جھوٹ ہے اس کا دل اور قلم سے رد کریں۔

فما علینا الاالبلاغ المبین۔

ذکر معاویہ بن ابو سفیان 

سید 

مسعود الرحمٰن بخاری  

ذکر معاویہ بن ابو سفیان حصہ اول


ذکر معاویہ بن ابو سفیان 

سید مسعود الرحمٰن بخاری 

 مَا يُرْوَى فِي مُعَاوِيَةَ مِنَ الْفَضَائِلِ فَإِنَّهُ لَمْ يَصِحَّ مِنْهُ شَيْءٌ

(فضائلِ معاویہ میں جو کچھ روایت کیاگیاہے اُس میں سےکچھ بھی صحیح نہیں) محدثین

وَذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي تَذْكِرَةِ الْحُفَّاظِ فِي تَرْجَمَةِ النَّسَائِيِّ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ دِمَشْقَ وَالْمُنْحَرِفُ عَنْ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ بِهَا كَثِيْرٌ، فَصَنَّفْتُ كِتَابَ الْخَصَائِصِ رَجَوْتُ أَنْ يَّهْدِيَهُمُ اللهُ، ثُمَّ إِنَّهُ صَنَّفَ بَعْدَ ذَلِكَ ‹‹فَضَائِلَ الصَّحَابَةِ›› فَقِيْلَ لَهُ: أَلَّا تُخَرِّجَ فَضَائِلَ مُعَاوِيَةَ؟ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءِ أُخَرِّجُ، حَدِيْثَ: «اللَّهُمَّ لَا تُشْبِعْ بَطْنَهُ»؟ فَسَكَتَ السَّائِلُ. وَأَمَّا اتِّهَامُهُمْ لَهُ بِالتَّشَيُّعِ فَلَيْسَ صَحِيْحًا، إِذْ إِنَّهُمُ اتَّهَمُوْهُ بِذَلِكَ لِقَوْلِهِ: لَمْ يَصِحَّ فِي فَضَائِلَ مُعَاوِيَةَ إِلَّا: «لَا أَشْبَعَ اللهُ بَطْنَهُ»، وَلِأَنَّهُ أَلَّفَ فِي فَضْلِ عَلِيٍّ وَلَمْ يُصَنِّفْ فِي مَنَاقِبِ غَيْرِهِ بِالتَّخْصِيْصِ.


امام ذہبی ’’تذکرة الحفاظ‘‘ میں امام نسائی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا: میں دمشق میں داخل ہوا تو وہاں کے لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ منحرف تھے، جس پر میں نے اس امیدسے ’’کتاب الخصائص‘‘ تصنیف کی کہ اللہ تعالیٰ اُس کے ذریعے اُنہیں ہدایت عطا فرمائے۔ پھر اُنہوں نے ’’فضائل الصحابة‘‘ کتاب لکھی۔ اُن سے پوچھا گیا کہ کیا آپ فضائل معاویہ میں کچھ روایت نہیں کریں گے؟ فرمایا: میں کیا چیز روایت کروں ؟ کیا یہ حدیث: ’’اے اللہ! اس کے پیٹ کو نہ بھرنا؟ ‘‘ اس پر سائل خاموش ہو گیا۔ رہ گیا اُن پر شیعیت کا الزام تو وہ درست نہیں ہے، یہ تہمت لوگوں نے اُن پر اس لیے لگائی تھی کہ اُنہوں نے فرمایا تھا:معاویہ کے فضائل میں ’’لا أشبع اﷲ بطنه‘‘ کے سوا کوئی حدیث نہیں ہے، اور اس لیے کہ اُنہوں نے فضائل علی رضی اللہ عنہ میں کتاب تصنیف فرمائی تھی اور اُن کے علاوہ کسی اور کی شان میں کوئی مخصوص کتاب نہیں لکھی تھی۔


ذكره الذهبي في تذكرة الحفاظ، 2/699، والمزي في تهذيب الكمال، 1/38


قَالَ الذَّهَبِيُّ فِي ‹‹سِيَرِ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ›› مَا نَصُّهُ: ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنِ الْوَلِيْدِ بْنِ دَاوُدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيْدِ، قَالَ: كَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رضی اللہ عنہ مَعَ مُعَاوِيَةَ ، فَأَذَّنَ يَوْمًا فَقَامَ خَطِيْبٌ يَمْدَحُ مُعَاوِيَةَ رضی اللہ عنہ وَيُثْنِي عَلَيْهِ، فَقَامَ عُبَادَةُ رضی اللہ عنہ بِتُرَابٍ فِي يَدِهِ، فَحَثَاهُ فِي فَمِ الْخَطِيْبِ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ رضی اللہ عنہ : إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا حِيْنَ بَايَعْنَا رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالْعَقَبَةِ، عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا ومَكْرَهِنَا ومَكْسَلِنَا، وأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَلَّا نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُوْمَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. وَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: «إذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ، فَاحْثُوْا فِي أَفْوَاهِهِمُ التُّرَابَ».


امام ذہبی ’’سیر أَعلام النبلاء‘‘ میں لکھتے ہیں: ابن ابی اویس اپنے والدسے، انہوں نے ولید بن داود بن محمد بن عبادہ بن صامت سے، اُنہوں نے اپنے چچا زاد عبادہ بن ولید سے روایت کیاہے کہ اُنہوں نے فرمایا: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ معاویہ کے ساتھ تھے، ایک دن اُنہوں نے اذان کہی تو ایک خطیب کھڑے ہو کرمعاویہ کی شان میں تعریف کرنے لگا۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اُٹھے اور خاک کی ایک مٹھی بھر کر خطیب کے منہ میں ٹھونس دی۔ اس پر معاویہ غضبناک ہوئے، جس پر سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: تم (یعنی معاویہ) اس وقت نہیں تھے جب ہم نے عقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی کہ ہم اپنی پسند اور نا پسند، سستی اور کاہلی (ہر حالت) میں بھی سمع و اطاعت بجا لانے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اقدس کو ہر امر پر ترجیح دیں گے، اہل امر کے ساتھ ناحق تنازعہ نہیں کریں گے، ہرحال میں حق کی خاطر کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب تم خوشامد کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ میں مٹی بھر دینا۔


ذكره الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2/7


نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے اصحاب ہر حال میں احکامات الٰہی اور اطاعت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے خواہاں تھے انہیں کسی صورت بھی کسی ایسی خواہش یا ضرورت کی طلب نہیں ہوتی تھی جس سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے بیزاری کا اظہار کیا ہو۔ اب دیکھیے خلفائے راشدین کے بعد اطیع اللّٰہ و اطیع الرسول کی کس طرح دھجیاں بکھیری گئی تھیں۔ اس حدیث مبارکہ میں تین کام ایسے بیان ہوئے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہیں ہوئے تھے۔


وَعَنْ بُحَيْرٍ، عَنْ خَالِدٍ قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِيْكَرَبَ وَعَمْرُو بْنُ الأَسْوَدِ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِيْنَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہما تُوَفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيْبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيْبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ؟ فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللهُ u، قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا، فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغِيْظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذِبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ.


قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَنْهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ.


قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ.


قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَهَى عَنْ جُلُوْدِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوْبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ.


قَالَ: فَوَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ، يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ، وَفَرَضَ ِلابْنِهِ فِي الْمِئَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ عَلَى أَصْحَابِهِ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيْمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ.


رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ فِي السُّنَنِ وَهَذا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.


حضرت بُحیر حضرت خالد سے روایت کرتے ہیں، اُنہوں نے فرمایا: حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ، عمرو بن اسود اور اہل قنسرین سے بنو اسد کا ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان کے پاس آئے۔ معاویہ نے حضرت مقدام رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ وفات پاگئے؟ اس پر حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے ’’إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ‘‘ کہا، اس پر اس نے اُنہیں کہا: کیا تم اس کو مصیبت سمجھتے ہو؟ اُنہوں نے اُس کو فرمایا: میں اس بات کو کیوں نہ مصیبت سمجھوں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اپنی گود میں بٹھا کر فرمایا تھا: ’’یہ مجھ سے ہے اور حسین، علی سے ہے‘‘۔ اس پر اسَدی نے کہا: وہ ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا۔ خالد کہتے ہیں: اس پر حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے معاویہ سے کہا: آج میں تم کو اُس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تمہیں غصہ نہ دلاؤں اور وہ کچھ نہ سناؤں جو تمہیں ناگوار ہو۔ پھر فرمایا: اے معاویہ! میں بات شروع کرتا ہوں، اگر میں سچ کہوں تومیری تصدیق کرنا اور اگر میں جھوٹ بولوں تو میری تردید کر دینا۔ معاویہ نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا۔


حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوناپہننے کی ممانعت سنی تھی؟اُنہوں نے کہا: ہاں۔


حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم جانتے ہوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا تھا؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔


حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کی کھال کا لباس پہننے اور ا ُس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔


اس پر حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خداکی قسم! اے معاویہ! میں یہ سب کچھ تمہارے گھر میں دیکھتا ہوں۔ اس پرمعاویہ نے کہا: اے مقدام! مجھے معلوم ہے، آج میں تم سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ خالد کہتے ہیں: اس کے بعد معاویہ نے حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے لیے اتنے مال و دولت کا حکم دیاکہ اتنا اُن کے دوسرے دو ساتھیوں کے لیے نہ دیا تھا، اور اُن کے بیٹے کا وظیفہ دو سو دینار کر دیا۔ حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے (خود قبول کرنے کے بجائے) وہ سب کچھ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ خالد کہتے ہیں: اسدی کو جو ملا تھا وہ اس نے کسی کو نہ دیا۔ یہ خبرمعاویہ کو پہنچی تواُنہوں نے کہا: مقدام ایک سخی شخص ہیں، اُنہوں نے اپنے ہاتھ کھول دیے۔ رہا اسَدی تو وہ اپنی چیز کو اچھے طریقے سے سنبھالنے والا ہے۔


اسے امام ابو داود نے ’السنن‘ میں روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔


أخرجه أبو داود في السنن، كتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع، 4/68، الرقم/4131


قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ بَعْدَ هَذَا الْكَلَامِ: فَأَشَارَ بِهَذَا إِلَى مَا اخْتَلَقُوْهُ لِمُعَاوِيَةَ مِنَ الْفَضَائِلِ مِمَّا لَا أَصْلَ لَهُ. وَقَدْ وَرَدَ فِي فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ أَحَادِيْثُ كَثِيْرَةٌ لَكِنْ لَيْسَ فِيْهَا مَا يَصِحُّ مِنْ طَرِيْقِ الإْسْنَادِ، وَبِذَلِكَ جَزَمَ إِسْحَقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا.


حافظ ابن حجرعسقلانی اس کلام کونقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں: اس سے اُنہوں نے اُن بے اصل روایات کی طرف اشارہ کیاہے جو لوگوں نے معاویہ بن سفیان کے فضائل میں گھڑی تھیں۔ فضائلِ معاویہ میں بکثرت روایات وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت ایسی نہیں ہے جس کی سند صحیح ہو، یہی امام اسحاق بن راھویہ، امام نسائی اور دوسرے علماءِ حدیث کا قطعی قول ہے۔


ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 7/104.


وَقَالَ الْعَلَّامَةُ بَدْرُ الدِّيْنِ الْعَيْنِيُّ الْحَنَفِيُّ: فَإِنْ قُلْتَ: قَدْ وَرَدَ فِي فَضِيْلَتِهِ أَحَادِيْثُ كَثِيْرَةٌ. قُلْتُ: نَعَمْ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِيْهَا حَدِيْثٌ يَصِحُّ مِنْ طَرِيْقِ الإِسْنَادِ، نَصَّ عَلَيْهِ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْه وَالنَّسَائيُّ وَغَيْرُهُمَا، فَلِذَلِكَ قَالَ: بَابُ ذِكْرِ مُعَاوِيَةَ، وَلَمْ يَقُلْ فَضِيْلَةً وَلَا مَنْقَبَةً.


علامہ بدر الدین عینی حنفی فرماتے ہیں: اگر تم نے یہ کہو کہ معاویہ کی شان میں تو بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، تو میں جواب میں یہ کہوں گا: جی ہاں، لیکن اُن احادیث میں سند کے اعتبار سے کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ہے، اسی موقف کو امام اسحاق بن راہویہ، امام نسائی اور دیگر محدثین نے بیان کیا ہے۔ اسی لیے امام بخاری نے ذکر معاویہ کا باب، کہا ہے، فضیلت اور منقبت معاویہ کا باب نہیں کہا۔

العيني في عمدة القاري، 16/343


وَقَالَ الْعَلَّامَةُ ابْنُ تَيْمِيَّةَ: وَمُعَاوِيَةُ لَيْسَتْ لَهُ بِخَصُوْصِهِ فَضِيْلَةٌ فِي الصَّحِيْحِ.


علامہ ابن تیمیہ بیان کرتے ہیں کہ خصوصاً معاویہ کی کوئی فضیلت کسی صحیح حدیث میں بیان نہیں ہوئی۔

ابن تيمية في منهاج السنة النبوية، 7/40


وَقَالَ أَيْضًا: وَطَائِفَةٌ وَضَعُوْا لِمُعَاوِيَةَ فَضَائِلَ وَرَوَوْا أَحَادِيْثَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِيْ ذَلِكَ كُلُّهَا كَذِبٌ.


علامہ ابن تیمیہ ہی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ایک گروہ نے معاویہ کے لیے فضائل گھڑے ہیں اور اُنہوں نے اس سلسلے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں جو سب کی سب من گھڑت اور جھوٹی ہیں۔

ابن تيمية في منهاج السنة النبوية، 4/400


 وَقَالَ الْإِمَامُ السُّيُوْطِيُّ: بَابُ ذِكْرِ مُعَاوِيَةَ: لَمْ يَقُلْ وَلَا مَنْقَبَةٌ، لِأَنَّهُ لَمْ يَصِحَّ فِيْ فَضَائِلِهِ شَيْءٌ، كَمَا قَالَهُ ابْنُ رَاهَوَيْهِ.


امام سیوطی فرماتے ہیں: امام بخاری نے ذکرِ معاویہ کا باب قائم کیاہے منقبت (فضیلتِ معاویہ) کا باب قائم نہیں کیا،کیونکہ معاویہ کے فضائل میں کوئی چیز صحیح نہیں ہے، امام اسحاق بن راہویہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔

السيوطي في التوشيح شرح الجامع الصحيح، 6/2379


وَقَالَ الشَّيْخُ عَبْدُ الْحَقِّ الدِّهْلَوِيُّ الْحَنَفِيُّ: وَاعْلَمْ أَنَّ الْمُحَدِّثِيْنَ قَالُوْا: لَمْ يَصِحَّ فِيْ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ حَدِيْثٌ، وَكَذَا قَالَ السُّيُوْطِيُّ.


شیخ عبد الحق محدث دہلوی بیان کرتے ہیں: جان لیجئے! محدثین کرام نے فرمایاہے: فضائل معاویہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے، اور ایسا ہی امام سیوطی نے کہا ہے۔

الشيخ عبد الحق في لمعات التنقيح شرح مشكاة المصابيح، 9/775


 معاویہ بن سفیان کے حوالے سے ایک ہی حدیث جو صحیح الاسناد اور معیار حدیث پر پوری اترتی ہے وہ یہ ہے:

صحیح مسلم، کتاب : نیکی ،سلوک اور ادب کے مسائل

ابن عباس سے روایت ہے کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اتنے میں رسول (ص) تشریف لائے۔ میں ایک دروازہ کے پیچھے چھپ گیا۔ آپ نے ہاتھ سے مجھے تھپکایا اور فرمایا: جا معاویہ کو بلا لا۔ میں گیا پھر لوٹ کر آیا اور میں نے کہا وہ کھانا کھاتے ہیں۔ آپ نے پھر فرمایا جا اور معاویہ کو بلا لا۔ میں پھر لوٹ کر آیا اور کہا وہ کھانا کھاتے ہیں۔ آپ (ص) نے فرمایا خدا اسکا پیٹ کبھی نہ بھرے۔ ابن المثنی کہتے ہیں کہ انہوں نے ام امیہ سے پوچھا کہ اسکا کیا مطلب ہے، تو جواب میں انہوں نے فقط میرا شانہ تھپتھپا دیا

دلائل النبوۃ للبیہقی ۲۴۳/۲ و سندہ حسن

(اس کو امام احمد بن حنبل اور امام حاکم نے بھی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے)

معاویہ ابن سفیان کو اس بد دعا کو دعا کے طور پر استعمال کرنے والوں کا واحد عذر یہ ہے کہ رسول اللہ (ص) نے اللہ سے دعا فرمائی ہے کہ: “یا اللہ اگر میں کسی کے لیے بددعا کروں، اور وہ اسکا مستحق نہیں، تو اس بددعا کو رحمت میں تبدیل کر دے”۔ اس لیے امام مسلم نے یہی عنوان دے کر اسکے نیچے اس روایت کو نقل کیا ہے۔


لیکن اس حدیث میں واضح یہ الفاظ وارد ہوتے ہیں کہ اگر وہ میری بددعا کا مستحق نہیں تو اس بد دعا کو رحمت میں تبدیل کر دے۔ یہاں دو اشکال ہیں۔ پہلی یہ کہ نبی علیہ السّلام پہلے تو کسی کو بددعا نہیں دیتے جیسے یثرب والے واقعہ میں جبریل علیہ السلام نے بددعا کے لیے کہا یا پھر حکم کے لیے کہ وہ بستی کو الٹا دیں لیکن آپ علیہ السلام نے منع فرما دیا (اللھم صل علیٰ محمد وآل محمد) اور اگر آپ علیہ السلام کسی کو بددعا کر دیں تو آپ علیہ السلام کی کوئی بھی دعا یا بد دعا رد نہیں ہوسکتی بلکہ وہ جیسا چاہیں ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ آپ علیہ السلام کی قنوت نازلہ پڑھ کر ایک ماہ تک کفار پر بددعا کرنے کی مثال موجود ہے۔

دوسری شکل یہ ہے کہ اگر کوئی مستحق نہ ہو تو بددعا رحمت میں بدل جائے گی لیکن اگر مستحق ہو تو رد ہونے کا دعویٰ غلط ہے اور پھر اس بددعا کے قبول ہونے کی روایات بھی ہمیں ملتی ہیں۔

سب سے پہلے ہم قرآن کی آیہ کریمہ سے دیکھتے ہیں کہ معاویہ بن ابو سفیان اس بد دعا کا کس طرح حقدار ہوتا ہے۔

جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم بلا رہے تھے تو معاویہ بن سفیان کو چاہیے تھا کہ وہ کھانا چھوڑ کر فوراً حاضر ہوتا کیونکہ قرآن میں صاف موجود ہے ۔


یا ایها الذین آمنوا استجیبوا لله و للرسول اذا دعاکم لما یحییکم (سورۃ انفال،آیت 24)

ترجمہ: اے ايمان والو اللہ و رسول كى آواز پر ليك كہو جب وہ تمھيں اس امر كى طرف دعوت ديں جس ميں تمھارى زندگى ہے۔


اس آیہ کریمہ کے مطابق معاویہ بن ابو سفیان نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے بلانے پر حاضر نہ ہو کر خود پر بہت بڑا ظلم کیا ہے اس لیے وہ اس بد دعا کا صحیح حق دار ٹھہرا۔

اب ہم اس بددعا کے اثرات پر نظر ڈالیں گے جس سے اندازہ ہوگا کہ واقعی وہ اس بددعا کا حقدار تھا اور پھر یہ بددعا واقعتاً کی گئی تھی اور یہ بددعا قبول بھی ہوئی۔

معاویہ بن سفیان کا بیان ہے کہ اسکے بعد اسکا پیٹ کبھی نہیں بھرا۔ اور معاویہ نے اپنی دنیا اور آخرت میں اس دعا سے فائدہ اٹھایا ہے، دنیا میں اس طرح کہ جب وہ شام کا امیر ہو گیا تو وہ دن میں سات بار کھانا کھاتا تھا، جسے ایک پیالے میں لایا جاتا تھا، جس میں بہت سا گوشت اور پیاز ہوتا تھا اورمعاویہ اس میں سے کھاتا تھا، اور وہ دن میں "سات" بار گوشت کے ساتھ کھانا کھاتا تھا اور حلوہ اور بہت سے پھل اسکے علاوہ تھے اور کہتا تھا خدا کی قسم میں سیر نہیں ہوا البتہ تھک گیا ہوں ۔ (ابن کثیر کہتے ہیں) یہ کھانا پینا ایک نعمت ہے جس میں سب بادشاہ رغبت رکھتے ہیں ۔ جبکہ آخرت میں اسطرح فائدہ اٹھایا کہ امام مسلم نے اس حدیث کا ایک اور روایت سے پیچھا کیا ہے جسے بخاری وغیرہ نے کئی طریق سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ اے اللہ، میں ایک بشر ہوں، پس جس بندے کو میں نے برا بھلا کہا ہے یا اسے کوڑے مارے ہیں یا اس پر بددعا کی ہے، اور وہ اسکا مستحق نہ تھا تو تو اسے کفارہ اور قربت بنا دے ۔

حوالہ: البدایہ و النہایہ، جلد 8، صفحہ 158، اردو ایڈیشن، نفیس اکیڈمی


اس روایت میں ایک بار پھر امام مسلم نے معاویہ بن ابو سفیان کو اس بددعا کا حقدار ہونے کے ساتھ ساتھ بچانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ روایت ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ معاویہ بن ابو سفیان اس بددعا کا حقدار تھا اور یہ بددعا قبول بھی ہوئی ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ سات بار کھانے والے کون لوگ ہیں اور حدیث ان کے بارے میں مزید کیا حکم دیتی ہے۔

حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان رجلا كان ياكل اكلا كثيرا، فاسلم فكان ياكل اكلا قليلا، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" إن المؤمن ياكل في معى واحد والكافر ياكل في سبعة امعاء".

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب بہت زیادہ کھانا کھایا کرتے تھے، پھر وہ اسلام لائے تو کم کھانے لگے۔ اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔ صحيح البخاري5393    


اسی حدیث کو باقی کتب میں اسی طرح کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔

  ● صحيح البخاري 5394 ● صحيح مسلم5374 ● صحيح مسلم5372 ● جامع الترمذي 1818 ● سنن ابن ماجه3257 ● مسندالحميدي 685

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ و مسلم كلّها صحيحة»

حكم: أحاديث صحيح البخاريّ و مسلم كلّها صحيحة

یہ تمام احادیث صحیح اور معیار حدیث کے مطابق ہیں۔


معاویہ بن سفیان کا ذیادہ کھانا کھانے کی وجہ سے وزن اور پیٹ بڑھ گیا تھا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نبی علیہ الصلواۃ والسلام کی بددعا سے معاویہ ذیادہ کھانا کھاتا تھا جس کی وجہ سے اس کا یہ حال ہوا۔ یہ روایت بہت سی کتب حدیث اور تواریخ میں ملتی ہے۔


مغیرہ نے بحوالہ شعبی بیان کیا ہے کہ معاویہ پہلا شخص تھا جس نے بیٹھ کر خطبہ دیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب اُس کی چربی زیادہ ہو گئی اور پیٹ بڑھ گیا اور اسی طرح مغیرہ سے بحوالہ ابراہیم روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ جمعہ کے روز بیٹھ کر خطبہ دینے والا سب سے پہلا شخص معاویہ تھا ۔ اور ابو ملیح نے بحوالہ میمون بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے منبر پر بیٹھنے والا شخص معاویہ تھا اور لوگوں سے بیٹھنے کے لیے اُس نے اجازت طلب کی تھی ۔ امام ابن ابی شیبہ نے بھی اپنی کتاب المصنف میں یہ روایت نقل کی ہے۔ یہ روایت "مصنف ابن ابی شیبہ" کے الجزء الثامن، کتاب الأوائل، رقم 5088 میں موجود ہے۔

اس کے علاوہ، امام سیوطی نے بھی اپنی کتاب "تاریخ الخلفاء" کے صفحہ 77 پر اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔


حاصل بحث یہ ہے کہ معاویہ بن ابو سفیان کی شخصیت پر محدثین نے کسی بھی صحیح حدیث کو ضعیف اور غیر سند یافتہ قرار دیا ہے اور جو ایک حدیث صحیح السند ہے اس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی بددعا کے علاوہ کوئی بھی بات ایسی نہیں جو کسی محدث کے لیے "فضائل معاویہ بن ابو سفیان" کے عنوان کا باعث بنتی اس لیے امام بخاری نے بھی فضائل معاویہ کی بجائے ذکر معاویہ کا باب لکھا ہے۔


تاریخ اسلام اور کتب احادیث معاویہ بن سفیان کی مولا علی علیہ السّلام سے دشمنی اور اسلام مخالف پالیسیوں کو چینخ چینخ کر بیان کر رہی ہیں لیکن امت مسلمہ میں کچھ بد عقیدہ اور بے عقل لوگ معاویہ بن سفیان کی تعریفوں کے پل باندھنے میں لگے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ ان کا یہ کردار او عمل سراسر بغض علی و اہل بیت ہے یا کم علمی لیکن محبان اہلِ بیت کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور ناقابلِ برداشت ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ اسلام کی سربلندی یا تبلیغ دین کی خاطر ہی معاویہ بن ابو سفیان کے کردار کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی یہ کسی طرح بھی دین کی خدمت کا کام تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی کو تاریخ اور حدیث پر بات کرنے کا اتنا ہی شوق و ذوق تھا تو حق بات بیان کر دینا کافی تھا جس میں نہ تو کسی کہ تعریف کی جاتی اور نہ ہی تذلیل کا ہی پہلو سامنے آتا۔ لیکن کچھ جھوٹی روایات اور احادیث کا سہارا لے کر نہ جانے یہ لوگ کون سا ثواب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے اس بات سے منسوب کرتے ہیں کہ صحابہ کی توہین نہ ہوجائے تو ایسے لوگ جن کے دل اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور اہل بیت علیہم السّلام کی محبت سے خالی ہوں انہیں صحابی کہنا بھی اصحابِ رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین ہے۔ اس لیے کہ صحابی صرف کردار و گفتار سے بنتا ہے نہ کہ صرف دیدارِ مصطفٰے سے کیونکہ اگر دیدارِ مصطفٰے ہی صحابیت کے لیے کافی ہوتا تو اصحابِ رسول میں بارہ منافقین نہ ہوتے اور نہ ہی ابو بکر رضی اللہ کو فتنہ ارتداد سے نمٹنے کی ضرورت پیش آتی، نہ ہی عمر رضی اللہ اور عثمان رضی اللہ کو قتل کیا جاتا، نہ ہی جنگ جمل، جنگ صفین و نہروان ہوتیں اور نہ ہی حسن و مولا علی علیہم السّلام کو شہید کیا جاتا اور کسی صورت بھی مکمن نہیں تھا کہ اتنے صحابہ یزید بن معاویہ ملعون و مردود کے ہاتھ پر بیت کرتے اور امام حسین علیہ السّلام کی صورت میں اسلام و دین کا نہر فرات کے کنارے بہیمانہ اور ظالمانہ قتل کرتے۔ اس سارے دورانیہ میں اصحابِ رسول کی ہزاروں کی تعداد موجود تھی تو کیا وہ سب عزت و احترام کے حامل ہیں؟ علمی اعتبار سے ہم کسی صورت یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ کوئی شخص سر عام دین اسلام کی دھجیاں اڑائے اور عزت و احترام کا حقدار بھی ہو۔ دین اسلام نے منافقین کی جو نشانیاں بیان فرمائی ہیں ان کے مطابق بھی بنو امیہ کا کردار سب کے سامنے ہے پھر امت مسلمہ کی اصلاح چاہنے والے کیوں اپنی آنکھیں بند کر کے جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔ قرآن مجید فرقان حمید میں منافقین کی چار بڑی نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔ 

حصہ دوم 👇

Tuesday, December 24, 2024

میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

تحقیق حدیث: لو كان من بعدي نبي، لكان عمر بن الخطاب

میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا 

تحریر و تحقیق: سید مسعود الرحمٰن بخاری 

مولا علی علیہ السلام بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو۔ یقینا جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ متفق علیہ

ویسے تو تاریخ میں دور نبوت کے بعد بہت سی خرافات نے جنم لیا ہے لیکن ان سب میں تاریخ اسلام کو نقصان پہچانے والی چیز غلط روایات کا عام ہونا ہے۔ دور نبوت کے بعد زمانہ خلافت راشدہ میں کچھ حد تک معاملات بہتر رہے لیکن بنو امیہ کے دور حکومت میں دین اسلام میں اور تاریخ اسلام میں ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیے گئے جنہوں نے نہ صرف تاریخ اسلام کو شدید ترین نقصان پہنچایا بلکہ دین اسلام میں بھی بہت سی خرافات و بدعات کو تقویت مل گئی۔

زیر بحث موضوع بھی تاریخ اسلام کے ان پہلوؤں کے بارے میں ہے جو صرف ایک تاریخی غلطی میں نہیں گنے جاتے بلکہ اس کا تعلق ایک مسلمان اور خاص کر ایک مربی و خطیب کے لیے جنت و دوزخ کا فیصلہ کرنے والے پہلو ہیں۔

ابتدائیہ میں ہم نے مولا علی علیہ السّلام سے روایت کی گئی ایک حدیثِ مبارکہ بیان کی ہے جو مستند اور متفق علیہ ہے اور تمام مکاتب فکر کے ساتھ ساتھ تمام محدثین نے اس پر جرح کی ہے اور اسے مستند اور معتبر کہا ہے۔ اس حدیثِ مبارکہ کے مطابق سب سے زیادہ محتاط رہنے کی تلقین علمائے کرام اور مصنفین و مبلغین کو کی گئی ہے اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بھی یہی ہے کہ اگر وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی طرف کوئی جھوٹی روایت منسوب کرے گا تو وہ دوزخی ہے۔

زیر بحث حدیث حضرت عمر رضی اللہ کی شان میں بیان کی جانے والی احادیث میں سب سے زیادہ مشہور و مقبول ہونے والی احادیث میں سے ایک ہے لیکن افسوس کہ یہ ایک منقطع اور ضعیف حدیث ہے لیکن ہمارے ادیب اور مبلغین ممبر رسول پر ہی بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر اتنی بڑی تہمت لگا رہے ہیں اور اس پر گھنٹوں بحث کرتے ہیں۔

عجیب سی بات ہے کہ کسی صحابی کی فضیلت و اہمیت بیان کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا جائے حالانکہ ایک صحابی ہونا ہی اتنا بڑا رتبہ ہے کہ ایک عام انسان اس معیار تک کسی صورت نہیں پہنچ سکتا۔ پھر بھی کچھ لوگوں کو جھوٹ اور قصہ گوئی کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ وہ صرف واہ واہ کے لیے اپنے بیانات کو جھوٹ سے مرچ مصالحہ لگا کر بیان کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔

یہ حدیث جن کتب میں بیان کی گئی ہے ان میں اکثر میں اسے منقطع اور ضعیف کہا گیا ہے لیکن یہ اسقدر زد عام ہو گئی ہے کہ کسی نے اس پر تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اور جو لوگ ایسی کوشش کرتے ہیں ان پر فتوے لگ جاتے ہیں اور پھر انہیں مناظروں اور بحثوں کے چیلنج ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔

(مرفوع) حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا المقرئ، عن حيوة بن شريح، عن بكر بن عمرو، عن مشرح بن هاعان، عن عقبة بن عامر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب ". قال: هذا حسن غريب، لا نعرفه إلا من حديث مشرح بن هاعان ترمذی 3686 ضعیف.

عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا“ ۱؎۔

امام ترمذی کہتے ہیں:

یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔

امام ابن حجر العسقلاني اپنی کتاب تهيذيب التهذيب میں لکھتے ہیں:

وعلته : مشرح بن هاعان ، فإنه وإن وثقه ابن معين ، فقد قال ابن حبان : ” يروي عن عقبة مناكير لا يتابع عليها ، فالصواب ترك ما انفرد به ” .

اس حدیث کی سند میں مسئلہ مشرح بن ھاعان ہے، اسکو ابن معین نے ثقہ کہا ہے، اور ابن حبان نے کہا ہے کہ وہ عقبہ سے منکر احادیث بیان کرتا تھا اور کوئی اور سند نہیں ان احادیث کی جو اسکی حمایت کریں، تو بہتر ہے کہ وہ احادیث ترک کی جائیں جن میں وہی راوی ہے۔

 تهيذيب التهذيب، ج 10، ص 155


2.

حدثنا ابو عبد الرحمن ، حدثنا حيوة ، حدثنا بكر بن عمرو ، ان مشرح بن هاعان اخبره، انه سمع عقبة بن عامر ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لو كان من بعدي نبي، لكان عمر بن الخطاب (مسند احمد ضعیف روایت)17405" .


حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔  

المنتخب من علل الخلال میں درج ہے کہ امام أحمد بن حنبل سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا کہ "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا” تو انہوں نے کہا:

فقال: اضرب عليه حديثة فإنه عندي منكر۔

اس حدیث کو کاٹ دو کیونکہ یہ میرے نزدیک منکر ہے۔

المنتخب من علل الخلال )ص 190 اور 191)

اس حدیث پر بحث یا تحقیق کا مقصد صرف اصلاح اور بنا تحقیق تبلیغ و اشاعت کرنے والوں کے لیے تحقیق و تفتیش کی فکر دینا مقصود ہے۔ اس حدیث پر تحقیق کے دوران ہماری کچھ موجودہ علمائے کرام سے بات ہوئی تاکہ ہم اس پر بحث کر سکیں لیکن ہمیں انتہائی افسوس اور مایوسی ہوئی جب انہوں نے ہماری تحقیق و جستجو کو حضرت عمر رضی اللہ کا بغض قرار دیا۔

ہم ایسی طرز فکر رکھنے والے علماء سے گذارش کرتے ہیں کہ تحقیق کے پہلو کو ہر صورت زیر نظر رکھیں اور ہر بات اور تحریر کو مسلکی منافرت کی نظر سے نہ دیکھیں اور نہ ہی کسی تحقیقی تحریر یا قول کو بغض و عناد سمجھیں۔ ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ حضرت عمر یا کسی بھی صحابی کی فضیلت و اہمیت بیان کرنےکے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر جھوٹ باندھنے کی کیوں ضرورت پیش آرہی ہے جب کہ تاریخ میں ہر صحابی کے متعلق صحیح روایات بھی موجود ہیں۔

تاریخی حوالوں اور چند تاریخی کتب پڑھنے کے بعد ہمیں جو احساس ہوا وہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ بنو امیہ کے ادوار میں بعض لوگوں کو جھوٹی روایات گھڑنے اور لکھنے کے لیے مقرر کیا جاتا تھا اور اس کے عوض انہیں مراعات و انعامات سے بھی نوازا جاتا رہا ہے۔ بڑی عجیب سی بات ہے کہ آج پندرہ سو سال بعد علماء و مشائخ کسی صحابی کی زندگی پر کوئی سخت بات کر دے تو اس پر فتوے لگا دیے جاتے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے وصال کے فقط تیس سال بعد ہی ایسے ناہنجار اور اسلام دشمن عناصر مسندوں اور مسجدوں میں بیٹھ چکے تھے جو اپنے کردار اور عمل سے جہنمی اور بے دین کہلائے جانے کے لائق ہیں۔

بنو امیہ کے ان کالے کرتوتوں کے ثبوت کے طور پر چند کتب کا ذکر ضروری ہے تاکہ قارئین بھی ان کا مطالعہ کر سکیں اور اس تحریر کو بھی کسی بغض و عناد یا کسی صحابی کی توہین نہ سمجھ کر ایک تحقیقی جائزے کے طور پر سمجھا جائے۔

الموضوعات 

مصنف: ابن جوزی (متوفی 597ھ) اس کتاب میں ابن جوزی نے جعلی احادیث کو جمع کیا اور ان کی حقیقت واضح کی۔

اللالی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ

مصنف: جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ) سیوطی نے اس کتاب میں موضوع احادیث کو جمع کیا اور ان کی سند کا تجزیہ پیش کیا۔

الاخبار الدخیلة

مصنف: شیخ محمد تقی شوشتری (متوفی 1376ھ) یہ کتاب جعلی احادیث کی نشاندہی اور ان کے تجزیے پر مشتمل ہے۔

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مصنف: علامہ مرتضی عسکری علامہ عسکری نے اس کتاب میں ان صحابہ کے بارے میں تحقیق کی ہے جن کے وجود پر شبہات ہیں اور ممکنہ طور پر ان کے نام سے جعلی احادیث منسوب کی گئی ہیں۔

الموضوعات فی الآثار و الأخبار

مصنف: سید ہاشم معروف الحسنی اس کتاب میں جعلی احادیث اور ان کے پس منظر کا جائزہ لیا گیا ہے۔

آج جو علماء و مشائخ خود کو بڑی توپ شے سمجھتے ہیں اور بنا تحقیق و تفتیش کے لکھی لکھائی باتوں کو مجالس و محافل میں اور مساجد و مدارس میں ذکر کر کے داد تحسین وصول کرتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں۔

یہ صرف حضرت عمر رضی اللہ کی ہی بات نہیں بہت سے اصحابِ رسول کی فضیلت و اہمیت پر بے شمار ایسی ضعیف احادیث کی مثالیں موجود ہیں۔ لیکن کیوں؟ اس کا جواب صرف ایک محقق ہی دے سکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس طرح بغض حیدر میں کچھ بدبختوں نے جناب ابو طالب علیہ السّلام کو نعوذ باللہ بے دین ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور اہل بیت علیہم السّلام کے بغض میں باقی اصحابِ رسول کی فضیلت و برتری بیان کرنے کے لیے جھوٹی روایات و احادیث کا سہارا لیا ہے ان کا مقصد صرف اور صرف امت مسلمہ میں تفریق و اختلافات ہے اس کے علاوہ یہ لوگ اور کچھ نہیں چاہتے تھے۔

اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ایک حدیثِ مبارکہ ہے کہ:

 "لا تطروني كما تطري النصارى عيسى ابن مريم، ولكن قولوا: عبد الله ورسوله".

عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم کو نصاریٰ نے ان کے مرتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے، (بلکہ میرے متعلق یہی) کہا کرو کہ میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔“ سنن دارمی 2819

[بخاري 3445]، [أبويعلی 153]، [ابن حبان 413]، [الحميدي 27]

اس حدیثِ مبارکہ میں اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کائنات کی سب سے عظیم ترین اور معتبر ہستی یعنی اپنے بارے میں فرما رہے ہیں کہ مجھے میرے مرتبے سے بلند نہ کرو یہ نہ ہو کہ عیسائیوں کی طرح مجھے اللہ کے مقام پر بٹھا دو بلکہ مجھے اللہ کا بندہ اور نبی ہی کہو۔ ایسی صورت میں کہ جب اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اپنے لیے مقام و مرتبے میں بڑھائی کے خواہاں نہیں ہیں امت محمدیہ کے علماء و مشائخ اپنے نبی پر ہی جھوٹ باندھ کر امت کو گمراہ کن عقائد و نظریات کی راہ پر لگا رہے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی صحابی کا رتبہ بڑھانے یا گھٹانے سے دین اسلام کی ساخت یا تعلیماتِ اِسلام پر ذرا بھی فرق نہیں پڑنے والا۔ دین قرآن مجید فرقان حمید کی (الیوم اکملت لکم دینکم) والی آیہ کریمہ کے بعد نہ تو وسعت کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی دین کے کسی قانون، طریقے یا نظریے کو بدلنے کی سہولت دیتا ہے۔

جیسا کہ دین اسلام میں کسی کمی بیشی کی کوئی گنجائش اور ضرورت نہیں ہے اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید کو مکمل ضابطہ حیات اور محمد الرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کو اسلامی تعلیمات و قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ بنا کر پیش کر دیا ہے اب نہ تو دین میں کوئی کمی و کجی رہ گئی ہے اور نہ ہی کسی نئے قوانین و ضوابط کی گنجائش ہی باقی ہے۔ اس لیے ایسی جھوٹی روایات یا من گھڑت احادیثِ بیان کرنے سے دین کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی بلکہ اس عمل سے ایک زمہ دار انسان گناہ گار ہوتا جاتا ہے۔

فما علینا الاالبلاغ المبین ۔

تحقیق حدیث:لو كان من بعدي نبي، لكان عمر بن الخطاب میرے بعد کو

ئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔

سید مسعود الرحمٰن بخاری 

Saturday, November 23, 2024

مسلکی اختلافات کی وجوہات

مسلکی اختلافات کی وجوہات

تحقیق و تحریر: سید مسعود الرحمٰن بخاری

:ابتدائی کلمات:

تاریخ اسلام کے اس نازک موضوع پر کچھ تحریر کرنے سے پہلے تمام قارئین سے گزارش ہے کہ اس تحریر کو خالصتاً ایک تحقیقی جائزہ سمجھیں اور خود سے بھی تحقیق اور جستجو کریں۔ کسی بھی تحقیقی مواد کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تحقیق کرنے والا اپنی تحقیق کو دوسروں کی سوچ اور فکر پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور نہ ہی ایسا ممکن ہے کہ کسی مذہبی تحقیق کو ہر مسلک پرست انسان پسند بھی کرے۔ اس لیے اگر کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی بھی بات بری لگے تو ہم معذرت خواہ ہیں اور اگر کسی بات سے اختلاف ہو یا کسی بات کی سند کے لحاظ سے شکوک وشبہات ہوں تو برائے مہربانی اپنی قیمتی رائے سے ضرور مستفید کریں تاکہ ہم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کر سکیں۔ 

جزاکم اللہ خیرا کثیرا۔


:مسلک کی تعریف:

"مسلک" عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "چلنے کا راستہ" یا "طریقہ" ہیں۔ اسلامی سیاق میں، دینِ اسلام کے کسی خاص فکری، فقہی یا عقیدتی نظام کی پیروی کرنے کو مسلک کہا جاتا ہے۔ مسلک عام طور پر کسی امام یا عالم دین کے طے کردہ اصول و ضوابط پر مبنی ہوتا ہے۔ 

قرآن و حدیث میں لفظ "مسلک" مخصوص اصطلاحی معنی میں نہیں آیا، لیکن اس کے مترادف الفاظ اور ان کے مفہوم ہمیں مختلف آیات اور احادیث میں ملتے ہیں۔ مثلاً:


قرآن مجید میں ارشاد ہوا:


وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ

(سورۃ الانعام: 153)

ترجمہ: "یہی میرا سیدھا راستہ ہے، اسی کی پیروی کرو، اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو، وہ تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔"

اس آیت میں "صراط" (راستہ) کا ذکر اس مفہوم میں آتا ہے جو مسلک یا طرزِ عمل کی تشریح کرتا ہے۔


وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪-وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ-وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(سورہ آل عمران:103)

ترجمہ "اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اوراللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔ اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔"

اس آیہ کریمہ میں تفرقات کا ذکر تو موجود ہے جو مسلک پرستی کے بعد ایک دوسرے میں فرق کر کے کیا جاتا ہے لیکن مسلک کا ذکر نہیں البتہ اس آیہ کریمہ کو مسلک کے معنی کے مترادفات میں ذیادہ قریب سے لیا جاتا ہے۔


احادیث میں بھی اس قسم کا اشارہ موجود ہے:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


"میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے صرف ایک جنت میں جائے گا۔"

(ترمذی، کتاب الإيمان)

یہ حدیث ان فکری اور عقیدتی اختلافات کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مسلک اور مکتب فکر کی صورت میں نمودار ہوئے۔

:اختلافی وجوہات 

چونکہ مسلک کسی امام یا عالم دین کے وضع کردہ طریقے یا فکری اور نظریاتی سوچ کے نتیجے میں بننے والے گروہ کو کہتے ہیں اس لیے ایسے عقیدے، طریقے یا نظریے سے اختلاف کی گنجائش موجود رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی عالم دین کہلانے والا یا ایک نظریاتی فکر رکھنے والا کسی بھی موقع پر دوسرے مسالک سے اختلاف کی گنجائش نکال کر اپنا ایک الگ مسلک تخلیق کرنے کی جرات کر لیتا ہے۔

تاریخ اسلام میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ہر دور میں مطالعے اور تحقیق و تبصروں میں تضادات پائے گئے ہیں جن کی مثال امام ابو حنیفہ کے اپنے ہی شاگرد امام مالک اور امام مالک کے شاگرد امام شافعی اور بالترتیب امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل کے نظریات اپنے استاد سے میل نہیں کھاتے یہاں تک کہ ان چاروں اساتذہ اور شاگردان علمائے کرام کے نام سے حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مسالک کی بنیاد پڑ گئی اور آج ان چاروں مسالک کے ہر دور میں نئے آنے والے شاگردوں اور عقیدت مندوں کے مختلف عقائد و نظریات کی بنا پر اختلافات کی لمبی لکیر کھینچ دی گئی ہے۔

مسلکی اور نظریاتی اختلافات میں تیرہویں اور چودہویں صدی کے مذہبی مصنفین نے بھی اپنا پورا حصہ ڈالا ہے جس کی ڈھیروں مثالیں مختلف مکاتب فکر کی کتابوں میں بے بنیاد قصوں اور کہانیوں کو تاریخ کا حصہ بنانے کا کام کر کے چھوڑی گئی ہیں۔ بر صغیر میں ہر فکر کو مکمل آزادی حاصل ہونے کی بنیاد پر مصنفین اور فرقہ وارانہ عقائد و نظریات رکھنے والوں نے مبالغہ آرائی اور جھوٹ کی ساری حدود پھلانگ ڈالیں۔ اس ماحول میں خاص طور پر اہل سنت اور اہل تشیع کے مسلکی مصنفین نے ایک دوسرے کے علماء اور عقائد پر ڈائریکٹ تحریری حملے کیے اور دوسرے مسلک کے علماء کی تذلیل کا کوئی پہلو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جس کی مثالیں شاہ ولی اللہ نے اپنے خوابوں کو بنیاد بنا کر اہل تشیع کے خلاف "فیوض الحرمین"، "قراۃ العینین"، "ازالۃ الخفا" اور "حجۃ اللہ البالغہ" جیسی کتابیں لکھ کر اور 1790ء میں شاہ عبد العزیز نے شیعہ اعتقادات کے خلاف "تحفۃ اثنا عشریۃ" نامی کتاب لکھی، آیت اللہ سید دلدار علی نقوی ؒ نے شیعہ عقیدہ توحید، نبوت، امامت و آخرت کے خلاف لکھے گئے ابواب پنجم، ششم، ہفتم و ہشتم کے رد میں "الصَّوارمُ الإلهیّات فی قَطْع شُبَهات عابدی العُزّی و اللّات"، "حِسامُ الاسلام و سَهامُ المَلام"، " خاتِمَۃُ الصَّوارم"، "ذو الفقار"اور "اِحْیاءُ السُّنّۃ و اماتَۃُ الْبِدْعَۃ بِطَعْنِ الأسِنَّۃ" لکھیں۔ علامہ سید محمد قلی موسوی ؒنے تحفہ اثنا عشریہ کے پہلے، دوسرے، ساتویں، دسویں اور گیارہویں ابواب کا الگ الگ جواب دیا اور ان کتب کا مجموعہ "الأجناد الإثنا عشريۃ المحمديۃ" کے عنوان سے شائع ہوا۔ مولانا خیر الدین محمد الہ آبادی ؒ نے باب چہارم کے جواب میں "هدایۃ العزیز " لکھی۔ ان کے علاوہ بھی کئی علما نے تحفہ اثنا عشریہ کے ابواب کے رد میں کتب تصنیف کیں جن میں شیعہ مکتب فکر کا موقف واضح کیا گیا۔ البتہ بعض علما نے اس کے تمام ابواب کے جواب میں ایک ہی کتاب لکھی جن میں سے علامہ سید محمّد کمال دہلوی ؒنے" نزھۃ اثنا عشریۃ" اور مرزا محمد ہادی رسواؒ نے اردو میں "تحفۃ السنۃ " لکھیں۔ اس طرح کی ڈھیروں کتابیں جنہوں نے فرقہ پرستی کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا مختلف مصنفین کی طرف سے لکھی گئیں۔

موجودہ دور میں جہاں مطالعہ انتہائی آسان اور عام ہو چکا ہے وہیں اکثر لوگ فرقوں اور مسالک سے بے بیزار ہوتے جا رہے ہیں جس کی بڑی وجہ کسی بھی فرقے یا مسلک کے علماء کا دوسرے فرقوں یا مسالک پر تنقید برائے تنقید اور اپنے مسلک یا فرقے کو ثابت کرنے کے لیے جھوٹے دلائل کا پیش کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیث فارمز سے کوئی نیا فرقہ پرست مشہور ہوتا ہے اور اس کے پیچھے ہزاروں کی تعداد میں اس کے فالوورز اسے ڈیفینڈ کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا فرقہ جنم لے رہا ہے۔

کچھ عرصہ تک تو مسلکی اختلافات صرف بحث و تمحیص اور نوک جھونک کی حد تک رہے لیکن پھر کچھ شدت پسند عناصر نے ان مسلکی اختلافات کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا جس کی بنیاد پر مختلف فرقوں یا مسالک میں ہاتھا پائی اور گالم گلوچ کا رواج عام ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ اہل عرب کی اسلام سے قبل والی حالت ہوگئی اور مسالک میں عربوں کی پہلی خاندانی دشمنی کی طرح مسلکی دشمنی کی بدولت قتل و غارتگری اور آخری حد تک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا۔ ان سب کی وجہ تاریخ اسلام میں من گھڑت کہانیوں اور قصوں سے شروع ہوئی جسے لوگوں اور مسلک کے ٹھیکیداروں نے ثابت کرنے کے لیے کمر کس لی اور اپنی اپنی فوج لے کر مسلکی منافرت کے میدان میں کود گئے۔ جس کے نتیجے میں مسلکی منافرت تو پھیلی ہی لیکن اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ مسلک میں شدت پسندی کا راستہ بھی کھل گیا۔ سب سے پہلے شاہ اسماعیل نے اپنی کتب میں اہل سنت کو عزاداری پر حملے کے لیے اکسایا اور کہا کہ تعزیہ توڑنے کا ثواب بت شکنی جیسا ہے۔ جس کے جواب میں اہل تشیع نے تبرا کا جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا لیکن سید دلدار علی نقوی نے انہیں اس کام سے روک دیا۔ لیکن ان عوامل کے باعث بر صغیر میں فکری و تحریری انتشار نے شدت پسندی کی طرف قدم بڑھا دیے۔

موجودہ دور میں شیعہ سنی فساد اور دونوں مکاتب فکر کے نظریات و عقائد میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور اس کی وجہ بنو امیہ کے مختلف ادوار یا ان کے حامی تاریخ دانوں کی حکام کی خوشامد اور چاپلوسی کے نتیجے میں لکھی گئی مختلف تاریخی کتب بھی ہیں۔ مثلاً تاریخ اسلام میں محمد بن قاسم کے کردار کو کچھ مصنفین نے اسلامی ہیرو کے طور پر متعارف کروا کر داد تحسین تو وصول کر لیا لیکن تاریخ کو اتنا غلط ملط کر دیا کہ اصل کہانی ہی منظر عام سے غائب ہو گئی۔ آج ایک فرقہ اس کہانی کو سچ ثابت کرنے اور دوسرا جھوٹ ثابت کرنے پر لڑ رہے ہیں۔ اسی طرح تاریخ اسلام میں بنو امیہ اور بنو حکم جیسے حکمرانوں کو بعض علمائے کرام اور مصنفین نے انتہائی قابل احترام و قابل ستائش ہستیاں بیان کرنے میں ایڑی چوٹی کا ذور لگا دیا جبکہ دوسری طرف دوسرے فرقے نے بنو امیہ اور بنو حکم کی غلط حکمتِ عملی اور جابرانہ نظام مملکت کے کردار کے ساتھ مرچ مصالحہ لگا کر جلتی پر تیل کا کام کیا جس کے نتیجے میں ایک نہ ختم ہونے والا محاذ گرم ہوگیا۔ ان سارے حقائق کی بنیاد پر سادہ لوح اور کم علم طبقہ بنا تحقیق و تفتیش کے دونوں گروہوں میں تقسیم ہوتا چلا گیا اور پھر ان سب نے بھیڑ چال کی طرح اپنے عقائد و نظریات کے پیشوا اور ٹھیکیداروں کو ہی سچ مان کر آپس میں دشمنیاں پال لیں۔

فرقوں یا مسالک میں نظریاتی اختلافات کی سب سے بڑی وجہ مختلف مکاتب فکر میں موجود وہ کم علم عالم ہیں جو صرف اپنے مسالک کی کتاب پڑھ کر اور اپنے پیشواؤں کو سن کر دوسرے مسالک پر چڑھ دوڑتے ہیں انہیں اپنے مسلک کے پیشواؤں کی لکھی ہر بات اتنی ہی سچ لگتی ہے جتنا اللہ کی کتاب یہانتک کہ بعض اوقات وہ اپنے مسلک پرست عالم کی قرآن مجید کے مقابلے میں لکھی بات کو بھی سچ ثابت کرنے کے لیے دلائل کے انبار لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں اکثر لوگ یہ بات جانتے بھی ہیں کہ جو بات قرآن و حدیث سے ٹکرا رہی ہے وہ غلط ہی ہے لیکن وہ پھر بھی حیلے بہانوں اور مکاری و عیاری سے مسلک پر آنچ نہیں آنے دیتے بلکہ اس بات کو ایک نئے معنی دے کر ثابت کرنے کی جستجو میں جت جاتے ہیں۔ اس تگ و دو میں اکثر لوگ کفریہ کلمات اور لعن طعن کا سہارا لیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں جس سے انتشار کی فضا معتدل ہونے کی بجائے مزید گرم ہونے لگتی ہے نتیجتاً مصالحت کے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔

فرقہ پرستی کو ہوا دینے میں ہر فرقے یا مسلک میں پائے جانے والے شدت پسند عناصر بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جن کی مثال اہل تشیع اور اہل سنت میں مختلف ادوار میں قتل ہونے والے مولوی اور ذاکرین ہیں۔ ان شدت پسند گروپس کی تربیت اس نہج پر کی جاتی ہے کہ وہ ایک کلمہ گو کو قتل کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ اس کے قتل کو جہاد اکبر سمجھتے ہیں جبکہ دوسری طرف مقتول کے مسلکی ورثاء مقتول کے قتل پر فخر محسوس کرتے اور اسے مجاہد قرار دیتے ہوئے اس کی مسند پر اپنے ایک اور مجاہد کو بٹھا دیتے ہیں۔ معاشرے میں ایسے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انہیں شہ دینے والے عناصر اپنے ان مجاہدین کی تربیت و تعلیم کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ان کی ہر طریقے سے حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

تاریخ اسلام میں سب سے زیادہ مسلکی و نظریاتی اختلافات اہل سنت اور اہل تشیع میں پائے جاتے ہیں لیکن موجودہ دور میں اہل سنت والجماعت کے مختلف گروہوں میں بھی ایسے اختلافات پروان چڑھتے جا رہے ہیں۔ اہل سنت والجماعت کے مختلف مکاتب فکر کے ان اختلافات اور نظریات کی بڑی وجہ مناظرات اور مختلف گروہوں کے درمیان ممبروں اور اسٹیجوں سے بیان بازیاں ہیں۔ اس کی مثال موجودہ دور میں محمد علی مرزا اور دیوبندی علماء کے بہت سے مجاہدین ہیں جو ایک دوسرے کو چیلنجز اور لعن طعن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس کے نتیجے میں دونوں طرف کے فالوورز اور معتقدین ہر میڈیم پر محاذ لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جس طرح ایک وقت میں اہل سنت اور اہل تشیع میں ہلکے پھلکے فقرات اور طنز و تشنیع سے شروع ہونے والا ٹاکرا ایک جنگ کا میدان بن گیا تھا اسی طرح آنے والے ادوار میں بریلوی ، دیوبندی، وہابی محاذ بھی گرم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ موجودہ فرقوں اور گروہوں سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں ان کے اپنے ہی عقائد و نظریات تقویت پا رہے ہیں اور یہ سب کچھ تہتر فرقوں والی حدیث کو پورا کرتا نظر آرہا ہے۔

ان سب وجوہات نے فرقہ وارانہ عقائد کو تقویت تو دی لیکن خوش قسمتی سے کسی بھی ملک میں اس کے اثرات اتنی شدت سے رونما نہیں ہوئے جتنی تباہی ان نظریات و افکار نے انڈیا اور پاکستان میں کی۔ ہندوستان اور پاکستان میں مسلک پرستی کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ان ممالک میں غیر اسلامی قوانین و ضوابط کا بھی ہے۔ باقی ممالک کے مقابلے میں ہمارے ممالک میں اسلامی قوانین کے نفاذ نہ ہونے کی وجہ انڈیا میں تو غیر مسلم حکومت اور پاکستان میں غیر اسلامی نظریات کے حامل حکمران ہیں، جنہیں دین کی الف ب بھی نہیں آتی اس کی ہزاروں مثالیں آئے روز سوشل میڈیا پر ہمارے حکمرانوں کی میمز دیکھ کر مل جائیں گی جس میں کسی کو کوئی سورہ باوجود کوشش کی پڑھی نہیں جاتی اور کوئی تو بسم اللّٰہ بھی پڑھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک کے حکمران اللہ ربّ العالمین سے کھلی جنگ کرنے کا اعلان سود پر قرض دینے کا اعلان کر کے کرتے ہیں۔ دین سے کوسوں دور ہونے کی وجہ سے ملک میں مسلکی منافرت اور آئے روز کے مذہبی عقائد و نظریات کی صورت میں پھیلے انتشار کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ جہاں ملک کے حکمرانوں کو دین سے رغبت اور اسلامی سوچ و فکر سے تعلق نہ ہو وہاں مذہبی و مسلکی اختلافات بنا کسی خوف و خطر کے معاشرے کو گندگی کا ڈھیر بنا سکتے ہیں۔ اگر ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہو جائے تو یہ مسلکی اختلافات اور نظریات کا ویسے ہی دم گھٹ جائے گا۔ جب کسی مناظرے یا تکرار یا پھر لعن تعن کا حساب حاکم وقت مانگے گا تو ان فرقہ پرست عناصر کی ہمت ٹوٹ جائے گی۔ جب کسی کلمہ گو کو بیچ چوراہے میں یا پھر بھرے مجمع میں یا گھر میں گھس کر قتل کیا جائے گا اور بدلے میں قاتل کو سرعام پھانسی ہوگی تو انتشار پھیلانے والوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ جب ایک اسلامی مملکت میں مذہبی حکمران برسر اقتدار ہوگا تو وہاں کسی مسلک کا نہیں بلکہ صرف اللہ کے دین اور شریعت محمدی کا نفاذ ہوگا۔

:خلاصہ تحقیق:

مسلکی منافرت اور اختلافات نے سب سے زیادہ برصغیر کو متاثر کیا ہے ان سب عقائد و نظریات کو برصغیر میں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں برصغیر سر فہرست ہے جہاں اتنے بڑے بڑے عالم و فاضل ہر گلی کی نکڑ پر مل جاتے ہیں، لیکن یہی سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ یہ عالم و فاضل طبقہ بنا کسی روک ٹوک کے آزادی سے اپنے افکار و نظریات کا پرچار کر رہا ہے۔ ایک عام انسان جس کی فکر دو وقت کی روٹی اور ذریعہ معاش دن بھر کی محنت و مشقت ہے وہ جب شام کو گھر جا کر ٹی وی آن کرتا ہے یا اپنے موبائل پر سوشل میڈیا کو کھولتا ہے تو ہر روز نئے عقائد و تعلیمات کا سامنا اسے دین سے ہی بیزار کر دیتا ہے۔ اور جو لوگ دن بھر سوشل میڈیا میں گھسے بیٹھے رہتے ہیں وہ ان اختلافات سے تنگ آکر کسی بھی راستے کا انتخاب نہیں کر پاتے اور اپنا ہی کوئی طریقہ یا عقیدہ وضع کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔

ان اختلافات اور مسلکی رشہ کشی کا یہ نقصان بھی ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب تک اسلام کی صحیح تعلیم و تصویر نہیں پہنچتی اور وہ اس انتشار کی فضاء کو دیکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے معاملے میں غلط تصورات پال لیتے ہیں۔ البتہ اس بات کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ غیر مسلم جو قرآن و حدیث اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی حیات طیبہ سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں وہ مسلمانوں کے بین المسالک انتشار کو دیکھ کر خود سے تحقیق و تفتیش کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں اکثر کامل و اکمل مومنین بن کر ابھرتے ہیں۔

ہم اس دور میں یہ بیڑا تو نہیں اٹھا سکتے کہ بین المسالک اتحاد و اتفاق کو تقویت دے سکیں لیکن کم سے کم اتنا ضرور کر سکتے ہیں کہ ہر باشعور انسان کو ایک فکر اور سوچ دے سکیں تاکہ وہ اپنی تحقیق و جستجو سے اصل دین کی لذت کو محسوس کر سکے۔

فما علینا الاالبلاغ المبین ۔

 

Wednesday, November 20, 2024

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے

تحریر و تحقیق:سید مسعود الرحمٰن بخاری  

اللہ کے نام سے شروع جو رحمان اور رحیم ہے

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت رحم کرنے والا مہربان ہے

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو مہربان اور رحیم ہے

بسم اللہ کا ترجمہ و تشریح 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ہم کوئی بھی ترجمہ کریں صحیح ہے لیکن اس کے معنوں کو سمجھنے کے لیے اگر ان کلمات کی گہرائی میں جانے کا اتفاق ہو تو ہم یقیناً ہر نیک کام کی ابتداء بسم اللہ سے ہی کریں گے۔

سب سے پہلے یہ بات تو ہمیں معلوم ہو چکی ہے کہ بسم اللہ کا معنی اللہ کے نام سے شروع ہے لیکن اس کے مفہوم کو ہم تھوڑی گہرائی میں جا کر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورہ نمل کی آیہ نمبر 30 ہے لیکن اسے قرآن مجید کی ہر سورہ کی ابتداء میں لکھا اور پڑھا جاتا ہے سوائے سورہ توبہ یا سورہ برات کے۔ مفسرین اور تاریخ دانوں نے اس پر بہت بحث کی ہے کہ آیا بسم اللہ صرف سورہ نمل کی ایک آیہ کریمہ ہوتے ہوئے باقی سورتوں کے ابتداء میں لگائی جاتی ہے یا ہر سورہ کا حصہ مان کر اسے ہر سورہ کی ابتداء میں لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔

تحقیق و تشریح 

ہم نے جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق ہمیں یہ بات ذیادہ قابلِ قبول لگتی ہے کہ بسم اللّٰہ سورہ نمل کی ہی آیہ نمبر 30 ہے لیکن اسے ہر سورہ کی ابتداء میں لگانے کی جو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں ان میں سب سے پہلے نزول قرآن کی ابتداء ہے جس میں اللہ ربّ العزت نے فرمایا۔

اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (سورہ علق 01)

پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے خلق کیا۔

یہاں بے شک بات پڑھنے کی ہو رہی ہے لیکن اس کا دائرہ انتہائی وسیع ہے جسے ہم آنے والے دلائل کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ قرآن کی ابتداء اور ابتدائی احکام میں بسم اللّٰہ کا حکم واضح موجود ہے اس لحاظ سے ایک مسلمان پر یہ لازم اور فرض ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھے۔

اس کے علاوہ بسم اللّٰہ ہر نیک کام کرنے سے پہلے پڑھنے کا حکم احادیثِ مبارکہ سے بھی ملتا ہے جس کے بعد امت مسلمہ پر یہ حکم عائد ہو جاتا ہے کہ قرآن کی تعلیم ہو یا کوئی بھی نیک کام اس سے پہلے بسم اللّٰہ پڑھنا فرض عین اور سنت رسول ہے۔

بسم اللّٰہ سے ابتداء کرنے کی دوسری وجوہات جو ہمیں سمجھ آتی ہیں ان میں قرآن مجید اور سابقہ انبیاء کرام علیھم السلام پر نازل ہونے والی الہامی کتابوں میں بھی بسم اللّٰہ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔

جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید میں ہی ثبوت موجود ہے کہ انھوں نے اپنے باایمان متعلقین اور اپنے ساتھیوں کو جب طوفان نوح سے پہلے کشتی میں سوار کرایا تو اس وقت اسی سے ملتے جلتے الفاظ کہے۔

وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْـهَا بِسْمِ اللّـٰهِ مَجْرِےهَا وَمُرْسَاهَآ ۚ اِنَّ رَبِّىْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (سورہ ھود41)

اور کہا اس میں سوار ہو جاؤ اس کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے نام سے ہے، بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السّلام نے جو مکتوب ملکہ سبا کو لکھا اس کی ابتداء بھی مکمل بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم سے ہی کی گئی تھی اور یہی وہ مکمل آیہ کریمہ ہے جس میں مکمل بسم اللّٰہ وارد ہوئی ہے۔

قَالَتْ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اِنِّـىٓ اُلْقِىَ اِلَـىَّ كِتَابٌ كَرِيْـمٌ (سورہ نمل 29)

کہنے لگی اے دربار والو! میرے پاس ایک معزز خط ڈالا گیا ہے۔

اِنَّهٝ مِنْ سُلَيْمَانَ وَاِنَّهٝ بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ (سورہ نمل 30)

وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے، اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے۔

 تورات کے مطالعے سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے (باب 18-19) کہ موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے احکامات کی تبلیغ کے دوران ہر حکم کی تبلیغ کی ابتداء اللہ کے نام سے کریں گے۔

یہی اصول اللہ ربّ العالمین نے خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی حکم کیا کہ قرآن پڑھتے وقت اور سکھاتے وقت اللہ کے نام سے شروع کرنا ہے اور یہ حکم نزولِ قرآن کی ابتداء میں ہی اللہ ربّ العزّت نے اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ کی صورت میں دیا۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی قرآن حکیم کی تلاوت کی جاتی ہے یا کسی بھی نیک کام کی ابتداء کی جاتی ہے تو بسم اللّٰہ سے کرنا ہی فرض، واجب اور مستحب عمل ہے۔ اور پھر یہ طریقہ اور عمل اللہ ربّ العزّت کے حکم کے ساتھ ساتھ سابقہ انبیاء کرام علیھم السّلام کا بھی معمول رہا ہے۔

:خلاصہ تحقیق 

یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہمارا خیال ہے کہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم سورہ نمل ہی کی آیہ نمبر 30 ہے نہ کہ ہر سورہ کی ابتدائی آیہ کریمہ لیکن اسے قرآن کی ابتداء یا ہر سورہ یا نیک کام کی ابتداء میں پڑھنے کا مقصد اور مطلب حکم الٰہی اور سنت انبیاء و خاتم النبیین ہے۔

ہمیں یہ بات تو معلوم ہو چکی ہے کہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم قرآن مجید کی تلاوت اور ہر نیک کام سے پہلے پڑھنے کا باضابطگی سے اللہ ربّ العزت کی طرف سے حکم ملا ہے جس طرح پہلے انبیاء کرام علیہم السّلام کو حکم تھا لیکن ہمیں یہ جان کر مزید سکون اور اطمینان ہوگا کہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کا فائدہ کتنا زیادہ ہے۔

:فوائد و برکات

ہم نے شروع میں بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کا ترجمہ پڑھا جس میں اللہ ربّ العزّت کے تین صفاتی نام ایک ساتھ وارد ہوئے 1۔ اللہ 2. رحمٰن 3. رحیم اگر ہم ان تین ناموں کی صفات کا تفصیلاً ذکر کریں تو یقیناً ہم اس میں ناکام رہیں گے کیونکہ اللہ رب العزت کے ہر نام کے معنی و مفہوم اتنے وسیع ہیں کہ جن کے لیے قلم اور کاغذ کم پڑ جائیں گے لیکن ان صفات کا حق ادا نہیں ہو پائے گا اس لیے ہم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کو پڑھنے کا مقصد اور فائدہ سمجھنے کے لیے مختصراً ان صفات کا تذکرہ کریں گے۔

بسم اللّٰہ میں اللہ کے نام سے ہر کام کی ابتداء کا حکم اور لفظ اللہ کا مفہوم جاننے کے لیے تھوڑی بحث ضروری ہے۔ ہر کام اور تلاوتِ قرآن سے پہلے بسم اللّٰہ پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس کام اور عمل کی زمہ داری اللہ ربّ العزّت کی سپرد کر رہے ہوتے ہیں اور جس کام کی ذمہ داری ہم اللہ ربّ العزّت کی سپرد کر دیں وہ کام کسی صورت خراب یا ناکام نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلے میں مولانا مودودی رحمہ اللّٰہ کا بسم اللّٰہ پڑھنے پر بہترین نظریہ ہے کہ جب آپ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم سے کسی کام کی ابتداء کرتے ہیں تو پھر آپ کو اس کام کی پریشانی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ آپ نے اپنا وہ کام اللہ کی ذمہ داری میں دے دیا ہے اور اللہ کوئی بھی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کرتا ہے۔

:اللہ کے معنی و مفہوم

اللہ تعالیٰ وہ اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں یعنی لا الہ الااللہ، اللہ وہ ہے جو اللہ الصمد ہے یعنی وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں بلکہ سب اسی کو حساب دیں گے اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے کیونکہ اسے کسی کام کے کرنے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ خود سب کا مددگار ہے، اللہ اکبر وہ سب سے بڑی شان والا بزرگ و برتر ہے اسے ہر شے پر دسترس اور قدرت حاصل ہے اللہ وہ ہے جو فقیر کو تونگر اور بادشاہ کو فقیر بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اللہ مالک الملک اور ذوالجلال ہے اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا اگر اللہ چاہے تو انسان کے ہر بگڑے کام کو درست کر دے وہ چاہے تو ہر مریض کو شفاء یاب کر دے وہ چاہے تو گناہ گار کو بخش دے اور اگر چاہے تو نیکوکار کی ایک کوتاہی پر اس کے اعمال ضائع کردے۔

اللہ کی اتنی صفات ہیں کہ ننانوے ناموں کی ساری صفات صرف اللہ کے نام میں موجود ہیں اسی لیے جب ایک مسلمان لاالہ الااللہ کا کلمہ پڑھتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ سب کچھ اللہ ہی ہے اور میں اللہ کی پناہ میں آنے کا اقرار کرتا ہوں۔ اللہ کے نام میں اتنی وسعت و طاقت ہے کہ غیر مسلم بھی اپنے خداؤں کو اللہ کے مقابل نہیں سمجھتے اور نہ ہی انہیں اللہ کا درجہ دیتے ہیں بلکہ وہ بتوں اور مقبرے والوں کو اللہ کے قریب تصور کر کے ان سے مدد اور نصرت کی دعائیں کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی ہستی ایسی ہے جو اس کائنات کی خالق و مالک ہے لیکن اس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہمیں اس کے اوتار اور مقرب ہستیوں کی ضرورت ہے۔ وہ اتنی جرات نہیں رکھتے کہ کسی بت یا مقبرے والے کو اللہ کا درجہ دے سکیں یہاں تک کہ جو لوگ حضرت عزیر علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پرستش کو مذہب سمجھتے ہیں وہ بھی انہیں خدا کی بجائے اس کا بیٹا مانتے ہیں یعنی وہ ایک طرف تو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں کہ لم یلد و لم یولد کا انکار کر کے جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں لیکن اتنی جرات نہیں رکھتے کہ حضرات عزیر و عیسیٰ علیہم السلام کو اللہ کہ سکیں۔

اللہ کی صفات و کمالات اسقدر لاجواب و لازوال ہیں اور وہ اتنی بڑی شان و منزلت کا مالک و خالق ہے تو ایسی صورت میں جب ایک مسلمان کسی کام یا عمل کی ابتداء بسم اللّٰہ یعنی اللہ کے نام و نصرت کی خواہش سے کرتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کام احسن طریقے سے مکمل نہ ہو یا وہ عمل ناقابلِ قبول ہو۔

:الرحمٰن کے معنی و مفہوم 

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم میں ہی اللہ ربّ العزّت اس بات کی تشریح فرما رہا ہے کہ جب آپ میرے نام سے کسی بھی کام کا آغاز کرو گے تو میں رحمٰن اور رحیم ہوں اور میں اس کام اور عمل میں اپنی رحم دلی سے اتنی رحمت و برکت ڈال دونگا کہ وہ کام یر صورت میں ہو کر رہے گا اور انسان کی توقعات سے بڑھ کر احسن طریقے سے ہوگا اور برکتوں اور رحمتوں کا سبب بھی بنے گا۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم میں اللہ ربّ العزّت کی دو صفات رحمٰن اور رحیم ایک ساتھ وارد ہوئی ہیں دونوں معنی کے اعتبار سے تقریباً ایک دوسرے جیسی ہی ہیں مفسرین اور محققین نے اس پر کافی باب باندھے ہیں جن کی تفصیل کافی لمبی ہے مختصراً رحمان اور رحیم کی صفات ایک ساتھ ہونے کا مطلب اللہ ربّ العزّت کا رحمٰن ہونا اسکی مہربانی اور رحمت کے نزول میں یکتا ہونے اور ہر صورت حال میں رحم کرنے کی صفت ہے مثلاً ایک شخص انتہائی گناہگار اور بدکار ہے اور اللہ ربّ العزّت کا نافرمان ہے جس نے اپنی زندگی میں اللہ ربّ العزّت کے کسی حکم کی تعمیل نہیں کی اور نہ ہی کسی عمل سے خود کو جہنم کی آگ سے بچانے کا سامان کیا لیکن اللہ ربّ العالمین کی صفت رحمان ایسی صفت ہے کہ اللہ ربّ العزّت کو اس انسان کے نیک اعمال نہ کرنے سے ذرا بھر فرق نہیں پڑھتا بلکہ وہ اتنا رحمٰن ہے کہ زمین سے آسمان تک گناہوں کا بوجھ اٹھانے والے کو اپنی رحمت سے معاف کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور اسے اس کام سے کوئی بھی روکنے والا نہیں اور نہ ہی وہ کسی کے سامنے جوابدہ ہے۔

:الرحیم کے معنی و مفہوم 

جبکہ رحیم کی صفت رحمان کی صفت کو تقویت و دوام دیتی ہے کہ اللہ ربّ العزّت کی رحمت اتنی وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ مستقل اور دائمی ہے مثلاً اسے اس بات سے فرق نہیں پڑھتا کہ ایک انسان گناہوں کے بوجھ اٹھائے تھا اور ایک دن اس نے اللہ ربّ العزّت سے معافی مانگ لی اور اللہ ربّ العالمین نے اسے ہر گناہ سے تائب ہونے پر رحم کرتے ہوئے معاف کر کے اسے نومولود بچے کی طرح پاک کر دیا لیکن کچھ وقت گزرتے ہی وہ انسان پھر سے گناہوں کی دلدل میں پھنس گیا اور پھر ایک دن اللہ کے خوف سے اس نے توبہ کی اور اللہ نے پھر اسے معاف کر دیا۔ یہی وہ رحمٰن کی صفت رحیم ہے کہ اللہ ربّ العزّت رحمت کا خالق ہے اور اس کی رحمت مستقل اور دائمی ہے۔ انسان جب جب گناہ کر کے اس سے معافی مانگتا ہے وہ انسان کو معاف کر دیتا ہے اسے کچھ فرق نہیں پڑھتا کہ ایک انسان بار بار غلطی کرتا ہے تو میں اسے کیوں معاف کروں بلکہ اپنی رحمت کے تکبر میں اللہ ربّ العزّت یہ اعلان فرما رہا ہے کہ میری رحمت تو بے حساب ہے ہی اور وہ لازوال بھی ہے۔

اللہ ربّ العزّت اپنی صفات میں اسی لیے کسی کو شریک نہیں کرتا اور شرک کرنے والے کو اسی لیے معافی بھی نہیں دیتا کہ اللہ ربّ العالمین المتکبر ہے اور تکبر اس کا ہی خاصہ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ رحمٰن ہے یعنی بے پناہ رحم کرنے والا ہے اور رحیم ہے یعنی لازوال رحم کرنے والا ہے۔

:حاصلِ بحث 

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ایسے کلمات ہیں جو حکم الٰہی ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی عمل یا علم کے لیے مفید اور اللہ ربّ العزّت کی رحمت و شفقت اور نگرانی و سرپرستی کا باعث ہیں۔ اللہ ربّ العزّت ہر مسلمان کو ہر کام سے پہلے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کی توفیق اور آگاہی نصیب فرمائے آمین۔

فما علینا الاالبلاغ المبین ۔

 

Tuesday, November 19, 2024

احادیث میں بسم اللّٰہ پڑھنے کا حکم

: احادیث میں بسم اللّٰہ پڑھنے کا حکم

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کی تعلیم و تربیت قرآن و سنت میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ حدیث مبارکہ میں "بسم اللہ" کے ذکر اور فضیلت کے حوالے سے متعدد احادیث موجود ہیں۔ ذیل میں چند اہم احادیث ان کے حوالہ جات کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں 

:کھانے سے پہلے "بسم اللہ" پڑھنے کا حکم

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:

"كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا غُلَامُ، سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ"

ترجمہ: "میں رسول اللہ ﷺ کے زیر تربیت تھا اور کھانے کے دوران میرا ہاتھ پلیٹ میں اِدھر اُدھر جاتا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے لڑکے! اللہ کا نام لو (بسم اللہ پڑھو)، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے قریب سے کھاؤ۔"

(صحیح بخاری: 5376، صحیح مسلم:5269 انٹرنیشنل نمبر2022).

 :کسی کام کی ابتداء پر "بسم اللہ" کی تاکید

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِبِسْمِ اللَّهِ فَهُوَ أَبْتَرُ"

ترجمہ: "ہر اہم کام جو اللہ کے نام سے شروع نہ کیا جائے، وہ بے برکت رہتا ہے۔"

(سنن ابن ماجہ: 1894، مسند احمد: 8553، صحیحہ: 922)


 :پانی یا مشروب پینے سے پہلے "بسم اللہ" کا ذکر

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا، وَمَنْ نَسِيَ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ"

ترجمہ: "تم میں سے کوئی کھڑے ہو کر پانی نہ پئے، اور جو بھول جائے وہ 'بسم اللہ' کہے۔"

(صحیح مسلم: 2026)

 :شیطان کو دور رکھنے کے لیے "بسم اللہ" کی فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ"

ترجمہ: "جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانے سے پہلے اللہ کا ذکر کرتا ہے (بسم اللہ پڑھتا ہے)، تو شیطان کہتا ہے: تمہارے لیے نہ ٹھہرنے کی جگہ ہے نہ کھانے کی۔ لیکن اگر وہ داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہ کرے تو شیطان کہتا ہے: تمہیں قیام کی جگہ مل گئی۔"

(صحیح مسلم:  5262انٹرنیشنل نمبر/2018)

:خلاصہ

"بسم اللہ" پڑھنے کا حکم سنت سے واضح ہے اور اسے زندگی کے ہر عمل کا لازمی حصہ بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ عمل نہ صرف شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہے بلکہ کاموں میں برکت اور کامیابی کا سبب بھی بنتا ہے۔ 

Tuesday, November 5, 2024

وراثت کے اصول اور اہل بیت علیہم السّلام

 وراثت کے اصول اور اہل بیت علیہم السّلام

انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی حدیث کا تحقیقی جائزہ

تحقیق و تصنیف: سید مسعود الرحمٰن بخاری

قرآن میں وراثت کے اصول کا بیان سوره النساء

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

سورہ نساء آیات 11-12

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ-فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًاؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(11)وَ  لَكُمْ  نِصْفُ  مَا  تَرَكَ  اَزْوَاجُكُمْ  اِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّهُنَّ  وَلَدٌۚ-فَاِنْ  كَانَ  لَهُنَّ  وَلَدٌ  فَلَكُمُ  الرُّبُعُ  مِمَّا  تَرَكْنَ  مِنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  یُّوْصِیْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-وَ  لَهُنَّ  الرُّبُعُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  اِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّكُمْ  وَلَدٌۚ-فَاِنْ  كَانَ  لَكُمْ  وَلَدٌ  فَلَهُنَّ  الثُّمُنُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  تُوْصُوْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-وَ  اِنْ  كَانَ  رَجُلٌ  یُّوْرَثُ  كَلٰلَةً  اَوِ  امْرَاَةٌ  وَّ  لَهٗۤ  اَخٌ  اَوْ  اُخْتٌ  فَلِكُلِّ  وَاحِدٍ  مِّنْهُمَا  السُّدُسُۚ-فَاِنْ  كَانُوْۤا  اَكْثَرَ  مِنْ  ذٰلِكَ  فَهُمْ  شُرَكَآءُ  فِی  الثُّلُثِ  مِنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  یُّوْصٰى  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍۙ-غَیْرَ  مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً  مِّنَ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  عَلِیْمٌ  حَلِیْمٌﭤ(12)

ترجمہ: کنزالعرفان

اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا حصہ ہے اوراگر میت کی اولاد ہوتو میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے ترکے سے چھٹا حصہ ہوگا پھر اگرمیت کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کے لئے تہا ئی حصہ ہے پھر اگر اس (میت) کے کئی بہن بھا ئی ہو ں توماں کا چھٹا حصہ ہوگا، (یہ سب احکام) اس وصیت (کو پورا کرنے) کے بعد (ہوں گے) جو وہ (فوت ہونے والا) کرگیا اور قرض (کی ادائیگی ) کے بعد (ہوں گے۔) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ ان میں کون تمہیں زیادہ نفع دے گا، (یہ) اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصہ ہے۔ بیشک اللہ بڑے علم والا، حکمت والا ہے۔ اور تمہاری بیویاں جو (مال) چھوڑ جائیں اگر ان کی اولاد نہ ہو تواس میں سے تمہارے لئے آدھا حصہ ہے، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے ۔(یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو انہوں نے کی ہو اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے) اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو توتمہارے ترکہ میں سے عورتوں کے لئے چوتھائی حصہ ہے، پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے (یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو وصیت تم کر جاؤ اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے۔) اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ تقسیم کیا جانا ہو جس نے ماں باپ اور اولاد (میں سے ) کوئی نہ چھوڑا اور (صرف) ماں کی طرف سے اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہوگا پھر اگر وہ (ماں کی طرف والے) بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہوں گے (یہ دونوں صورتیں بھی) میت کی اس وصیت اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد ہوں گی جس (وصیت) میں اس نے (ورثاء کو) نقصان نہ پہنچایا ہو ۔یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے اور اللہ بڑے علم والا، بڑے حلم والا ہے۔


مقدمہ وراثت:

اللہ ربّ العزّت نے قرآن مجید فرقان حمید میں وراثت کے اصول تفصیلاً بیان فرما کر قیامت تک کے لیے مرنے والے اور اس کے رشتہ داروں کے لیے آسانیاں عطا فرما دیں۔

اللہ ربّ العالمین نے ان آیات میں صرف ایک سہولت دی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی جائیداد کے بارے میں وصیت کرتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے کسی رشتہ دار کے ساتھ وصیت میں ناانصافی یا حق تلفی نہیں کرتا تو ان احکامات میں کچھ حد تک تبدیلی ممکن ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی ایک فرد یا چند افراد کو نواز کر اپنے کسی رشتہ دار کی حق تلفی کرتا ہے تو اس کی وصیت کی کوئی اہمیت نہیں پھر وراثت کی تقسیم من و عن قرآن کریم کے احکامات کی روشنی میں کی جائے گی۔


بہرحال یہ ایک طویل بحث ہے جس میں ہم اپنے موضوع کی قربانی سے گریز کرتے ہوئے اصل مقصد کی جانب آتے ہیں۔ زیر موضوع بحث میں ہم یہ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ اللہ ربّ العزّت کے احکامات اور قانون وراثت سے اہل بیت علیہم السّلام کیوں مستفید نہیں ہو سکے۔


اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی اظہارِ نبوت سے پہلے کی چالیس سالہ زندگی لے لیں یا پھر نبوت کے اظہار کے بعد والی زندگی تاریخ گواہ ہے کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کا ہر عمل حکم الٰہی اور نگرانی میں سرانجام پایا ہے اور اس بات سے کسی مسلمان و مومن کو انکار نہیں کہ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل حیات ہمارے لیے بہترین نمونہ اور راہ ہدایت ہے۔


نبوت کے اظہار کے بعد بھی اللہ ربّ العالمین نے قرآن حکیم کو یک بارگی نہیں نازل کیا بلکہ جہاں بھی کسی قسم کا کوئی مسئلہ زیر بحث آیا یا کسی سائل نے معاشرتی، معاشی یا سیاسی اور کسی قسم کا بھی کوئی سوال کیا اللہ ربّ العزّت نے اس کے لیے حکم یا نصیحت کے لیے احکامات کا نزول فرما دیا۔ زندگی کے ہر شعبے کے ساتھ ساتھ وراثت کے اصول بھی اللہ ربّ العزّت نے قرآن مجید فرقان حمید میں خوبصورتی سے بیان کر دیے اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت و رہنمائی کا تعین کر دیا۔


اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ وحی کی صورت میں اللہ ربّ العزّت کے ہر حکم کے مخاطب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ وراثت کے اصول و قوانین کے احکامات بھی ہمیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں لیکن اللہ ربّ العزّت نے کسی آیہ کریمہ میں وراثت کے ان قوانین سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو الگ نہیں کیا بلکہ تمام احکاماتِ الٰہی کی طرح وراثت کے اصول بھی سب سے پہلے بیان کرنے والے پر لاگو ہوئے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کا کوئی اتنا اہم اور ضروری حکم ہو اور وہ اللہ کے نبی پر لاگو نہ ہو۔ اور اللہ کیسے اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو اپنے کسی حکم سے محروم رکھ کر انہیں مشعل راہ بناتا جبکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کو اللہ ربّ العالمین نے زندگی کے ہر شعبہ میں ایک نمونہ اور مثال بنا کر پیش کیا۔ اگر اللہ ربّ العزّت کو نبی علیہ السّلام کو وراثت سے الگ کرنا ہوتا تو واضح حکم ہوتا کہ اے ایمان والو وراثت کے یہ اصول صرف امت پر لاگو ہونگے چونکہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی اس لیے انہیں اس سے علیحدہ رکھا جا رہا ہے۔


وراثت کے اصول و قوانین پر تحقیق کے دواران ہمیں ایک بات عجیب سی محسوس ہوئی کہ اہل بیت علیہم السّلام کو قرآن حکیم کے اس بنیادی اور اہم حکم اور وراثت کے حقوق سے محروم رکھا گیا۔ عجیب و غریب بات ہے کہ اگر ایک شخص وفات پا جائے تو اس کی اولاد کو اس کے ترکہ میں سے کچھ حصہ نہ دیا جائے بلکہ انہیں باپ کی وفات کے بعد حکم دیا جائے کہ چلو بھائی آپ کے والد وفات پا گئے ہیں اب آپ کا یہاں کوئی کام نہیں یہ گھر خالی کرو اور باہر کھلے آسمان تلے چلے جاؤ اپنے رہنے کے لیے کوئی اور چھت اور کھیتی کے لیے کوئی اور کھیت تلاش کرو۔


یہاں ایک سوال ذہن نشین رہے کہ وراثت کے قرآنی اصول و قوانین میں یہ ہرگز درج نہیں ہے کہ کوئی بیٹی یا بیٹا اگر شادی شدہ ہے اور الگ گھر میں رہتا ہے تو اسے وراثت میں حصہ نہیں ملے گا۔ 


وراثت اور فاطمہ و اہل بیت علیہم السلام 

یہاں ہم اپنے اصل متن کی طرف بڑھنے سے پہلے جنابِ فاطمہ سلام اللہ علیھا  اور حضرت عباس علیہ السلام کے وراثت کے مطالبے کا متن زیرِ نظر لائیں گے تاکہ واقعہ کی نزاکت و اہمیت کو بہتر ظور پر زیر بحث لایا جا سکے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ: مَنْ يَرِثُكَ؟ فَقَالَ: أَهْلِي وَوَلَدِي، فَقَالَتْ: مَا لِي لَا أَرِثُ أَبِي؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا نُورَثُ» ، وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں اور فرمانے لگیں: آپ کا وارث کون بنے گا؟ انہوں نے فرمایا: میرے اہل اور اولاد۔ فرمانے لگیں: تو پھر میں اپنے باپ کی وارث کیوں نہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ” ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔“ لیکن میں ان کی کفالت کروں گا جن کی کفالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے اور میں اس پر خرچ کروں گا جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خرچ کیا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 401]

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنده حسن» ‏‏‏‏ :

«(سنن ترمذي: 1608، وقال: حسن غريب)، مسند احمد (13/1)»


اس حدیث میں جو متن بیان کیا گیا ہے وہ انتہائی دکھ دہ ہے کہ ابو بکر رضی اللہ اپنی وراثت کی تو تقسیم کے حق میں ہیں لیکن اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وراثت سے ہی انکار کر رہے ہیں۔  پھر یہ بھی کہا کہ میں کفالت کروں گا یعنی بحیثیت حکمران اور رعایا میں کفالت تو کرونگا لیکن وراثت تقسیم نہیں کر سکتا۔


یہی حدیث دوسری روایت سے اس طرح بیان کی گئی ہے۔


حدثنا عبد الله بن محمد حدثنا هشام أخبرنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة أن فاطمة والعباس عليهما السلام أتيا أبا بکر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلی الله عليه وسلم وهما حينئذ يطلبان أرضيهما من فدک وسهمهما من خيبر فقال لهما أبو بکر سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول لا نورث ما ترکنا صدقة إنما يأکل آل محمد من هذا المال قال أبو بکر والله لا أدع أمرا رأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته قال فهجرته فاطمة فلم تکلمه حتی ماتت ۔(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1645 ،- فرائض کی تعلیم کا بیان)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رسول اللہ کے (ترکہ میں سے) اپنے میراث مانگنے آئے اور وہ دونوں اس وقت فدک کی زمین اور خیبر کی زمین سے اپنا حصہ وصول کر رہے تھے تو ان دونوں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے صرف اس مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھائیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا خدا کی قسم میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کو نہیں چھوڑتا ہوں چنانچہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور ان سے گفتگو چھوڑ دی یہاں تک کہ وفات پاگئیں۔

 اس روایت میں جو بیان وارد ہوا ہے اس کے مطابق ابو بکر رضی اللہ اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اہل بیت علیہم السّلام اس مال میں سے کھائیں گے لیکن چونکہ انبیاء کے ورثاء نہیں ہوتے اس لیے جائیداد تقسیم نہیں ہوگی۔


صحت حدیث لا نورث ما ترکنا صدقة

ان روایات میں ابو بکر صدیق رضی اللہ نے جو کلمات ادا کیے وہ صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وراثت سے مراد نہیں تھے بلکہ یہاں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ انبیاء کے وارث نہیں ہوتے یا جو وراثت ہوتی ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔ (گزشتہ حدیث لا نورث ما ترکنا صدقة)


ان روایات کو پڑھنے کے بعد اگر اس روایت کی صحت کو دیکھیں تو یہ وہ واحد حدیث یا قول نبی ہے جو ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی صحابی کو معلوم نہیں تھا۔ حالانکہ اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے واضح فرمایا تھا کہ میں علم کا شہر اور علی علیہ السّلام اس کا دروازہ ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم جنہوں نے مولا علی علیہ السّلام کو زندگی کے کسی بھی شعبہ کی تعلیم سے محروم نہیں رکھا لیکن اتنے اہم مسئلے کو بیان نہیں کیا۔


مولا علی علیہ السّلام کے بعد حضرت حذیفہ رضی اللہ کو رازداران رسول کا خطاب ملا لیکن عجیب اتفاق ہے کہ یہ حدیث انہوں نے بھی بیان نہیں کی۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللّٰہ خود فرماتی ہیں کہ ازواجِ مطہرات کا ارادہ تھا کہ وہ وراثت کا مطالبہ کریں لیکن فاطمہ سلام اللہ علیہا نے پہل کی اور ان کے ساتھ ہوئے سلوک کی وجہ سے انہوں نے ارادہ ترک کر دیا اس کا مطلب ہے ازواجِ مطہرات کو بھی یہ حدیث معلوم نہیں تھی۔


اس روایت کی صحت انتہائی کمزور ہو جاتی ہے جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللّٰہ نے کہا کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے انہوں نے سنا کہ (لا نورث ما ترکنا صدقة) انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا اور وہ جو مال چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔


جب ہم نے تاریخ اسلام سے پہلے کی تواریخ پر نظر دوڑائی تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ روایت پرانی تواریخ سے بھی ٹکرا رہی ہے جس کی وجہ سے اس کی صداقت پر شکوک میں مزید اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ گزشتہ انبیاء کرام علیہم السّلام کے ورثاء بھی تھے اور انہوں نے اس وقت کے قوانین یا اپنی وصیت کے مطابق اپنی اولاد کو وراثت بھی تقسیم کی ہے۔


وراثت اور ورثاء سابقہ ادیان میں

ملاحظہ ہوں تورات کے مختلف مضامین اور اسباق ۔

Job 42

New International Version Job:  13 And he also had seven sons and three daughters. 14 The first daughter he named Jemimah, the second Keziah, and the third Keren-Happuch. 15 Nowhere in all the land were there found women as beautiful as Job’s daughters, and their father granted them an inheritance along with their brothers.

ایّوب 42: 13

اُسکے سات بیٹے اور تین بیٹیاں بھی ہُوئیں ۔

ایّوب 42: 14

اور اُس نے پہلی کا نام یمیمہ ؔ اور دوسری کانام قصیاہؔ اور تیسری کانام قرہُپّوکؔ رکھا ۔

ایّوب 42: 15

اور اُس ساری سرزمین میں اَیسی عورتیں کہیں نہ تھیں جو ایوبؔ کی بیٹیوں کی طرح خوبصورت ہوں اور اُنکے باپ نے اُنکو اُنکے بھائیوں کے درمیان میراث دی۔

Manasseh and Ephraim

 3 Jacob, said to Joseph, “God Almighty appeared to me at Luz in the land of Canaan, and there he blessed me 4 and said to me, ‘I am going to make you fruitful and increase your numbers. I will make you a community of peoples, and I will give this land as an everlasting possession to your descendants after you.’

5 “Now then, your two sons born to you in Egypt before I came to you here will be reckoned as mine; Ephraim and Manasseh will be mine, just as Reuben and Simeon are mine. 6 Any children born to you after them will be yours; in the territory they inherit they will be reckoned under the names of their brothers. 7 As I was returning from Paddan, to my sorrow Rachel died in the land of Canaan while we were still on the way, a little distance from Ephrath. So I buried her there beside the road to Ephrath” (that is, Bethlehem).

21 Then Israel said to Joseph, “I am about to die, but God will be with you and take you back to the land of your fathers. 22 And to you, I give you one more ridge of land than to your brothers, the ridge I took from the Amorites with my sword and bow.” 

The Death of Jacob

29 Then he gave them these instructions: “I am about to be gathered to my people. Bury me with my fathers in the cave in the field of Ephron the Hittite, 30 the cave in the field of Machpelah, near Mamre in Canaan, which Abraham bought along with the field as a burial place from Ephron the Hittite. 31 There Abraham and his wife Sarah were buried, Isaac and his wife Rebekah were buried, and I buried Leah. 32 The field and the cave were bought from the Hittites.”

**ترجمہ اردو:**


**منسّی اور افرائیم**

48 کچھ وقت بعد یوسف کو اطلاع ملی کہ "تمہارے والد بیمار ہیں"۔ اس پر وہ اپنے دونوں بیٹوں منسّی اور افرائیم کو ساتھ لے کر وہاں گئے۔ 2 جب یعقوب کو بتایا گیا کہ "تمہارا بیٹا یوسف تم سے ملنے آیا ہے"، تو اسرائیل نے اپنی طاقت جمع کی اور بستر پر بیٹھ گئے۔


3 یعقوب نے یوسف سے کہا، "قادرِ مطلق خدا نے مجھے کنعان کے علاقے میں لوز کے مقام پر ظاہر ہو کر مجھے برکت دی 4 اور فرمایا، 'میں تمہیں بڑھاؤں گا اور تمہاری تعداد میں اضافہ کروں گا۔ میں تمہیں قوموں کی جماعت بناؤں گا اور یہ زمین تمہاری نسل کے لیے ہمیشہ کے لیے وراثت میں دوں گا۔'


5 "اب تمہارے وہ دو بیٹے جو مصر میں تمہارے یہاں میرے آنے سے پہلے پیدا ہوئے، وہ میرے کہلائیں گے؛ افرائیم اور منسّی میرے ہوں گے، جیسے روبن اور شمعون میرے ہیں۔ 6 تمہارے بعد کے بیٹے تمہارے کہلائیں گے اور انہیں اپنی جگہ اپنے بھائیوں کے نام سے وراثت ملے گی۔ 7 جب میں پدّان سے واپس آ رہا تھا تو راحیل میرے غم میں کنعان کی سرزمین میں انتقال کر گئیں جبکہ ہم افرا کے قریب تھے۔ میں نے انہیں وہاں راستے میں دفن کیا" (جو کہ بیت لحم ہے)۔


21 تب اسرائیل نے یوسف سے کہا، "میری موت قریب ہے، لیکن خدا تمہارے ساتھ رہے گا اور تمہیں تمہارے آبا کی سرزمین پر واپس لے جائے گا۔ 22 اور میں تمہیں تمہارے بھائیوں سے ایک اضافی حصہ دیتا ہوں، وہ حصہ جو میں نے اپنے تلوار اور تیر سے اموریوں سے لیا تھا۔"



**یعقوب کی وفات**

29 تب یعقوب نے انہیں یہ ہدایت دی: "میں اپنے لوگوں کے ساتھ ملنے جا رہا ہوں۔ مجھے اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ دفن کرنا، اس غار میں جو افرون حِتی کے میدان میں ہے، 30 مَمری کے نزدیک مَکپیلہ کے میدان میں وہ غار جسے افرون حِتی سے دفن کی جگہ کے لیے ابراہیم نے خریدا تھا۔ 31 وہاں ابراہیم اور اس کی بیوی سارہ کو دفن کیا گیا، وہاں اسحاق اور اس کی بیوی ربقہ کو دفن کیا گیا، اور میں نے وہاں لیاہ کو دفن کیا۔ 32 میدان اور اس کی غار حِتیوں سے خریدی گئی۔"


Genesis 15:2-3 (NIV):

But Abram said, ‘Sovereign Lord, what can you give me since I remain childless and the one who will inherit my estate is Eliezer of Damascus?’ And Abram said, ‘You have given me no children; so a servant in my household will be my heir.

God’s Promise:

 God then reassures Abraham that his heir will not be Eliezer but rather his biological son. This promise is fundamental as it establishes Isaac as the true heir of Abraham's covenant and inheritance.

Genesis 15:4 (NIV):

 “Then the word of the Lord came to him: ‘This man will not be your heir, but a son who is your flesh and blood will be your heir

Genesis 25:5-6 NIV

"Abraham left everything he owned to Isaac. But while he was still living, he gave gifts to the sons of his concubines and sent them away from his son Isaac to the land of the east."

This distribution reflects Abraham’s following of God’s covenant, which designated Isaac as the son through whom the primary promises and blessings would continue, as seen in earlier chapters (e.g., Genesis 17:19-21).


**پیدائش 15:2-3 (NIV)**:

"لیکن ابرام نے کہا، 'اے خداوند، تو مجھے کیا دے گا، جب کہ میں بے اولاد ہوں اور جو میری جاگیر کا وارث ہوگا، وہ دمشق کا الیعزر ہے؟' اور ابراہیم نے کہا، 'تو نے مجھے کوئی اولاد نہیں دی؛ اس لیے میرے گھر کا ایک غلام میرا وارث ہوگا۔'"


**خدا کا وعدہ**: پھر خدا نے ابراہیم کو یقین دلایا کہ اس کا وارث الیعزر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا اپنا بیٹا ہوگا۔ یہ وعدہ اس لحاظ سے بنیادی ہے کہ یہ اسحاق کو ابراہیم کے عہد اور وراثت کا حقیقی وارث قرار دیتا ہے۔


**پیدائش 15:4 (NIV)**:

"تب خداوند کا کلام اس کے پاس آیا: 'یہ شخص تیرا وارث نہیں ہوگا، بلکہ ایک بیٹا جو تیرا اپنا flesh اور خون ہوگا، تیرا وارث ہوگا۔'"


اسکے علاوہ حضرت داؤد علیہ السّلام نے حضرت سلیمان علیہ السّلام کو خلعت و حکومت وراثت میں عطا کی تھی اس پر اہل سنت یہ اعتراض کرتے ہیں داؤد علیہ السّلام کی کثیر التعداد اولاد تھی جن میں سے صرف حضرت سلیمان علیہ السّلام کو ہی کیوں وراثت ملی اس لیے اس واقعے کو ہم نے حوالے کے بنا صرف زبانی بیان کیا ہے۔


حاصلِ بحث حق وراثت 

تورات کے ان مضامین سے ہم اس ںتیجے پر پہنچے ہیں کہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کے مطالبہ وراثت کے موقع پر جو روایت بیان کی گئی ہے وہ مشکوک ہے جس کا نہ تو قرآن و حدیث اور نہ ہی سابقہ انبیاء کرام علیہم السّلام کے طرز عمل سے کوئی ثبوت ملتا ہے۔ جبکہ ہمیں تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ عمر بن عبدالعزیزجو کہ بنو امیہ کے دور حکومت کے اواخر میں مسند مملکت پر بیٹھے تو انہوں نے اہل بیت علیہم السّلام کو بلا کر جاگیر فدک اور خیبر کی زمینیں ان کی تصرف میں دینے کا فیصلہ کیا جو کہ ایک اموی حکمران سے ایسا عمل سرذد ہونے پر ایک دلیل ہے کہ ان سے پہلے حکمرانوں نے اہل بیت علیہم السّلام کو وراثت سے جان بوجھ کر محروم رکھا ۔


اس روایت کا رد ایک حدیثِ مبارکہ سے بھی ہوتا ہے جس میں اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر مآل فے کا ذکر کیا ہے جو کہ اللہ ربّ العالمین نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے لیے مختص کر دیا تھا۔


حضرت عثمان رضی اللہ نے اس مال فے یعنی خیبر کی کچھ زمینوں کو اور فدک کی زمین کو مروان بن حکم کی دسترس میں دے دیا تھا جسے مروان بن حکم نے اپنی عیاشیوں پر خرچ کو اپنا حق سمجھ لیا تھا۔


 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏أخبرنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ ؟،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِذَنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَلْقَاكَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَلْحَقَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي . (سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4759)


  حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے بعد تمہارا کیا حال ہو گا جبکہ امام ( خلیفہ ) اس مال فے اور غنیمت کو ذاتی مال سمجھیں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ‘ تب تو میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور اس سے ماروں گا حتیٰ کہ آپ سے آ ملوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتا دوں ؟ صبر کرنا حتیٰ کہ مجھ سے آ ملو۔


یہی وہ صبر کی تلقین ہے جو کہ مولا علی علیہ السّلام کو بھی یقیناً کی گئی تھی یہی وجہ ہے کہ آج جہلاء یہ سوال کرتے ہیں کہ مولا علی علیہ السّلام نے حق وراثت کے لیے تلوار کیوں نہ اٹھائی یا اپنے دور خلافت میں وراثت کیوں نہ لی۔ جبکہ مولا علی علیہ السّلام کو یہ معلوم تھا کہ روز قیامت وہ جنت کے سرداروں سے بھی افضل ہونگے تو دنیاوی خلعت و حکومت دنیا والوں کے لیے ہی رینے دی جائے۔


یہاں ہم حدیثِ قرطاس کا ذکر بھی ضروری سمجھتے ہیں جسے اہل سنت اور اہل تشیع دونوں نے ذور و شور سے بیان کیا ہے لیکن اس حدیث کے بیان میں ایک اہم نقطہء دونوں مکاتب فکر نے نظر انداز کر دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنی آخری بیماری کے دوران کاغذ اور قلم کیوں مانگا؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کیا وصیت لکھنا چاہتے تھے؟ یہ وہ سوالات تھے جن پر سیر حاصل بحث ہو چکی ہے اور ہر مکتبہ فکر نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے لیکن ہم اس بحث میں ایک اہم نقطے کو زیر بحث لائیں گے۔


حدیثِ قرطاس اور اس کا مفہوم:

سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

لَمَّا حُضِرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَفِی البَیْتِ رِجَالٌ فِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، قَالَ: ہَلُمَّ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَلَبَہُ الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمُ القُرْآنُ فَحَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ، وَاخْتَلَفَ أَہْلُ البَیْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ: قَرِّبُوا یَکْتُبْ لَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَکْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلاَفَ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُومُوا عَنِّی .

''نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت ہوا تو اس وقت گھرمیں کچھ صحابہ موجودتھے ، ایک عمر بن خطاب بھی تھے ، آپ نے فرمایا: قلم کاغذ لائیں ،میں تحریر کر دوں ، جس کے بعد آپ ہر گز نہ بھولوگے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں ہیں اور قرآن موجود ہے ، لہٰذا ہمیں قرآن و حدیث ہی کافی ہے ۔ گھر میں موجود صحابہ نے اس میں اختلاف کیا اور بحث مباحثہ ہونے لگا ، کچھ کہہ رہے تھے کہ (قلم کاغذ)دیں ، آپ تحریر فرما دیں ،جس کے بعد آپ ہر گز نہیں بھولیں گے ،کچھ کہہ رہے تھے،رہنے دیجئے آپ تکلیف میں ہیں۔اختلاف شدت اختیار کر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے پاس سے اُٹھ جائیں۔ ''

(صحیح البخاری :7366، صحیح مسلم :1637)

2 ایک روایت ہے :

ائْتُونِی بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاۃِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاۃِ - أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ أَبَدًا ، فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَہْجُرُ .

'' ہڈی اوردوات یا تختی اوردوات لائیں ،میں تحریر کر دیتا ہوں تاکہ اس کے بعد آپ نہ بھولیں ،صحابہ نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض موت میں تکلیف کی شدت سے تو ہر گز نہیں کہہ رہے۔''

(صحیح البخاری :4431، صحیح مسلم :1637)

3 سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جمعرات کا دن کتنا پریشان کن تھا،آپ روتے ہوئے فرما رہے تھے:

اشتد برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وجعہ، فقال: ائتونی أکتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ أبدا، فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازع، فقالوا: ما شأنہ، أہجر استفہموہ؟ فذہبوا یردون علیہ، فقال: دعونی، فالذی أنا فیہ خیر مما تدعونی إلیہ .

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرمرض موت کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تھی،آپ نے فرمایا:میرے پاس کچھ لاؤ میں تحریر کر دیتا ہوں ،جس کے بعد کبھی نہیں بھولو گے،صحابہ نے آپس میں اختلاف کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں باہمی اختلاف مناسب نہیں تھا،صحابہ کہنے لگے ؛آپ کو کیا معاملہ درپیش ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات شدت تکلیف کی بنا پر تو ہر گز نہیں ہے،اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے،صحابہ آپ کو باربار لکھنے کا کہہ رہے تھے،تو فرمایا؛''مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں ،آپ جو مجھے لکھنے کا کہہ رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ نہ لکھنا ہی بہتر ہے۔''

(صحیح البخاري : 4431، صحیح مسلم : 1637)


سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

إِنَّ الرَّزِیَّۃَ کُلَّ الرَّزِیَّۃِ مَا حَالَ بَیْنَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَیْنَ أَنْ یَکْتُبَ لَہُمْ ذٰلِکَ الکِتَابَ مِنَ اخْتِلاَفِہِمْ وَلَغَطِہِمْ .

''بہت بڑی مصیبت تب واقع ہوئی جب صحابہ میں اختلاف اور شورہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔''(صحیح البخاری :7366، صحیح مسلم :1637)


حدیثِ قرطاس کی مختلف روایات اور اس کی تشریحات سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہے وہ ہر گز اپنے بعد فقط خلافت کا نظر نہیں آتا اور اگر کچھ اہتمال ہو بھی تو یہ اس قدر اختلافی مسئلہ نہیں تھا جس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو وصیت کی ضرورت پیش آتی کیونکہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی میں بہت بار مولا علی علیہ السّلام کو اپنا جانشین، وصی، مثل ہارون یعنی معاون اور تمام مسلمانوں کا مولا قرار دے چکے تھے اور اہل سنت کے مطابق آخری ایام میں ابو بکر رضی اللہ کو مصلے پر بٹھا کر خلافت کا اعلان کر دیا تھا۔


حدیثِ قرطاس کے مطالعے میں ہم با آسانی اس کے مفہوم تک پہنچ جاتے ہیں کہ اس میں لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ کا فقرہ ہر حدیث میں اپنے معنی کے ساتھ موجود ہے اور کسی حدیث میں بھی ان الفاظ کو بدلنے یا نظر انداز کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ یعنی تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جاو کو اردو میں ترجمہ کے دوران تم میرے بعد بھول نہ جاؤ بھی لکھا گیا ہے جو کہ عربی ترجمہ کے لحاظ سے درست نہیں لیکن قریب ترین ہونے کی وجہ سے قابل قبول ہے۔ اگر ہم "بھول نہ جاؤ" اور گمراہ نہ ہو جاؤ" دونوں پر ہی بحث کریں تو ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کون سا کام بھول جانے والا تھا یا کس کام سے گمراہی کا خدشہ تھا جس کی وصیت کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر لکھنا چاہتے تھے۔

خلافت کا معاملہ ایسا نہیں تھا جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات

کے فوراً بعد ہی بھول جانے کا اہتمال ہو۔ البتہ عربی لغت کے اعتبار سے گمراہ ہونے

والا عنصر اس میں شامل تھا۔ لیکن اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس

بات کا خدشہ ہوتا تو وہ ہر صورت خلیفہ مقرر کر دیتے اس کے لیے وصیت لکھنا

ضروری نہیں تھا۔

مزید ایسا کام جو بھول جانے والا یا جس کے نہ کرنے سے گمراہی کا امکان ہو
نماز، روزہ، زکوٰۃ ،حج ہو سکتا تھا لیکن قریب ترین خطبہ حجتہ الوداع میں نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے تمام ارکان اسلام اور قوانین و
ضوابط کو اس خوبی سے بیان کیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ جو موجود
ہیں وہ غیر موجود تک یہ پیغام پہنچا دیں۔ اس لیے یہ وصیت یقیناً ان احکامات
کے لیے بھی نہیں ہو سکتی تھی۔
اس کے علاوہ بھول جانے یا گمراہ ہونے والے کاموں میں اطیع اللّہ واطیع الرسول
سے رو گردانی تھا جس کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی مکمل
حیات طیبہ اور قرآن مجید فرقان حمید کی صورت میں راہ ہدایت موجود تھی
جس کی بنا پر عمر رضی اللہ نے کہا تھا کہ ہمارے لیے قرآن و حدیث کافی ہے اس
کا مطلب یہ وصیت یقینی طور پر اس کے لیے بھی نہیں تھی۔
نتیجتاً دین کا کوئی بھی ایسا معاملہ اس وصیت میں نظر نہیں آتا جس کے لیے
وصیت کی ضرورت پیش آتی اور پھر ایسا معاملہ ہوتا تو یہ ممکن ہی نہیں تھا
کہ اصحابِ رسول کے شورو غل اور اونچا بولنے کی وجہ سے نبی کریم صلی
اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم وصیت کا ارادہ ہی ترک کر دیتے۔ کیونکہ نبی کریم صلی
اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو کوئی خوف نہیں تھا اور نہ ہی وہ کوئی بھی ایسی بات
جس سے ان کی امت کی گمراہی یا جہنم میں جانے کا اہتمال ہوتا ترک کر سکتے
تھے۔ جو نبی کفار کی تلواروں اور تیروں کی برسات میں حق بات کہنے سے نہیں
چوکے وہ صحابہ کے اختلافی شور کی وجہ سے ایک ایسی نصیحت جو دین کا
حصہ ہوتی اور امت کو گمراہی سے بچا سکتی تھی سے کیسے پیچھے ہٹ سکتے
تھے۔ جبکہ خطبہ حجتہ الوداع میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے یہ لبیک کہلوا چکے تھے کہ
میں نے تم تک دین کی ہر بات پہنچا دی اور اللہ ربّ العزّت نے بھی الیوم اکملت لکم
دینکم والی آیہ کریمہ میں اس بات کا اقرار کر دیا تھا کہ اب دین مکمل ہو چکا ہے۔

حدیثِ قرطاس میں یقیناً نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اپنے اہل بیت علیہم
السّلام کے لیے وصیت کرنا چاہتے تھے کیونکہ یہی ایک ایسا معاملہ تھا جو دنیاوی
تھا اور جس کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے چھپے لفظوں میں تو
خطبہ حجتہ الوداع میں بھی فرمایا تھا کہ میں تمہیں اپنے اہل بیت علیہم السلام کے معاملہ میں اللّٰہ
کا خوف دلاتا ہوں اور پھر مولا علی علیہ السّلام کو سب کا مولا بھی بنایا تاکہ لوگ
ان کی رحلت کے بعد مولا علی علیہ السّلام اور اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ
ویسا ہی رویہ رکھیں جو ان کی حیات میں رکھتے ہیں۔ لیکن حیاء کی وجہ سے
وہ اپنے اہل بیت علیہم السّلام کے لیے کسی دنیاوی منفعت سے مستفید ہونے کی
تلقین نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن انہیں اس بات کا ادارک تھا کہ ان کے بعد اہل بیت
علیہم السّلام کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نبی مکرم
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم صحابہ کے شورو غل کی وجہ سے بے زاری کا اظہار کرتے
ہوئے یہ ارادہ ترک کر دیا۔

اس بحث سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اہل بیت علیہم السّلام  کے معاملے میں نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے شکوک وشبہات صحیح تھے کیونکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وفات کے فوراً بعد ہی اہل بیت علیہم السّلام کو امت محمدیہ نے مشق ستم بنا لیا تھا یہاں تک کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی اولاد کو نہر فرات کے کنارے ذبح کر دیا گیا اور فاتحانہ اعلان کیا گیا کہ آج ہم نے احد کا بدلہ لے لیا۔ تاریخ اسلام اور تمام ادیان کی تواریخ میں اس طرح کے کسی مظلوم نبی علیہ السلام کی مثال نہیں ملتی جس طرح کا سلوک احمد بن عبداللہ علیہ السلام کی امت نے اپنے نبی اور ان کی اولاد کے ساتھ کیا۔


اس بیان کی تصدیق کے لیے حدیثِ قرطاس سے شروع کریں اور پھر تاریخی جنگیں جمل و صفین و نہروان اور پھر میدان کرب و بلا تک امت محمدیہ کا کرادر اتنا بدبودار اور نفرت انگیز نظر آتا ہے کہ غیر مسلم بھی ان کے ایسے کردار پر لعنت و ملامت کرتے نظر آتے ہیں۔ 


کچھ اہل ذوق نے وراثت انبیاء پر انبیاء کی وراثت علم ہے اور علماء انبیاء کے حقیقی وارث ہیں والی حدیث کا سہارا لیا ہے تو ان حضرات کے لیے یہی مثال کافی ہے کہ اگر نبی کے وارث عالم ہیں تو یہ وراثت فاطمہ سلام اللہ علیھا سے منتقل ہو کر مولا علی علیہ السّلام کی طرف منسوب ہو جاتی ہے کیونکہ مولا علی علیہ السّلام سے بڑا عالم کون تھا پھر وراثت میں ہی سہی انہیں مسند خلافت پر کیوں نہ بٹھایا گیا۔ جبکہ اس بات کی تاریخ  گواہ ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے بعد علم کے سب سے اونچے مقام پر تھے۔ جن سے خود ابو بکر اور عمر و عثمان رضوان اللہ بھی مسائل و معاملات میں مشاورت کرتے رہے۔ مولا علی علیہ السّلام کے علم و عرفان اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی تربیت و پرورش پر ہر مکتبہ فکر متفق ہے اس لیے اگر وراثت انبیاء کا معاملہ علم کی حد تک محدود ہوتا تو بلاشبہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وراثت کے اصل اور اول حقدار مولا علی علیہ السّلام ہی تھے۔


لیکن وراثت انبیاء جس طرح سابقہ ادیان میں ثابت ہوتا ہے کہ جائیداد ہی تھی دین محمدی میں بھی جاگیر فدک اور خیبر کی زمینیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی جائیداد میں شمار ہونگی کیونکہ جس طرح سابقہ انبیاء کو اللہ ربّ العالمین نے مختلف خلعتوں سے نوازا تھا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی نوازا اور ان پر حق تصرف بھی دیا۔ ورنہ یہ کسی طور ممکن نہیں تھا کہ نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ ربّ العزّت انہیں آیات میں بتا رہا ہے کہ اس زمین کی پیداوار میں مساکین، مسافر، مہاجرین اور انصار بھی حصہ دار ہیں لیکن ساتھ ہی ان سب کو یہ بھی تلقین کی کہ جو نبی دیں وہ لے لو اور زیادہ کی لالچ نہ کرو۔ مطلب یہ سب نبی کی وراثت ہے اس میں سے جو وہ صدقہ خیرات کرتے ہیں وہی تمہارا حق ہے باقی وہ جس پر چاہیں خرچ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اور یہی وہ جائیداد تھی جس کی وصیت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم حدیثِ قرطاس میں کرنے والے تھے امت کے لیے وصیت کہ اس زمین پر تصرف اہل بیت علیہم السّلام کا ہوگا اور اہل بیت کو وصیت کہ اس میں سے میرے طریقہ پر واجب الادا صدقہ و خیرات کن کن لوگوں کو دینا ہے۔


 فما علینا الاالبلاغ المبین ۔